پانی تو منافق ہوتا ہے

پانی اپنا کام نیچے سے شرو ع کرتا ہے مگر سر کے اوپرسے گزرجاتا ہے۔ مٹی کا تودہ اس کے سامنے آجائے تو اس کے گرد لپٹ جاتا ہے، نیچے سے سرایت کرتا ہوا اس کی چوٹی تک پہنچ جاتا ہے۔

”نہیں نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ میں احتجاج کے بالکل خلاف نہیں ہوں۔ مگرا تنا ضرورسمجھتا ہوں کہ احتجاج کسی ڈھنگ سے ہونا چاہیئے۔ سلیقے اور طریقے کے ساتھ، کچھ حدود میں رہ کر ۔۔۔”
”واہ! آپ طوفان بھی چاہتے ہیں اور وہ بھی کناروں کے اندر۔ وہ طوفان ہی کیا جو کناروں سے باہر پڑی بے حس و حرکت مخلوق اپنے ساتھ بہا نہ لے جائے۔ احتجاج، آداب و تسلیمات کے ساتھ نہیں ہوتا! مزاحمت معافیاں مانگ کر نہیں کی جاتی۔ ظلم کو آپ معذرت خواہانہ لہجے سے نہیں روک سکتے۔
ظلم و ستم کے آگے بغاوت کا اعلان ڈنکے کی چوٹ پر ہونا چاہئے۔ بدی کو للکارنے والی آواز بے حسی کے پردے چاک کردے، فضا میں ا سکی لہریں ارتعاش اور آگ پیدا کردیں، تب جا کے بات بنتی ہے۔ لوگوں کو بیدارکرنے کے لئے شور محشر درکارہوتا ہے۔”
”میں یہ بات تسلیم کرتا ہوں …مگر اس سب کچھ کے لئے کوئی طریقہ بھی ہونا چاہیئے ۔”
”جناب من! احتجاج کا کوئی مخصوص طریقہ نہیں ہوتا۔ احتجاج تو بس احتجاج ہوتا ہے۔ ایک سرے پر کھڑے ہو کر تماشا دیکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ آگ میں کودنے سے گل و گلزار پیدا ہوتے ہیں۔ جتنی دیر میں آپ پلاننگ کریں گے اتنی دیر میں احتجاج کا وقت ختم ہوجائے گااور آپ بھی ختم ہوجائیں گے۔
اس لئے اینٹ کا جواب پتھرسے دیناضروری ہے اور پھر احتجاجی جلوس!…اس کا مزا تو اس وقت آتا ہے جب پولیس اور انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے۔ ٹریفک جام ہوجاتی ہے، لمبی لمبی کاریں چھوٹے چھوٹے رستوں سے گزرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ ظالم کا پتلا جلتا ہے تو اس کے کارندوں کے دل جلتے ہیں۔ مفادات کے پجاری اپنی پجارو میں بیٹھے کڑھتے ہیں۔”
”جی ہاں! اور لوگ منہ میں گالیاں دیتے، نفرت کا اظہار کرتے، ہمیشہ کے لئے اپنے سینوں میں آپ کاایک مخصوص تشخص قائم کرتے گزرجاتے ہیں۔ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی لیکن نفرت کی بے زبان آواز ذہنوں میں نقش چھوڑ رہی ہوتی ہے۔ سیاسی اکھاڑے میں ایک اور خونی کھیل کے طور پرلوگ آپ کے اس احتجاج کی ڈائری لکھ رہے ہوتے ہیں۔”
”آپ کا مطلب ہے کہ ہم احتجاج کرنا چھوڑ دیں۔ بدی کو کھل کھیلنے کا موقع دے دیں۔ ظلم پر خاموش رہیں اور لوگ ظالم کا تر نوالہ بنتے رہیں۔آپ چاہتے ہیں بازار میں آگ لگی رہے اور ہم صرف اپنے گھر کی حفاظت کرتے رہیں۔ دوسروں پر ظلم کی داستانیں صرف اخبارات میں پڑھ کر مگر مچھ کے آنسو بہائیں۔ شہر کے چوک میں سے دوشیزہ اٹھالی جائے اور ہم بھاگتے ہانپتے گھر آرہیں۔مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے! ”
”لیکن ذرا سوچیئے ،کیا صرف احتجاجی جلسہ کرنے سے اور ایک جلوس نکال لینے سے ظلم کے آگے بند باندھاجاسکتا ہے؟ کیا حکمران کے خلاف ایک تقریر، مظلوم کی آہوں کا مداوا بن سکتی ہے؟ کیاچندلوگوں کا ایک نعرہ ظالم کی کمیں گاہوں میں ہلچل مچاسکتا ہے؟کیا لوگوں کے راستے بند کرکے بدی کے مراکز اور شر کے دروازے بند کئے جاسکتے ہیں؟ کیا ٹریفک بلاک کرنے سے ناانصافی کی یک طرفہ ٹریفک رکتی ہے؟
جب ظالم کے ہاتھ میں اتنے ذرائع ہوں کہ وہ مظلوم کی آواز سے کہیں زیادہ زور کے ساتھ ، اپنے حق میں موثرآوازیں لوگوں کے کانوں تک پہنچارہا ہو۔ ایسے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟ جب مظلوم کے حق میں صرف آواز اٹھانا یا آوازلگانا سیاسی پیشہ بن چکا ہو تو پھر ایسے میں احتجاج صدا بصحرا ثابت ہوتا ہے۔ آندھی میں عینک لگالینے سے آنکھیں گرد سے محفوظ نہیں ہوجاتیں۔”
”تو پھر کیا کریں؟ جب احتجاج کا طریقہ ہی اور کوئی نہ ہو، سوائے راستہ روکنے کے۔ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی ہوں، انتظامیہ کی گاڑیاں توڑی جائیں۔ دفتروں کے گملے اور شیشے محفوظ نہ رہیں۔ کوئی حاکم آرام کی نیند نہ سوئے۔ افراتفری کا بازار گرم کیا جائے۔ تب جا کے لوگ سنتے ہیں۔ پھر کوئی مداوے کی سوچتا ہے۔ روئے بغیر تو ماں بھی دودھ نہیں دیتی۔”
”اگر ماں دودھ نہ دے تو گھر کے برتن تو نہیں توڑے جاتے۔پاکیزہ رشتوں کا تقدس تومجروح نہیں کیا جاتا۔ اپنے گھر کو آگ تو نہیں لگائی جاتی۔ ہمسائے کے گھر میں آگ تو نہیں پھینکی جاتی…دیکھئے احتجاج کے ایک نہیں کئی طریقے ہیں! محض خاموشی بھی تو احتجاج ہوا کرتی ہے۔ سب سے بڑا احتجاج!
اس خاموشی کے اندر جتنے طوفان پنپ رہے ہوتے ہیں ا ن کا تو کوئی شمار اور اندازہ بھی نہیں۔ آپ احتجاج کریں، مزاحمت کریں، ظلم کے خلاف علم لے کر اٹھیں اور چلیں، لیکن مظلوم کے ساتھ حقیقی ہمدردی کے ساتھ۔ کسی اور ظلم کا ذریعہ بنے بغیر، کسی اورزیادتی کی وجہ بننے کے علاوہ، کسی اور شر کا راستہ بننے سے بچتے ہوئے ، کسی اور نفرت سے اپنا پہلو بچاتے ہوئے ، کسی اور ناانصافی اور حق تلفی سے اپنے دامن کو پاک رکھتے ہوئے: حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو، چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو! پھر آپ سیلاب کی طرح ظلم کو بہاکے لے جاسکتے ہیں۔ آپ نے پانی کی روانی دیکھی ہوگی، خاموش مگر طوفانوں کے جلو میں۔”
”پانی تو منافق ہوتا ہے۔ بظاہر صاف نیچے سے گدلا۔ جیسی سطح سے گزرا ویسا ہی رنگ اختیارکرلیا۔ جس برتن میں ڈالو اسی کی شکل اختیارکرلیتا ہے۔ جو چیز ڈالواسی کو اپنے من میں جگہ دے دیتا ہے۔
ہمیشہ پستی کی طرف مائل ہوتا ہے، بلندی سے گریز کرتا ہے۔ تھوڑی سی آنچ آئے تو ا سکے ہونٹ خشک ہونے لگتے ہیں۔ آگ زیادہ ہو تو اپنا وجود ہی کھو بیٹھتا ہے۔ ہوااڑالے تو بارش بن کے موسم کی اطاعت کرنے لگتا ہے۔ جو چاہے اس کا استحصال کرلے۔ اپنی ساری پراگندگی اس کے تن میں جاگزیں کردے۔ اور جیسے چاہے استعمال کرلے۔
اس کا تو کوئی ضمیر نہیں ہوتا۔ سب کے ساتھ اور سب کے ہاتھ لگ جاتا ہے، اس کی کوئی عزت نفس نہیں ہوتی۔ آپ نے کبھی اسے احتجاج کرتے دیکھا ہے؟”
”جی ہاں! آپ نے بالکل سچ کہا ہے۔ پانی جب تک تھوڑی مقدار میں ہوایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر آپ برانہ مانیں تومعذرت کے ساتھ یہ کہوں کہ آپ جب تک تھوڑی تعداد میں ہیں اسی پانی کی خصوصیات کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا کے اپنی تعداد بڑھا کے دیکھئے پھر آپ طوفان بنیں گے۔۔۔
آپ کو معلوم ہے کہ پانی جہاں آپ کی بیان کردہ ”گھریلواور پالتو” قسم کی خصوصیات رکھتا ہے وہاں یہ طوفان بن کر حشر سامانیاں بھی لاتا ہے۔ یہ تو وسعت اور رواداری سے مزین ہے۔ تطہیرکرتا ہے۔ صفائی اور ستھرائی اس کا نصب العین ہے ۔
نشیب میں اتر کر اوربلندیوں پہ چڑھ کرہلکی چیزوں کو بہا لے جاتا ہے۔ بھاری چیزوں کو چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے، کچی اور بے جان چیزوں کے اندرسرایت کرکے انہیں بے حقیقت بنادیتا ہے۔
پانی اپنا کام نیچے سے شرو ع کرتا ہے مگر سر کے اوپرسے گزرجاتا ہے۔ مٹی کا تودہ اس کے سامنے آجائے تو اس کے گرد لپٹ جاتا ہے، نیچے سے سرایت کرتا ہوا اس کی چوٹی تک پہنچ جاتا ہے۔ پھر وہ مٹی کا پہاڑ اس کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔اگر پانی کے سامنے پہاڑ آجائے تو یہ گھبراتا نہیں ، اپنے بہاؤ میں ٹھہراؤ پیدا کرتا ہے، ایک جگہ رک کے اپنی سطح بلند کرتا ہے اور پھر پہاڑ کی چوٹی کے اوپر سے گزر جاتا ہے۔
ہاں پانی،پستیوں میں جاتا ہے مگر اپنے کردار کی سطح برابر رکھتا ہے۔ اس کا ایک حصہ پراگندگی کو اپنے اند رڈھانپ لیتا ہے اور دوسرا حصہ پاکیزگی کے غسل دیتا چلا جاتا ہے۔ محلات اس کے قدموں میں گرتے ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیاں ہیچ ہوجاتی ہیں۔
پانی ہوا کے ہاتھوں استعمال نہیں ہوتا بلکہ ہواکو اپنے پروگرام میں شامل کرکے اس کو خوش اسلوبی سے استعمال کرجاتا ہے کہ بارش کے ذریعے بہت سے انسانوں کے رزق اور بہت سی زمین کی زندگی کا سامان بن جاتا ہے۔
آگ کے آگے بھی ہتھیار نہیں پھینکتا، ہاں اپنی حکمت عملی تبدیل کرلیتا ہے۔ آنچ کے اوپر کھولتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتا ہے اور ابل کر اسی آگ کو سرد کردیتا ہے۔ اگر کم ہو تو بخارات میں تبدیل ہو کر، مقدار میں اضافہ کرکے، بادل اور بارش بن جاتا ہے اور یوں بہت ساری آتشیں فضاؤں کوٹھنڈی چھاؤں میں تبدیل کرکے رکھ دیتا ہے۔
یہ ہے پانی کا منصوبہ برائے تطہیر و انقلاب ، طوفانوں کا پیش خیمہ مگر خاموشی کا مجسم اظہار۔ کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت ؛ جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے! ”

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے