عائشہ جہانزیب تشدد کیس میں نیاموڑ ،صلح کے باوجود شوہر کوگرفتاری کاخوف

ٹی وی اینکر عائشہ جہانزیب کی شوہرکے ساتھ صلح کے باوجودتشدد کیس میں نیا موڑ آگیا۔ پولیس نے میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر مقدمے میں قوت سماعت اور آنکھیں متاثر ہونے کی دفعات بھی شامل کردیں۔
لاہور کی سیشن عدالت میں اینکرپرسن عائشہ جہانزیب پر تشدد کیس کی سماعت کے دوران اس کیس کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ میڈیکل کی بنیاد پر مقدمہ میں قوت سماعت اور آنکھیں متاثر ہونے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

پولیس کی جانب سے مقدمے میں نئی دفعات شامل کئے جانے کے بعدعائشہ جہانزیب کے شوہرحارث علی نے گرفتاری سے بچنے کے لئے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کردی ہے۔ درخواست کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ارشدمحمودنے کی اور31اگست تک ملزم کی گرفتاری سے روک دیا۔
اس سے قبل ایک سماعت کے موقع پر ٹی وی اینکر عائشہ جہانزیب نے عدالت کو بتایا تھا کہ شوہر کے ساتھ راضی نامہ ہو گیا ہے اور وہ کیس کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتیں۔سماعت کے دوران سیشن جج نے عائشہ جہانزیب سے کہا تھا کہ چہرہ دیکھ کر لگ رہا ہے کہ بہت ظلم ہوا ہے، کیا وہ اپنی مرضی سے راضی نامہ کررہی ہیں ؟ عدالت کے سوال پرعائشہ جہانزیب نے کہا کہ جو بھی ہوا، بہت ظلم ہے کسی عورت کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے لیکن جو بھی فیصلہ معززین نے کیا ہے وہ اس کو مانتی ہیں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ گواہان کی موجودگی میں فیصلہ ہوا ہے اور وہ کیس کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتیں۔اینکرپرسن کا بیان سننے کے بعد عدالت نے کہا تھاکہ بریت کا فیصلہ چالان پر ہوگا۔

یاد رہے کہ عائشہ جہانزیب کی حارث علی سے 2015 میں شادی ہوئی تھی جن سے ان کے بچے بھی ہیں۔ عائشہ نے اپنے شوہر کے خلاف تھانہ سرور روڈ میں مقدمہ درج کرارکھا ہے،شوہر کے خلاف درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق عائشہ جہانزیب کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر سخت مزاج ہیں۔ رواں سال جنوری سے ان کے شوہر نے انہیں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، تاہم رشتہ نبھانے کی خاطر اس مسئلے کو نہیں اُٹھایا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے