اسماعیل ہنیہ کوجس مقام پر شہید کیا گیا امریکی اخبار نے مبینہ مقام کی تصویر جاری کر دی
امریکی اخبار نے مبینہ طور پر تہران میں اس مقام کی تصویر جاری کرنے کا دعویٰ کر دیا جہاں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کیا گیا۔
یورپی مبصر برائے مشرق وسطیٰ ایلیا جے میگنیئر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسماعیل ہنیہ کو نشانہ بنانے کیلئے اسرائیل کا جاسوسی سافٹ ویئراستعمال کیا گیا۔ اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کے واٹس ایپ پیغام میں جدید ترین اسپائی ویئر لگائے، اسپائی سافٹ ویئر نے اسرائیلی انٹیلی جنس کو اسماعیل ہنیہ کی لوکیشن بتائی۔
ٰ ایلیا جے میگنیئر کے مطابق اسماعیل ہنیہ کو اپنے بیٹے کے ساتھ ہونے والی کال کے بعد شہید کیا گیا، کال کے دوران اسماعیل ہنیہ کے مقام کی نشاندہی کی گئی۔اب ایک امریکی اخبار نے مبینہ طور پر اس مقام کی تصویر جاری کی ہے جہاں حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو شہید کیا گیا تھا۔
امریکی اخبار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک ایرانی عہدیدار نے یہ تصویر ہم سےشیئر کی ہے تاہم ایرانی حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر اب تک اس طرح کی کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی کو ایران کے دارالحکومت تہران میں اس وقت میزائل حملے میں شہید کیا گیا جب وہ ایران کے نو منتخب صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے موجود تھے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں