میرا قانون میری مرضی
میرا جسم میری مرضی کے نعروں کا تو پچھلی دو دہائیوں کے دوران بہت چرچا رہا، ان نعروں کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان بحث بھی قومی و بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر چلتی رہتی ہے لیکن آج کل کچھ اسی طرح کی صورتحال کاسامنا پاکستان کے قانون کو ہے ۔ یہ قانون سب پاکستانیوں کا ہے شائد اسی لئے طاقتور اشرافیہ ،حکومت ،اپوزیشن، سول سوسائٹی، وکلاء،صحافیوں اورمذہبی حلقوں نے میرا قانون میری مرضی کی پوزیشن اختیار کی ہوئی ہے۔
حکمران جماعت مسلم لیگ ن گزشتہ ہفتے پارلیمان سے ایک آئینی ترمیم منظور کروانا چاہتی تھی لیکن اسے ناکامی کا سامناکرنا پڑا کیونکہ آئینی ترمیم کے لئے درکار نمبرز پورے نہیں تھے ۔ اگرچہ حکومت نے سرکاری طورپر یہ نہیں بتایا کہ مجوزہ آئینی پیکج میں کون کون سی اصلاحات شامل ہیں لیکن اطلاعات یہی ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی، ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع اور ایک آئینی عدالت کاقیام مجوزہ آئینی پیکج میں شامل ہے ۔ گزشتہ چند ماہ سے یہ چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ حکومت عدالتی اصلاحات کے ذریعے موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو توسیع دینا چاہتی ہے ۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ یہ واضح کر چکے ہیں وہ کسی ایک شخص کے لئے قانون سازی کے حق میں نہیں، وفاقی حکومت بھی ایسے کسی تاثر کو مسترد کرتی ہے لیکن حکومت کے ناقدین کا پہلا خدشہ یہی ہے کہ آئینی ترمیم قاضی فائزعیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اگلے چیف جسٹس منصور علی شاہ کا راستہ روکنے کے لئے ہے،اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنما یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں کی گئی منظم دھاندلی پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک اور گناہ کے طورپر آئینی ترمیم لائی جارہی ہے،انتخابات میں دھاندلی اور مرضی کی حکومت قائم کرنے کے باوجود جو مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے تھے وہ آئینی ترمیم کے لئے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
پی ٹی آئی کا مجوزہ اصلاحات پر ایک بڑا اعتراض یہ بھی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو غیر موثر کرنے کے لئے اس ترمیم کا سہارا لیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ نے آئین کے آرٹیکل63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اکثریتی رائے سے فیصلہ دیا تھا کہ قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ ڈالنے والوں کے ووٹ بھی شمار نہیں ہوں گے اور رکنیت بھی ختم ہو جائے گی ۔ اس فیصلے کے خلاف حکومت نے نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے جس کو ایک سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے لیکن ابھی تک یہ اپیل سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی ، پی ٹی آئی اور ان کے ہم خیال حلقوں کو خدشہ ہے کہ نظرثانی اپیل میں سپریم کورٹ کا آرٹیکل63 اے سے متعلق فیصلہ تبدیل ہوگیا یا آئینی ترمیم کے ذریعے اسے غیر موثر کردیا گیا تو ایوانوں میں ہارس ٹریڈنگ جیسے شرمناک عمل کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔
سیاستدانوں،وکلاء،صحافیوں کا ایک طبقہ ان عدالتی اصلاحات کو عدلیہ کے گلے کا طوق سمجھ رہا ہے تو دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جوامریکہ ،برطانیہ ،بھارت اور کچھ مغربی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ججز کی تعیناتی پارلیمنٹ کے ذریعے کرنے کے حامی ہیں، اس طبقے کا خیال ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں جونیئرز ججز کو جوڑ توڑ،سازشوں اور مخصوص تاریخوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اوپر لایا گیا تاکہ وہ مستقبل کے چیف جسٹس کے طور پر لائن میں لگ سکیں۔
یہی وہ جونیئر ججز ہیں جن کی تعیناتی پر پاکستان بار کونسل سمیت تمام وکلا تنظیموں نے احتجاج کیا تھا، بعض ججز کی تعیناتی میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے کردار کا بھی حوالہ دیا جاتاہے ، اب اگر حالات کے جبر نے پارلیمان کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ ججز کی تعیناتی کے عمل کو کسی شخصیت یا چیف جسٹس کی ذاتی خواہشات کے کنٹرول سے آزاد کر سکے تو اس موقع کوایک غنیمت سمجھنا چاہئے کیونکہ جب تک جب تک نظام انصاف کی تطہیر نہیں کی جاتی اس وقت تک کوئی بھی ریاست مہذب جمہوری ریاست نہیں بن سکتی ۔
گو کہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے پاس آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت نہیں اسے اپنی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے بھی مجوزہ ترمیم کے بعضں نکات پر مخالفت کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود بھی حتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آئینی ترمیم کی کوشش مکمل ناکام ہوگئی، پاکستان میں جس طرح قوانین بنتے رہے ہیں ان کو دیکھا جائے تو کچھ بھی ممکن ہے ،یہ پہلاموقع نہیں جب مخصوص شخصیات کے لئے پاکستان کے قانون میں ترمیم کی جارہی ہو،1973 کے آئین میں ایسی ترامیم کا سلسلہ سابق صدر ضیاء الحق کے زمانے سے شروع ہوا تھا، جنرل مشرف نے بھی باوردی صدر رہنے کے لئے اپنی مرضی کی ترمیم منظور کروا لی تھی،کسی بھی شخص کے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر پابندی کاقانون بینظیر بھٹو اور نوازشریف کا راستہ روکنے کے لئے تھا،جب تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر پابندی کا قانون ختم کیا گیا تب بھی قانون سازی صرف ایک شخصیت یعنی نوازشریف کے لئے ہی کی گئی تھی ۔ تاحیات نااہلی ختم کرنے کی سہولت بھی میاں نوازشریف اور جہانگیر ترین کو سیاست میں ان رکھنے کے لئے تھی ،پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے کے لئے بھی پارلیمنٹ کا فورم صرف ایک شخص کی ذات کے لئے استعمال کیا گیا تھا،عمران خان کے دور حکومت میں ایسی ہی ایک سہولت پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کو بھی دی گئی جب برطانیہ میں ضبط کی گئی ملک ریاض کی دولت واپس لا کر ایک جرمانے کی مد میں ایڈجسٹ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں جمع کرا دی گئی تب بھی کابینہ سے اس سارے عمل کی منظوری بند لفافے کے ذریعے لی گئی تھی اور اراکین نہیں جانتے تھے وہ کس چیز کی منظوری کے لئے ہاں کررہے ہیں، مخصوص افراد کے لئے قانون سازی کی ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ اگرنئی آئینی ترمیم کا بھی فیصلہ ہوچکا ہے تو منظوری کے لئے نمبرز بھی پورے ہوجائیں گے ۔
پاکستان اس وقت جس سیاسی بحران اور بے یقینی کے دور سے گزر رہاہے اسے سامنے رکھ کر یہی کہا جاسکتاہے کہ اگر کسی خاص شخصیت کو فائدہ پہنچانے یا کسی کا راستہ روکنے کے لئے آئینی ترمیم لائی جارہی ہے تو یہ کوشش کامیابی کے باوجود ملک میں ایک نئے بحران کو جنم دے گی، جس طرح نوازشریف،بے نظیر بھٹو اور عمران خان کو سیاست سے باہر رکھنے کے کوئی اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے، جنرل باجوہ کو توسیع دینے سے کوئی نیک نامی حاصل نہیں ہوئی، موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو سپہ سالار بننے کی دوڑ سے باہر رکھنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں تو کسی عدالتی شخصیت کو بھی راستے سے ہٹانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی ،عدلیہ میں سنیارٹی کی بنیاد پر چیف جسٹس کی تعیناتی کا عمل اگر ایک مرتبہ چھیڑا گیا اور تین ججز کے پینل سے چیف جسٹس کی تعیناتی کا طریقہ کار رائج کیا گیا تو سپریم کورٹ کی حیثیت ایک سیاسی جماعت کے دفتر جتنی بھی نہیں رہے گی ۔
عدلیہ کو آزادی کے ساتھ فیصلے کرنے کا ماحول فراہم کرنے کے لئے اگر کوئی اصلاحات ناگزیر ہیں تو یہ مقصد صرف اتفاق رائے سے ہی حاصل کیا جاسکتاہے ورنہ میرا قانون میری مرضی کاسلسلہ رکے گا نہیں جو بھی حکومت آئے گی یا لائی جائے گی وہ عدلیہ کو اپنی مرضی کے تابع کرنے کے لئے ایسی قانون سازی کرتی رہے گی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں