سول ایوی ایشن میں541 ارب روپے کی  مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

سول ایویشن اتھارٹی میں 541 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں  اور ساتھ ہی یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھی سول ایوی ایشن کی تین سال کی آڈٹ رپورٹ زیر بحث ہی نہیں لائی گئی۔

سول ایوی ایشن میں 541 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف آڈیٹر جنرل  پاکستان کی رپورٹ میں ہوا ہے۔ اس سلسلے میں سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھی تین سال سے سول ایوی ایشن کی آڈٹ رپورٹ زیر بحث نہیں لائی گئی۔

آخری مرتبہ سال 2019۔20 کی آڈٹ رپورٹ کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں ڈسکس کیا گیا تھا۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن میں ایچ آر اور ملازمین سے متعلق امور میں 54 کروڑ 80 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

 پروکیورمنٹ سے متعلق معاملات میں گیارہ ارب 32 کروڑ روپے سے زائد رقم کی بے ضابطگی سامنے آئی ۔تعمیراتی کام اور مختلف معاہدوں میں 41اراب 31 کروڑ روپے سے زائدکمرشل بینکوں میں قائم اکاؤنٹس  کی مینجمنٹ میں 144 ارب روپے، ریونیو مینجمنٹ میں  283 ارب 70 کروڑ روپے اور سروسز فراہمی کے امور میں 25 کروڑروپے سے زائد  کی مالی بےضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی بھی سفارش  کی گئی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے