مریم نفیس کا بچوں کے تحفظ کے لیے مرد کیئرٹیکر رکھنے پر اعتراض، والدین کو اہم مشورے
اداکارہ مریم نفیس نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کو مرد آیا کے سپرد نہیں کرنا چاہیے۔
یوٹیوب پر جاری ایک ویڈیو میں مریم نفیس نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ بیٹے عیسیٰ کو ویکسین لگوانے ہسپتال لے گئیں، جہاں انہوں نے 2 کمسن بچیوں کو مرد آیا کے ساتھ دیکھا۔ یہ منظر دیکھ کر وہ اور ان کے شوہر بے حد غیر مطمئن اور مضطرب ہو گئے۔
اداکارہ نے سوال اٹھایا کہ آخر کوئی والدین کس طرح اپنے بچوں کے لیے مرد آیا پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ انہوں نے الجزیرہ کی 2023 کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر دوسرے گھنٹے ایک بچہ جنسی زیادتی کا شکار ہوتا ہے، جب کہ اصل تعداد رپورٹ نہ ہونے کے باعث کہیں زیادہ ہے۔
مریم نفیس نے کہا کہ وہ اور ان کے شوہر یہ سوچ کر پریشان ہوگئے کہ کس طرح والدین اپنی بچیوں کو مرد آیا کے حوالے کر دیتے ہیں۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کے لیے ہمیشہ خواتین آیا یا کیئر ٹیکر ہی رکھیں تاکہ ان کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے۔
اعداد و شمار کے مطابق، مئی 2024 میں جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ صرف ایک سال میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے ایک ہزار 828 واقعات رپورٹ ہوئے، جو ملک میں کل 3 ہزار 364 بچوں کے خلاف زیادتی کے کیسز کا تقریباً 54 فیصد بنتے ہیں۔ ان میں 53 فیصد متاثرین بچیاں اور 47 فیصد بچے تھے۔
ماہرین کے مطابق والدین کو اس بات پر کڑی نظر رکھنی چاہیے کہ ان کے بچوں سے کون میل جول رکھ رہا ہے، کیونکہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے اکثر وہی افراد نکلتے ہیں جو ان کے قریب ترین ہوتے ہیں، جیسے آیا، رشتے دار، اساتذہ، کھیلوں کے کوچ یا یہاں تک کہ بڑے بچے بھی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں