دنیا کا منفرد ائیرپورٹ جہاں جہاز ایک شاہراہ سے گزرتے ہیں
ویسے تو آپ نے گاڑیوں کو ریلوے پھاٹک پر رکتے دیکھا ہوگا تاکہ ٹرین گزر سکے، مگر آپ کو کبھی اس طرح طیارے کے گزرنے کا انتظار کرنا پڑا؟
یقین کرنا مشکل ہوگا مگر کچھ عرصے پہلے تک برطانیہ کے زیر تحت خطے جبرالٹر میں لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا تھا۔
جی ہاں واقعی جبرالٹر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا رن وے اس جزیرے کی مصروف ترین شاہراہ ونسٹن چرچل ایونیو پر سے گزرتا ہے۔یہ شاہراہ جبرالٹر کو اسپین سے جوڑتی ہے اور یہاں ٹریفک کافی زیادہ ہوتا ہے۔جبرالٹر محض 2.6 اسکوائر میل رقبے پر پھیلا جزیرہ ہے اور اسی وجہ سے ائیرپورٹ کا رن وے اس شاہراہ سے گزرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب طیارے یہاں سے گزرتے تو ٹریفک کو بالکل ایسی طرح روک دیا جاتا جیسے آپ ٹرینوں کے لیے گاڑیوں کو رکتے دیکھتے ہیں۔دن بھر میں کم از کم 15 بار ٹریفک کو روکا جاتا تھا اور اس کے نتیجے میں جبرالٹر میں ٹریفک جام کا مسئلہ کافی عام ہوگیا تھا۔اس سڑک کو پیدل چلنے والے بھی استعمال کرتے ہیں اور ائیرپورٹ کی اپنی آفیشل سائٹ میں اس مقام کو سیاحوں کی توجہ کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق سیاح اکثر اس وقت حیران رہ جاتے ہیں جب وہ پیدل چلتے ہوئے اس سڑک سے گزرتے ہیں جہاں چند منٹ قبل ان کا طیارہ لینڈ ہوا تھا۔اس سڑک پر گزرنے والوں کے لیے سخت ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں تاکہ ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
ویب سائٹ کے مطابق یقیناً طیارے کے اترتے یا گزرتے ہوئے ٹریفک کو روکنا ایک بہترین سیلفی کا موقع فراہم کرتا ہے مگر ہم آپ کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ یہ علاقہ ایک متحرک رن وے کا ہے۔یہ ائیرپورٹ 1940 کی دہائی میں تعمیر ہوا تھا اور اس کے بعد سے وہاں کے شہریوں کو ٹریفک مسائل کا سامنا ہو رہا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ 2000 کی دہائی کے شروع میں اس سڑک پر ایک بائی پاس ٹنل کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دی گئی اور 2008 میں اس پر کام شروع ہوا۔قانونی رکاوٹوں اور مسائل کے باعث اس بائی پاس کی تعمیر برسوں تاخیر کا شکار رہی۔31 مارچ 2023 کو یہ بائی پاس ٹنل مکمل ہوگیا اور اس کے بعد سے ونسٹن چرچل ایونیو پر گاڑیوں کے گزرنے پر پابندی عائد ہے۔
اگرچہ شاہراہ اب بھی موجود ہے مگر وہ گاڑیوں کے لیے نہیں بلکہ صرف طیارے ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔
البتہ ایمرجنسی یا ایسی ہی مخصوص وجوہات پر وہاں سے پرائیویٹ ٹریفک کو گزرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
جہاں تک پیدل چلنے والے افراد کی بات ہے تو ان کے لیے بھی ایک ٹنل موجود ہے جسے سائیکل یا ای اسکوٹرز چلانے والے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
مگر گاڑیوں کے ٹنل کے برعکس پیدل چلنے والے اب بھی اس ونسٹن چرچل ایونیو کو استعمال کرسکتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ گزر سکتے ہیں، تو ان کے پاس اب بھی طیارے کو گزرنے پر سیلفی لینے کا موقع موجود ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں