چیئرمین سینیٹ سے جاپان کے سفیر کی ملاقات ، پارلیمانی وفود کے تبادلوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے پاکستان میں تعینات جاپان کے سفیر واڈا مٹسو ہیرو نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان جاپان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جاپان مستحکم معاشی ملک ہے اور پاکستان جاپان کے ساتھ مختلف شعبوں بشمول توانائی، صحت، صنعت و پیداوار میں تعاون کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے 2022 کے سیلاب کے دوران جاپان کی حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد پر شکریہ بھی ادا کیا۔ پاکستان اور جاپان کے درمیان پارلیمانی و سفارتی تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط تر ہو رہے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے یکم سے چار جولائی 2023 کو جاپان کا کامیاب دورہ کیا تھا جس میں ان کی جاپان کے وزیر خارجہ اور جاپان کے وزیراعظم سے ملاقاتیں ہوئیں تھیں۔ اعلیٰ سطح پر روابط مستحکم وفود کے تبادلوں میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا ۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور جاپان نے معاشی تعلقات کے فروغ کے لیے کئی دو طرفہ اداراجاتی میکینزم قائم کیے ہوئے ہیں ان میکینزمز کے تحت باقاعدگی سے روابط اور دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لینے میں اور نظر ثانی سے سرمایہ کاری، سیاحت اور پارلیمانی وفود کے تبادلوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔پاکستان اور جاپان کے مابین صرف 1.27 بلین ڈالر کی باہمی تجارت ہوتی ہے اور متعدد پاکستانی کمپنیاں جاپان کے ہم منصبوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر کام کرنا چاہتی ہیں۔

یوسف رضا گیلانی نےافغان مہاجرین کی واپسی کا معاملہ بھی اٹھایا ، پاکستان ہجرت کر کے انے والے افغان مہاجرین کے وطن واپسی ایک اہم مسئلہ ہے اور اس سلسلے میں جاپان بھی اپنا کردار ادا کرے تاکہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکے ۔ عوامی سطح پرروابط کے استحکام کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے جاپان کی سفیر کو بتایا کہ ایوان بالا میں پاکستان جاپان دوستی گروپ قائم ہو چکا ہے جو پارلیمانی روابط اور دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے