بحرین کا گولڈن ویزا کن پاکستانیوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے؟
بحرین نے غیر ملکیوں کے لیے ایک نئی ’گولڈن ریزیڈنسی ویزا‘ سکیم متعارف کرادی جو 10 سال کی طویل مدتی رہائش فراہم کرتی ہے۔
اس سکیم کا مقصد سرمایہ کاروں، باصلاحیت افراد، ریٹائرڈ شہریوں اور ان غیر ملکیوں کو فائدہ دینا ہے جو طویل عرصے سے بحرین میں مقیم ہیں۔ ویزا حاصل کرنے والوں کو بحرین میں بغیر کسی کفیل کے رہنے، کام کرنے، کاروبار کرنے اور اپنے اہل خانہ کو ساتھ رکھنے کی اجازت حاصل ہوگی۔
پاکستانی شہری بھی اس گولڈن ویزے کے لیے اہل قرار دیے گئے ہیں بشرطیکہ وہ اسکیم کی مقررہ شرائط پوری کریں۔ خاص طور پر وہ پاکستانی جو پہلے سے بحرین میں ملازمت کر رہے ہیں یا سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند ہیں اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
گولڈن ریزیڈنسی ویزے کے لیے حکومتِ بحرین نے 4 اقسام مقرر کی ہیں:
1۔ وہ غیر ملکی جو کم از کم 5 سال سے بحرین میں کام کر رہے ہوں اور ان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 2،000 بحرینی دینار ہو؛
2۔ وہ افراد جنہوں نے بحرین میں کم از کم 200،000 دینار کی جائیداد خرید رکھی ہو؛
3۔ وہ ریٹائرڈ افراد جن کی پنشن 2،000 دینار یا بیرونِ ملک سے آمدن 4،000 دینار ماہانہ ہو؛
4۔وہ باصلاحیت افراد جنہیں بحرین کی کسی سرکاری اتھارٹی نے غیر معمولی ٹیلنٹ کے طور پر تسلیم کیا ہو۔
ویزا حاصل کرنے کے بعد یہ لازمی ہے کہ سالانہ کم از کم 90 دن بحرین میں قیام کیا جائے۔ اور ویزہ ہولڈر اپنے اہلِ خانہ کو بھی اپنے ساتھ لا سکتا ہے۔
گولڈن ویزے کے لیے درخواست کا عمل مکمل طور پر آن لائن ہے۔ درخواست دہندہ کو متعلقہ مالی، پیشہ ورانہ یا سرمایہ کاری کے ثبوت کے ساتھ ابتدائی فیس جمع کروانی ہوگی اور اپنی اہلیت کے مطابق متعلقہ کٹیگری میں اپلائی کرنا ہوگا۔ منظوری کی صورت میں 10 سالہ رہائشی ویزا جاری کیا جاتا ہے، جسے بعد میں تجدید بھی کیا جا سکتا ہے۔
بحرین کی یہ سکیم نہ صرف وہاں کی معیشت کو فروغ دے گی بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک سے ہنر مند افراد کے لیے نئی راہیں کھولے گی۔ خاص طور پر پاکستانی پروفیشنلز، بزنس مین اور ریٹائرڈ افراد کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ قانونی اور محفوظ طریقے سے طویل مدتی رہائش حاصل کر سکتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں