ایتھوپیا کے سفیر جمال بیکر عبد اللہ کا دورہ راولپنڈی چیمبر

راولپنڈی:ایتھوپیا کے سفیر جمال بیکر عبد اللہ کا راولپنڈی چیمبر آف کامرس کا دورہ ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا جس میں پاکستان اور ایتھوپیا کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے مواقع پر بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر چیمبر کے صدر عثمان شوکت نے پاکستان کی موجودہ مارکیٹ اور صنعتی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایتھوپیا کو پاکستان کے لیے ایک اہم تجارتی پارٹنر کے طور پر اُبھرنے کا امکان ظاہر کیا، خصوصاً غیر روایتی شعبوں جیسے فارماسیوٹیکل، ایگری فوڈز، دفاعی سازو سامان، آئی ٹی سروسز اور دیگر سیکٹرز میں۔
عثمان شوکت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ایتھوپیا کی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کے لیے ریگولیٹری کمپلائنس میں آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی صنعتکار بہتر طریقے سے اپنی مصنوعات کو افریقی مارکیٹ تک پہنچا سکیں۔ مارچ 2025 میں تجارتی وفد کے ایتھوپیا کے دورے کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیمبر ایتھوپیا کے سفارت خانے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گا تاکہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
ایتھوپیا کے سفیر جمال بیکر نے بھی پاکستان کو ایتھوپیا کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا افریقی خطے کے لیے ایک گیٹ وے ہے اور پاکستان ایتھوپیا کے ساتھ تعاون کر کے افریقی مارکیٹ تک اپنی رسائی بڑھا سکتا ہے جو 1.4 ارب افراد پر مشتمل ہے۔ سفیر نے بتایا کہ ایتھوپیا فارماسیوٹیکلز، ٹیکسٹائلز، اور تعمیراتی سامان سمیت مختلف مصنوعات کی درآمد کرتا ہے، جس کے لیے پاکستان کے لیے بڑے تجارتی مواقع موجود ہیں۔
اس موقع پر ایک پریزینٹیشن بھی دکھائی گئی جس میں ایتھوپیا میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں، جس نے دونوں ممالک کے درمیان مزید تجارتی روابط کے فروغ کے امکانات کو اجاگر کیا۔ اس اجلاس میں چیمبر کے سینئر نائب صدر خالد فاروق قاضی، نائب صدر فہد برلاس، ایگزیکٹو ممبران اور چیمبر کے دیگر ممبران بھی موجود تھے، جنہوں نے اس موقع پر اہم تجاویز پیش کیں۔
یہ ملاقات باہمی تجارتی وفود کے تبادلے اور نیٹ ورکنگ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے