مس یونیورس میں حصہ لینے کے لیے فلسطین کی پہلی حسینہ میدان میں آگئی
خوبصورتی کے عالمی مقابلے مس یونیورس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فلسطین اپنی نمائندہ کے ساتھ سٹیج پر آئےگا۔ فلسطینی نژاد اور متحدہ عرب امارات میں مقیم حسینہ نادین ایوب رواں سال نومبر میں منعقد ہونے والے اس مقابلے میں شریک ہوں گی۔
نادین ایوب نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو اور پیغام میں اپنے انتخاب کی تصدیق کی اور کہاکہ وہ اس عالمی ایونٹ کو اپنے وطن کے مسائل دنیا کے سامنے رکھنے کا ذریعہ بنائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ وہ مقابلے میں فلسطینی ڈیزائنر ہبا عبدالکریم کا تیار کردہ روایتی لباس پہنیں گی، جس پر قومی رنگ اور نفیس کشیدہ کاری نمایاں ہے۔
تھائی لینڈ کے شہر پاک کریت میں نومبر کو ہونے والے 73ویں سالانہ مس یونیورس مقابلے میں شرکت کو نادین نے اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ جب ان کا ملک خاص طور پر غزہ شدید بحران سے گزر رہا ہے، وہ ایسے عوام کی آواز ہیں جو خاموشی اختیار کرنے پر تیار نہیں۔ وہ ہر اس فلسطینی عورت اور بچے کی نمائندہ ہیں جن کی ہمت اور عزم دنیا کو دکھایا جانا ضروری ہے۔
نادین ایوب نے کہاکہ ہم صرف اپنے زخم نہیں بلکہ اپنی امید، حوصلے اور اس دھڑکتے دل کے وارث ہیں جو ہمارے وطن کو زندہ رکھتا ہے۔ ’ان کی شرکت اس موقع پر ہو رہی ہے جب غزہ میں 22 ماہ سے جاری جنگ نے انسانی بحران کو بدترین شکل دے دی ہے۔‘
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے بھوک اور غذائی قلت کی سطح بلند ترین مقام پر پہنچ چکی ہے، اور کم از کم 100 ٹرک روزانہ خوراک غزہ میں داخل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غذائی قلت سے اب تک 239 افراد، جن میں 106 بچے شامل ہیں، جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں