پارلیمان کی خصوصی کمیٹی نے آئینی مسودہ متفقہ طور پر منظور کر لیا
پارلیمان کی خصوصی کمیٹی نے آئینی مسودہ متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
خورشید شاہ کی زیرصدارت پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مسودے پر غور کیا گیا۔
بعد ازاں گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھاکہ مسودے کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق مجھے علم نہیں، سمندر پار پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی تجویز پر بھی اتفاق کرلیاگیا۔
ان کا کہنا تھاکہ خصوصی کمیٹی سے منظور شدہ مسودہ کابینہ میں پیش کیاجائےگا۔
خورشید شاہ سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا خیبرپختونخوا کا نام پختونخوا کرنے کی شق بھی شامل کی ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ دیگر تمام ترامیم اگلی قسط میں آئیں گی۔
پی پی رہنما کا کہنا تھاکہ بیرون ملک رہنے والوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جارہی ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کو تین ماہ میں اپنی دوسرے ملک کی شہریت چھوڑنا ہوگی۔
عوامی نیشنل پارٹی کی ترمیم مجوزہ آئینی ڈرافٹ سے ڈراپ کردی گئی، عوامی نیشنل پارٹی کی ترامیم مجوزہ مسودے میں شامل نہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے کا نام تبدیل کرنے کی شق شامل نہ کرنے پر اسپیشل کمیٹی اجلاس سے بائیکاٹ کیا ہے اور ایمل ولی خان شریک نہیں ہوئے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے کے نام سے خیبر نکال کر پختونخوا تجویز کیا تھا۔
بعدازاں کمیٹی نے ایک مشترکہ مسودہ تشکیل دیتے ہوئے اسے منظور کرلیا تاہم اس میں اتحادی جماعتوں کی جانب سے دی گئی تجاویز کو شامل نہیں کیا گیا۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے اس مسودے کی مخالفت کردی۔
کمیٹی نے طے کیا کہ مسودہ کل منظوری کے لیے کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا کابینہ سے منظوری کے بعد اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ایوانوں میں لایا جائے گا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں