وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی سعودی سفیر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال

وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر جناب نواف بن سعید احمد المالکی سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون، سرمایہ کاری، اور ریلوے سمیت دیگر شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور ان تعلقات کو تاریخی، مذہبی، اور اقتصادی بنیادوں پر مبنی قرار دیا۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا ایک کلیدی اتحادی ہے اور دونوں ممالک کو باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔
وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے سعودی عرب میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانی محنت کشوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم (ریمیٹنس) کو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مالی وسائل ملکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستانی زائرین کی جانب سے ہر سال حج و عمرہ کی ادائیگی کو دونوں ملکوں کے مابین مذہبی اور ثقافتی رشتوں کی مضبوطی کی علامت قرار دیا۔
محمد حنیف عباسی نے ریلوے کے شعبے میں سعودی سرمایہ کاری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری نہ صرف پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرے گی بلکہ خطے میں تجارت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں سعودی عرب کی دلچسپی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے عوامی فلاح و بہبود، تجارتی تعلقات، اور سرمایہ کاری کے میدان میں تعاون بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
ملاقات میں مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بھی گفتگو کی گئی۔
وزیر ریلوے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ صرف سفارتی نوعیت کا نہیں بلکہ بھائی چارے، اعتماد، اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہے جسے وقت کی ضرورت کے مطابق مزید مستحکم بنایا جانا چاہیے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے