پاگل نہیں بے وقوف

عارضی بے وقوف کو پاگل کہتے ہیں اور مستقل پاگل کو بے وقوف۔ پاگل تو ایک بار پاگل ہوتا ہے اور بے وقوف بار بار بے وقوف بنتارہتا ہے۔ پاگل پن کا تو علاج ممکن ہے، بے وقوفی لاعلاج مرض ہے۔

”سنا ہے بلی رات کے اندھیرے میں بھی دیکھ لیتی ہے؟”

”بس یہ تو قوت مشاہدہ کی بات ہے، چمگادڑوں کو دن میں بھی نظر نہیں آتا!”

”انہیں نظر نہیں آتا یا یہ دیکھتے نہیں ہیں؟”

”سنا ہے ان کے ہاں راڈارسسٹم ہوتا ہے ، ان کے جسم سے ایک خاص قسم کی شعاعیں نکلتی ہیں، جو انہیں راستے میں آنے والی کسی بھی چیزسے آگاہ کرتی ہیں اور چمگادڑ اپنا رخ اور راستہ بدل لیتے ہیں۔”

”خیر چمگادڑوںکا گزارہ تو ہوجاتا ہوگا۔ آدمی کو توبہر حال دیکھنے کے لئے،  مشاہدہ اور مطالعہ کرنے کے لئے آنکھیں ضروری ہوتی ہیں۔”

”صرف آنکھیں ضروری نہیں ہیں؛ بہت سے آنکھوں والے بھی نہیں دیکھ پاتے۔ آنکھ کے پیچھے دیدہ بینا۔۔۔بلکہ دل بینا بھی ہونا چاہئے۔وہ روشنی جو دلوں کو زندہ ، دماغوں کو روشن اور ضمیروں کو بیدارکرتی ہے۔یہ نہ ہو تو کھلی آنکھیں بھی بے کار ہوتی ہیں۔ یہ ہو تو آنکھیں بند کرکے بھی حقائق کا مشاہدہ ہوسکتا ہے۔دل بینا بھی کر خدا سے طلب،آنکھ کا نور دل کا نور نہیں۔۔۔”

”آپ کا خیال ہے کہ بلی میں بھی یہ خصوصیات ہوتی ہیں؟”

”نہ بھی ہو تو بلی تو سیاستدان ہوتی ہے۔ ادھر ادھر سے کرلیتی ہے…آنکھیں کھلی رکھتی ہے، نگاہیں جمائے رکھتی ہے، اپنے شکار کا مشاہدہ اور ملاحظہ اور پھر چوکنا وار تو کوئی بلی سے سیکھے!ایک دفعہ چوہا نظر میں آجائے تو اوجھل نہیں ہونے دیتی!”

”چوہے تو خیر پاگل ہوتے ہیں۔ آسانی سے فریب میں آجاتے ہیں ویسے بھی یہ پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ چھپ چھپاکے نقب لگاتے ہیں۔بزدل بھی واقع ہوئے ہیں، اپنے منہ کی آواز سے ہی ڈر جاتے ہیں۔ لہٰذا انہیں دام میں پھنسانے میں بلی کا کوئی خاص کمال نہیں۔”

”یہ پاگل نہیں بے وقوف ہوتے ہیں۔ بلی تو ان کی بے وقوفی سے فائدہ اٹھاتی ہے۔”

” کیا مطلب ؟ ”

"ایک کار والے صاحب کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا۔ انہوں نے ٹائر تبدیل کرنے کے لئے کھولا مگر اس کے نٹ گم ہوگئے، جب دوسراٹائر چڑھانے لگے توپریشانی میں اضافہ ہوگیا اور وہ بے بس ہوکے بیٹھ رہے۔ ایک پاگل راہ گیر تماشہ دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنے مخصوص انداز میں مشورہ دیا کہ آپ بقیہ تین ٹائروں کا ایک ایک نٹ اتار لیں اور چوتھے ٹائر کو کس دیں۔ اس طرح آپ کم از کم شہر تک تو جاسکتے ہیں۔ وہاں سے نٹ مکمل کرلیجئے گا۔۔۔گاڑی کا مالک خوش اور حیران ہوا تو اس نے راہ گیر سے کہا تم تو دیوانے نظرآتے ہولیکن یہ ترکیب؟۔۔۔اس نے کہا: جی جی  میں پاگل  تو ہوں ،بے وقوف نہیں…!”

” کیا فرق ہوا؟”

"عارضی بے وقوف کو پاگل کہتے ہیں اور مستقل پاگل کو بے وقوف۔ پاگل تو ایک بار پاگل ہوتا ہے اور بے وقوف بار بار بے وقوف بنتارہتا ہے۔ پاگل پن کا تو علاج ممکن ہے، بے وقوفی لاعلاج مرض ہے۔ پاگل تو شعور و آگہی سے عاری ہوتا ہے جبکہ بے وقوف ویسے ہی عقل دشمن ہوتا ہے۔۔۔ پاگل تو جانتا ہے کہ وہ کیا ہے مگر بے وقوف یہ بھی نہیں جانتا بلکہ بعض بے وقوف عقلمند ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں اور سب سے زیادہ خطرنا ک ایسے بے ہی وقوف ہوتے ہیں ، انہیں لوگ پڑھے لکھے بے وقوف کہتے ہیں۔ ایک بات اور بھی یاد رکھئے کہ معاشرے میں پاگل اقلیت میں ہوتے ہیں۔ اس لئے جمہوریت میں یہ ناکام رہتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ جمہوریت میں تو اکثریت  کی بادشاہت ہوتی ہے ناں!”

”آپ نے جمہوریت کا نام لے کر میری دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا ہے۔ مجھے چڑ ہے اس لفظ سے،میں تو پاگل ہوگیا ہوں یہ لفظ سن سن کر۔ میں بھی بچپن سے سن رہا ہوں کہ ہم نے یہ ملک جمہوریت کے نام پر اسلام کے لئے حاصل کیا ہے۔مگرآج تک ان دونوں نعروں کی بنیاد پر ہمیں بے وقوف بنایاجارہا ہے۔جو آتا ہے اسی جمہوریت کا نام لے کرآتا ہے بلکہ جب تک حکومت میں نہیں آسکتا، جمہوریت کا نام لیتا ہے اور جب حکومت مل جاتی ہے تو جمہوریت کے بہروپ میں آمریت اور بھوکی شہنشاہیت کا مظاہرہ کرنا شروع کردیتا ہے۔کب ختم ہوگا یہ ستم؟یہ بلی کے گلے میں محاسبے کی گھنٹی کون باندھے گا؟ ہم کب تک اس قومی نیلام عام کاتماشاکرتے رہیں گے اور کچھ روتے اور کچھ ہنستے رہیں گے؟ ہم پاگل ہیں یا بے وقوف ؟ مجھے بتایئے کہ…”

”ہم ففٹی ففٹی ہیں۔ آدھے ہیں اورآدھے بنالئے جاتے ہیں۔ کچھ کو بے وقوف بنانے میں تھوڑا سا وقت اور سرمایہ لگتا ہے اور کچھ پر کچھ بھی نہیں لگتا۔ کچھ میڈ ان امریکہ ہیں!  جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں۔”

”قوم کو الزام نہ دیں، قوم تو زخم خوردہ ہے ، پچھترسال کے حادثات نے اسے نیم پاگل کردیا ہے۔ اس بے چاری کا ذہن تو غلامی میں جکڑا ہوا ہے۔ دل و دماغ پر احساس کمتری سوار ہے۔ جسم پر روٹی کمانے کی تھکن ہے ، قلب و ضمیر پر مایوسی  کے سائے  ہی۔۔۔یہ تو اس بڑھیا کی مانند ہے جس کی بینائی ختم ہوچکی ہو اور وہ اپنا راستہ اور زادِ راہ بھی کھو بیٹھی ہو؛  امیر شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے، کبھی بہ حیلہ مذہب کبھی بنام وطن۔۔۔”

”یہ بات آپ کی بالکل درست ہے لیکن انتخاب تو بہرحال قوم کو ہی کرنا ہے۔ وہ راہبر اور راہزن میں فرق کرے۔ وہ طاقتور اداروں کی خوشامد ترک کردے۔وہ حقیقت اور بہروپ میں امتیاز کرے۔ لٹیروں کو مسترد اور غمگساروں کو چن لے۔۔۔آج بھی ان زرد پتوں کے نیچے سے سرسبز شگوفے پھوٹ سکتے ہیں۔ منافقت کے بہروپیوں میں سے پرخلوص چہرے تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ بادلوں کی اوٹ میں سے ابھرتے سورج کو پہچانا جاسکتا ہے، بس قوت مشاہدہ کی ضرورت ہے۔ دل زندہ، ضمیر روشن اور دیدہ بینا کی ضرورت ہے۔ تلاش و جستجو میں محنت اور ہمت کی ضرورت ہے۔”

”کیسا راہبر اور کون غمگسار… اب کسے راہبر کرے کوئی؟”

"آپ خودکیوں نہیں اٹھ کھڑے ہوتے؟ آپ خود سچائی کو تلاش کیجئے۔آپ جرأت تو کیجئے لوگ حوصلہ پائیں گے۔لیکن یاد رکھو!! اس کے لئے رگ جاں کٹوانا پڑے گی! مستقبل قربان کرنا ہوگا! مصلحتوں کی لیپاپوتی کی بجائے۔شعورو آگہی کے ہتھیار ساتھ لے کر دیوانہ وار لڑنا پڑے گاکہ خون صد ہزار سے انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا۔”

 

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے