ہندوستان کا الیکشن ڈرامہ اور ٹرن آوٹ کی حقیقت
سب اچھا نہیں ہے ، ایک منظم مہم ہے جو جاری ہے اگرہندو وزیراعلی نہ بھی بنا مسلمانوں کو بیانیوں میں اتنا تقسیم کردیا جایے گا کہ بی جے پی کا جو ہدف ہے کہ کشمیری ہندوستانی آین پر ایمان لے آئیں وہ پورا ہوجایے گا
پھر کونسا استصواب رایے بغیرہندو وزیراعلی کے انجینر جیسے پیادوں کے زریعے مقاصد کی تکمیل ممکن ہوگی جسے ٹھیک انتخابات سے پہلے چھوڑا گیا- ایک باشعور کشمیری ان حقایق کو کیسے نظر انداز کرسکتا ہے یہ میں سمجھ نہیں پایہ ۔
جماعت کے حقیقی قایدین جیل میں ہیں اور ایک ٹولہ جماعتی وابستگی کو ظاہر کرکے ہندوستانی آیین پر ایمان لارہا ، کشمیریوں کو ملفوف انداز میں دھوکہ دیا جارہا ہے کہ کل کہ علیحدگی پسند آج ایک لاکھ شہدا کے لاشے اٹھایے ہندوستان کے آگے سر تسلیم خم کررہے ہیں اگر ایسا پے تو یاسین ملک، مسرت عالم بٹ ، شبیر شاہ قاسم فکتو ، آسیہ اندرابی کے بیانیوں میں کویئ فرق پڑا ، ؟
اس وقت تقسیم در تقسیم کا کھیل جاری ہے جس میں بظاہر ہندوستان کامیاب نظر آرہا ہے جس کو زیادہ ٹرن آوٹ کا نام دیا جارہا ہے۔ پس منظر اور پیش منظر کو دیکھے بغیر ٹرن آوٹ کو حقیقی کہنا معصومیت کی اعلی مثال ہے کچھ بھی ہوجایے چاہے نوے فیصد ٹرن آوٹ آجایے مقبوضہ کشمیر کے زمینی حقایق نہیں بدلیں گے نہ اس اسمبلی میں اتنی سکت ہے کہ وہ کچھ ٹھوس اقدام اٹھا سکے پھر ایسی مشق کا فایدہ ہندوستان کے بیانیے کو تقویت سے زیادہ کچھ نہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا مرکز پہلے ہی گورنر بن چکا ہے اوراختیار نہ اسمبلی کو واپس ملیں گے نہ وزیراعلی کو خود بھارت نوازوں کے الفاظ ہیں کہ آیندہ وزیراعلی ایک چپڑاسی گورنر کی مرضی کے بغیر نہیں بھرتی کرسکتا تو ایسے میں ٹرن آوٹ کیا کام کرے گا ماسوایے اسکے ہندوستان دنیا میں جاکر یہ بتایے گا ، کہ مقبوضہ کشمیر میں نوے فیصد ووٹر یا زیادہ ووٹرز نے ہندوستان کے نظام اور آین پر ایمان لے آیۓ ہیں۔ یہ نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں