اسرائیل کا اگلا ہدف اور ہم

اسرائیل نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے بعد عرب دنیا کی سب سے بڑی مسلح تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو شہید کر کے وقتی طورپر ایک نفسیاتی برتری ضرور حاصل کی ہے لیکن صہیونی ریاست کی یہ وقتی برتری نہ تو گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرسکتی ہے اور نہ ہی مزاحمت کو ہمیشہ کے لئے کچل سکتی ہے البتہ مسلمانوں میں پائی جانے والی مایوسی اور فرقہ وارانہ انتشار اسرائیلی عزائم کو کامیاب بنا سکتا ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں ایک مشکل جنگ کو ختم کئے بغیر ہی حزب اللہ جیسی منظم تنظیم کے خلاف میدان میں اترنے کے لئے ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی صفوں میں فکری انتشار کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، اسماعیل ہنیہ کی طرح حسن نصر اللہ کو بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریس کیا اور شہادت کے بعد فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے کی منظم مہم چلائی گئی ۔

اسرا.ئیل نے تسلیم کیا ہے کہ وہ حزب.اللہ کے خلاف آپریشن کی گیارہ ماہ سے تیاری کر رہا تھا ۔موبائل کے غیر محفوظ ہونے کی افواہیں پھیلا کر حزب. اللہ کی قیادت کو رابطوں کے لئے پیجر اور واکی ٹاکی جیسے مواصلاتی آپشن کی طرف دھکیلنا اسرائیل کی جنگی چال تھی ۔ یہ سننے میں آرہا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی نے پیجر بیچنے والی آف شور کمپنیاں قائم کیں اور ان کی دنیا بھر میں خوب مارکیٹنگ کی گئی ، حزب اللہ کے لوگ بھی پیجر اور واکی ٹاکی خریدنے کے لئے انہی کمپنیوں کے پاس پہنچے تو اسرائیل اپنے اہداف کو ٹریس کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔. پھر اچانک پیجر اور واکی ٹاکی پھوڑ کر حزب اللہ کے نہ صرف مواصلاتی نظام کو مفلوج کردیا بلکہ قیادت میں بھی کھلبلی مچادی،اسی افراتفری کے دوران ہی حزب اللہ کے سربراہ سمیت سینئر قیادت کو میزائلوں سے نشانہ بناڈالا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے دو بڑے مکاتب فکر شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کی صدیوں پرانی تاریخ ہے،دونوں مکاتب فکر کی صفوں میں ایسے بےشمار لوگ ہیں جو ہر معاملے کو مسلکی عینک سے دیکھتے ہیں اسی کمزوری کا اسرائیل نے حالیہ جنگ کے دوران بھرپور فائدہ اٹھایا۔

اگر ہم ماضی میں جھانکیں تو ہمیں بے شمار ایسے واقعات ملتے ہیں جب شیعہ اور سنیوں میں سے ایک کی مصیبت پر دوسرے فریق نے خوشیاں منائیں ۔ ہم زیادہ دور نہیں جاتے،جب امریکا نے نائن الیون حملوں کو جواز بنا کرافغانستان پر چڑھائی کی تو پوری مسلم دنیا افسردہ تھی لیکن افغان طالبان کے ساتھ مسلکی اختلاف رکھنے والی شیعہ کمیونٹی کے کچھ لوگ بہت خوش تھے ۔ خوشی کا یہ عالم صرف افغانستان پر حملے تک محدود نہ تھا اس کی جھلکیاں عراق پر امریکی چڑھائی کے دوران بھی دیکھنے کو ملیں جہاں صدام کے کچھ مخالفین تو امریکیوں کے آگے ہار لئے کھڑے بھی نظر آئے، کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار لیبیا کے صدر معمر قذاتی اور اسامہ بن لادن جیسے جہادیوں کی موت پر بھی سامنے آیا۔

جب فلسطین کی جنگ شروع ہوئی تو اس وقت پوری امت مسلمہ دکھی تھی اور فلسطینی عوام کے لئے آواز بلند کی جارہی تھی لیکن اچانک اس یکجہتی میں دراڑ ڈالنے کی مہم سر اٹھانے لگی اور اس بیانیہ کو پھیلایا گیا کہ ایران، حزب.اللہ اور اسرائیل تو اندر سے ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ۔ جنگ تو صرف فلسطینیو.ں کو مروانے کا بہانہ ہے ۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا کہ حماس خود بھی دراصل اسرائیل کے ایجنڈے پر ہے ورنہ غزہ پر چڑھائی کا کوئی جواز ہی نہ دیتے۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو اسرائیل نے ایران میں ٹارگٹ کیا تو دوبارہ سے یہ بیانیہ اچھالا گیا کہ گھر بلا کر مروانا تو ان کا پرانا وطیرہ ہے،کہیں سے یہ آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ ایران نے اگر اب جواب نہ دیا تو ملی بھگت کا شک یقین میں تبدیل ہو جائے گا۔ اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور سینئر قیادت کی شہادت ایران اور اسرائیل کی ملی بھگت کا بیانیہ رکھنے والے طبقے کے لئے تباہ کن تھی ۔ اب مخالفین بھی یہ تسلیم کرنے لگے کہ حزب.اللہ دل و جان سے اسرائیل کے خلاف پرسرپیکار ہے اور فلسطینیو.ں کے شانہ بشانہ ہے،یہ پہلا موقع ہے جب سنی مکاتب فکر کی مساجد سے بھی حزب اللہ اور لبنان کے لوگوں کے لئے کامیابی کی دعائیں کی جارہی تھیں،پاکستان میں جماعت اسلامی کی طرف سے حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کے عمل کو سراہا جارہا تھا ، یکجہتی کی یہ فضا اسرائیل کے ساتھ عرب دنیا کے ان ممالک کے لئے موت کا پیغام تھا جن پراسرائیل سے دوستی کا جنون طاری ہے ، ایسے میں سعودی عرب کے میڈیا پلیٹ فارم العربیہ سے اچانک نیا بیانیہ مارکیٹ میں لانچ کر دیا گیا کہ حسن.نصراللہ کی موت دراصل ایران اور امریکا کی ڈیل کا نتیجہ ہے۔ ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے اپنے مفادات کے لئے حزب اللہ سربراہ کے خون کا سود کیا ہے ۔

جس طرح اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد حماس کی صفوں میں ایران کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی مہم چلائی گئی ایسی ہی مہم اب حزب اللہ سربراہ کی شہادت پر چلائی جارہی ہے تاکہ ایرانی حمایت یافتہ تنظیموں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ ایران ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔

عالمی سیاست اور ممالک کی باہمی چپقلش سے معمولی سی واقفیت رکھنے والا کوئی شخص بھی یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گا کہ عین اس وقت جب جنگ کے شعلے ایران کے گھر تک پہنچ چکے ہوں جب دشمن ایران کی سرحدوں کے اندر کارروائیاں کر رہاہو،جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو اسرائیل کا اگلا ممکنہ ہدف قرار دیا جارہاہو، ایسے موقع پر ایران اپنی سب سے بڑی اتحادی اور وفادار مسلح تنظیم کے سربراہ کو خود شہید کروانے کی سازش کرے گا۔ یہ حزب اللہ ہی تھی جس کی بدولت ایران نے شام میں داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں کے خلاف جنگ جیتی اور مشرق وسطیٰ میں اپنے تمام حریفوں کو ٹف ٹائم دیا۔

حزب اللہ سے بے وفائی کا مطلب یمن میں حوثیوں،عراق کی شیعہ ملیشیاء ، شام میں بشار الاسد کی فوج ، غزہ میں حماس سے بھی بے وفائی ہے،ذرا سوچیئے ایران ایسی تنظیموں کے ساتھ بے وفائی کیسے کرسکتاہے جن تنظیموں کی بدولت پورے خطے میں ایران کا دبدبہ قائم ہے، کیا ایران اپنے ہاتھ پائوں خود کاٹے گا، کچھ تو عقل سے کام لیجیئے، ہرمعاملے کو مسلکی عینک سے دیکھنے کی بجائے کبھی اپنے دائرے سے باہر بھی دیکھنے کی جسارت کیجئے ۔

سینئر قیادت کی شہادت اور مواصلاتی ڈھانچہ تباہ ہونے کے باوجود حزب اللہ اتنی کمزور نہیں کہ اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک دے ،ابھی تک تو اسرائیل کو غزہ کی ایک چھوٹی سی پٹی میں بھی حماس کے ہاتھوں سخت مزاحمت کا سامنا ہے، حزب کا تنظیمی ڈھانچہ حماس سے کئی گنا بڑا اور مختلف ممالک تک پھیلا ہوا ہے ،اسی مسلح گروہ نے 2006 میں اسرائیل کو شکست سے دوچار کیا تھا یہ گروہ آج بھی اسرائیل کو زچ کرنے کی پوری طاقت رکھتاہے ۔

اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی کے لئے اپنے سب سے بڑے اتحادی امریکا سمیت پوری مغربی دنیا کی طرف سے بھی سخت دبائو کا سامنا تھا، اسرائیل ایک سال کی تباہ کن بمباری اور ہرطرح کی وحشت کے باوجود غزہ میں فتح حاصل نہیں کر سکا،ایسے حالات میں اچانک لبنان کا محاذ کھولناحیران کن تھا لیکن اسرائیل کے ایک چوٹی کے دشمن حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد نیتن یاہو کو جنگ بندی کے لئے فیس سیونگ مل گئی ہے اور جنگ سے پیچھے ہٹنے کا کا ایک جواز بھی میسر آگیا ہے ۔ اس موقع پر اگر اسرائیل فتح کے اعلان کے ساتھ بھی جنگ ختم  کرتاہے تو یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کی جانب امید افزاء قدم ہو گا لیکن اگر اسرائیل جنگ کا دائرہ شام اور ایران تک پھیلاتا ہے اور اس کی فوجیں غزہ اور لبنان کی طرح دیگر ممالک میں بھی زمینی یا لبنان جیسی فضائی کارروائی کرتی ہیں تو پورا مشرق وسطیٰ اس جنگ کی لپیٹ میں آئے گا جس کے نتائج خود اسرائیل کے لئے بھی بھیانک ہوں گے اور ان ممالک اور عناصر کے لئے بھی بھیانک ہوں گے جو اپنے مسلکی مخالفین کی اسرائیلی حملوں میں شہادت پر خوشیاں منا رہے ہیں۔اس بات کے خدشات دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں کہ ممکنہ طور پر اسرائیل اب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور شامی صدر بشار الاسد کو ٹارگٹ کر سکتاہے ۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کیا فیصلہ کرتے ہیں دنیا کی نظریں اسی پر لگی ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے