اسماعیل ہنیہ کو ایران نے شہید کروایا ؟ توپوں کا رخ اسرائیل کی طرف کیوں نہیں ؟
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی ایرانی دارالحکومت تہران کے انتہائی حساس علاقے میں شہادت پر دنیا بھر کے مسلمان گہرے صدمے سے دوچار ہیں۔ اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کی عالمی سطح پر بھی مذمت کی جا رہی ہے لیکن اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد سوشل میڈیا پر ایران کے خلاف ٹرینڈ چل رہے ہیں پاکستان میں بھی سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹوں کی بھر مار ہے جن میں نہ صرف ایران کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں بلکہ یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت ایران کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ کچھ صارفین اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ بھی دے رہے ہیں اور اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا سانحہ کربلا کے ساتھ موازنہ کر رہے ہیں۔ ایسی فرقہ وارانہ پوسٹوں میں ایرانیوں کو کو فیوں سے تشبیہہ دی جا رہی ہے۔ گھر بلایا اور مروا دیا جیسا طنز تو ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔
کیا ایران پر لگائے جانے والے الزامات درست ہیں؟ کیا ایران واقعی اسماعیل ہنیہ کے قتل میں ملوث ہے ؟ ان سوالات کا جواب جاننے کے لیے تصویر کے دونوں رخ نہ دیکھنا بہت بڑی ناانصافی ہو گی۔ اسماعیل ہنیہ کے تحفظ میں ناکامی تو بلا شک وشبہ ایران کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس سسٹم کی ایک بڑی ناکامی ہے۔ یہ ایرانی دفاعی نظام پر ایک بڑا داغ ہے جس کا ازالہ آسان نہیں ہوگا لیکن ایسی ناکامی صرف ایران کے حصے میں نہیں آئی کئی دوسرے ممالک بھی اس آزمائش سے گزر چکے ہیں۔
روس کے خلاف افغان جہاد کے دوران عرب ممالک سے ہزاروں نوجوانوں نے پاکستان اور افغانستان کا رخ کیا۔یہ نوجوان خود جہاد کرنے آئے تھے یا انہیں بھی کسی نے دعوت دی تھی یہ حقیقت اب شائد ہی کسی سے ڈھکی چھپی ہو۔ ان مجاہدین کے ساتھ میزبانوں نے جوسلوک کیا وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ اسامہ بن لادن پاکستان میں ایک امریکی آپریشن کے دوران مارا گیا جبکہ ایمن الظواہری کی موت افغان طالبان کی موجودہ حکومت کے دور میں افغان سرزمین پر ہوئی۔
افغان طالبان کے دوسرے امیر ملااخترمنصور بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ۔ پاکستان سے جن عرب اور افغان نوجوانوں کو ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کیا گیا ان میں سے بعض اب بھی بدنام زمانہ امریکی جیل گوانتاناموبے میں اپنے پرانے میزبانوں کی میزبانی کی بھیانک تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ملا عبدالسلام ضعیف امارات اسلامی افغانستان کے پاکستان میں سفیر تھے لیکن ان کو بھی بیچ دیا گیا۔
حیرت ہے اس سب کچھ کے باوجود ہم بڑے معزز اور پارسا بنے پھرتے ہیں۔ نہ ہماری میزبانی پر تنقید ہوتی ہے نہ ہماری دینی اور ملی شناخت کو ملامت کیا جاتا ہے۔ ایران پر یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے وہ اسرائیل پر حملہ کیوں نہیں کرتا۔ لیکن یہ اعتراض پاکستان سعودی عرب ترکی قطر اور عرب امارات سمیت کسی دوسرے اسلامی ملک پر نہیں کیا جاتا۔ کیا ایران کے علاوہ باقی تمام ممالک اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کا اقدام نہ کرنے کی قسم کھا بیٹھے ہیں۔
یمن پر حملے کے لیے تو چالیس ممالک کی نام نہاد اسلامی فوج بھی تشکیل پا گئی تھی ۔ کیا پاکستان کے سابق سپہ سالار راحیل شریف کی قیادت میں اس نام نہاد فوج نے کبھی اسرائیل کی طرف رخ کر کے پیشاب بھی کیا ہے؟ کیا مسلمانوں کے ذمہ ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ سارے اعتراضات لے کر ایران اور ایک خاص طبقے کے سر تھونپنے ہیں۔ ایران آخر کیوں اپنے مہمان کو قتل کروا کر خود کو بدنام کروائے گا۔ کیا جنرل سلیمانی اور جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو بھی ایران نے خود مروایا ہے؟ خدا کے لیے ذرا انصاف سے کام لیجیئے۔ اگر اتنے تلخ حقائق اور سیاہ کارناموں کے باوجود کسی نے آپ کی قومیت اور عقائد پر حملہ نہیں کیا تو ایران کو بھی معاف کیجئے ۔ اپنی توانائی اور توپوں کا رخ ایران نہیں اسرائیل کی طرف کیجئے ۔
اسرائیل ایک عرصے سے قطر پر دباؤ ڈال رہا تھاکہ حماس کا سیاسی دفتر بند کیا جائے ۔اسرائیل یہ حملہ عرب سر زمین پر بھی کرسکتا تھا لیکن اسرائیل کو اندازہ تھا ایسا کرنے سے عرب ممالک کے ساتھ دوستی خراب ہو سکتی ہے اس لیے حملے کے لیے ایرانی سرزمین کا انتخاب کیا گیا تاکہ ایک تیر سے دو شکار کیے جائیں ۔ اسماعیل ہنیہ شہید ہو گئے اور دشمن کی پلاننگ کے عین مطابق سب کا نہیں توپھر بھی اچھے خاصے مسلمانوں کی توپوں کا رخ اسرائیل کی بجائے ایران کی طرف ہو گیا۔
ہو سکتا ہے کربلا میں بھی یہی ہوا ہو ۔ جن کے مفادات تھے انہوں نے امام ؑ کو ویرانے میں شہید کر دیا اور ملامت کا رخ کوفہ کی طرف موڑ دیا۔ کوفہ والوں پر تو سب و شتم صدیوں سے ہو رہا ہے لیکن کسی کو یہ پوچھنے کی توفیق نہیں ہوئی اگر کوفہ والوں نے بے وفائی ہی کی ہے تو سانحہ کے وقت مدینہ مکہ اور شام سمیت دیگر علاقوں سے کوئی وفا کرنے کیوں ساتھ نہ آیا۔ اگر انہیں بروقت خبر نہ مل سکی تھی مواصلاتی سسٹم کمزور تھا تو بعد میں قاتلوں کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا۔ کتنے لوگوں نے احتجاج کیا؟ کتنے عہدیداروں نے استعفے دیئے ؟ تاریخ یہی بتاتی ہے خاندان نبوت کے خون سے ہاتھ رنگنے والوں سے انتقام لینے کے لیے بھی کوفہ اور بصرہ کے لوگ ہی اٹھے تھے اور 4000 لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ اس لیے تنقید ضرور کریں مگر حقائق کو مسخ نہ کریں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں