پاکستان اور عالمی ادارہ صحت کے درمیان بچوں کے کینسر کی مفت ادویات کی فراہمی کا معاہدہ

پاکستان نے بچوں کے کینسر سے بچاؤ کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی پیشرفت کرتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے، جس کے تحت ہر سال 8 ہزار بچوں کو مفت کینسر ادویات فراہم کی جائیں گی۔ اس تاریخی معاہدے کی تقریب میں وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے نیشنل ہیضہ کنٹرول پلان 2025-2028 کا بھی باضابطہ افتتاح کیا۔

وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ تقریب بچوں کی زندگیاں بچانے کے عزم کی علامت ہے۔ پاکستان آج عالمی چائلڈ ہوڈ کینسر میڈیسن پلیٹ فارم کا حصہ بن چکا ہے، جس کے تحت بچوں میں کینسر سے بچاؤ کی شرح کو 30 فیصد سے بڑھا کر 60 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ معاہدہ بچوں کو کینسر جیسے موذی مرض سے بچانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ ہیلتھ کیئر کا اصل مقصد مریض کو بیمار ہونے سے بچانا ہے، صرف علاج کرنا نہیں۔ ہمارا خواب ایک صحت مند معاشرہ ہے، جس کی بنیاد ماں اور بچے کی صحت سے جڑی ہے۔ شرح پیدائش 3.6 ہونا ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، ہمیں اسے کم کرنے کی جانب توجہ دینا ہو گی۔ غذائی قلت کے شکار 43 فیصد بچے فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے صحت عامہ کے نظام کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسپتال تو بنا سکتے ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی بیماریوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اصل علاج روک تھام ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں، صاف پانی استعمال کریں، اور بچوں کو ویکسین ضرور دلائیں۔ آپ کے دروازے پر ورکرز ویکسین لے کر کھڑے ہوتے ہیں، والدین کو خود آگے بڑھنا ہوگا۔

وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ بچوں کو بارہ بیماریوں سے بچانے کے لیے ویکسین پلانا ضروری ہے۔ پولیو سے مستقل معذوری سے بچنے کے لیے قطرے پلانا والدین کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ صحت کے نظام کی بقا کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت نے عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، جی پی-اے سی سی ایم اور تمام شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کے لیے ایک بڑا دن ہے۔ ہم صرف وعدے نہیں، عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے نہ صرف طبی میدان میں پیشرفت ہے بلکہ ایک ایسے صحت مند مستقبل کی بنیاد بھی، جہاں ہر بچہ بیماری سے محفوظ ہو۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے