غریب شہر کو تہوار تو منانا تھا۔۔!!!

ایک رویہ ہوتا ہے کہ آدمی اچھی چیزوں کو اپنا لے اور ایک یہ ہوتا ہے کہ اپنائی ہوئی چیزوں کو اچھا کہتاپھرے۔ نئی اور پرانی اضافی اصطلاح ہیں…ممکن ہے جسے آپ نئی سمجھ کر اپنارہے ہوں کسی اور معاشرے میں پرانی ہونے کی وجہ سے متروک ہوچکی ہو۔
”بھیڑوں میں نقل کا رجحان کیوں ہوتا ہے؟”
”اس لئے کہ وہ عقل سے محروم ہوتی ہیں، سوچنے اور سمجھنے کا عمل ان پر گراں گزرتا ہے، اسی لئے سرجھکائے چلتی ہیں۔”
”یہ رویہ تو نقصان اور خطرے سے خالی نہیں ہو سکتا۔۔۔”
” حقیقت یہ ہے کہ بھیڑیں ایک دوسری پر اعتماد کرتی ہیں، لہٰذاایک کے پیچھے دوسری چلتی ہے ا ور انفرادی طور پر ریوڑ کی اجتماعی سوچ اور سمت کا خیال رکھتی ہیں۔ چونکہ ان کی قیادت چرواہے کی شکل میں انسانی شعور کرتا ہے، اس لئے یہ ”بھیڑ چال” کو ہی عین حکمت سمجھتی ہیں۔پھر انہیں ان کا یہ تجربہ بھی بتاتا ہے کہ جب بھی انہیں ہانکا جاتا ہے وہ ان کے مفاد کی خاطر ہی ہوتاہے۔ کبھی انہیں اس کے نتیجے میں پانی ملتا ہے اور کبھی خوراک۔شام کو اسی راہ میں اپنی پناہ گاہ بھی ملتی ہے، یوں ان کایہ سفر کبھی بے فائدہ نہیں رہا۔ لہٰذا نقل کے راستے پر انہیں کبھی عقل کے فیصلے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی!”
”اگر ایسا ہے تو ہمارے ہاں ”بھیڑ چال” کے محاورے کو منفی معنوںمیں کیوں استعمال کیا جاتا ہے، اسے تو ایک مثبت رویےکے طور پر لینا چاہئے…!”
”مگر جیسا کہ بھیڑ چال کے الفاظ سے ظاہر ہے، ایسی چال بھیڑوں کے لئے تو موزوں ہے، انسانوں کے لئے نہیں…انسان کو تواللہ تعالیٰ نے منفرد شعور سے نوازا ہے، اسے نقل اور عقل دونوں سے کام لینا چاہئے۔ ہر چیز کی اطاعت سوچے سمجھے بغیر اس لئے نہیں کرناچاہئے کہ دوسرے ایسا کررہے ہیں۔ اس مجبوری کے تحت کہ صاحب کیا کریں فیشن یہی ہے!”
”نہیں خیر۔۔۔فیشن تو کوئی بری چیز نہیں ہے۔ بس اپنے آپ کو ماحول اور زمانے کے ساتھ چلانے کا نام فیشن ہے اور یہ ضروری ہے کہ کہ آدمی ارد گرد کے ماحول سے مطابقت قائم رکھے۔ دوسرں سے مختلف بن کے رہنے والا عجیب لگتا ہے۔ خاص طور پر جب وہ پرانی باتوں کو اپنے ساتھ چپکائے رکھنے کو عبادت کا درجہ دینے لگے!آخر انسان اپنے آپ کو مضحکہ خیز کیوں بنائے؟”
”یہ بات خیر اتنی سادہ بھی نہیں جتنی سادگی سے آپ کررہے ہیں۔ ایک رویہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اچھی چیزوں کو اپنالے اور ایک یہ ہوتا ہے کہ اپنائی ہوئی چیزوں کو اچھا کہتا پھرے۔انکے اچھا ہونے کے جواز تلاش کرکے خود مطمئن ہونے کی کوشش کرے اور دوسروں کا اس وجہ سے مضحکہ خیز قراردے کہ انہوں نے ایسے فیشن نہیں کررکھے!محض زمانے کے ساتھ چلنا بھی کوئی ایسی قابل فخر بات نہیں۔ یہ کونسا کارنامہ ہے کہ جس طرح لوگوں کی اکثریت کررہی ہو اسی طرح ہر دیکھنے والا کرتا چلاجائے۔ ایسے تو جانور بھی کرلیتے ہیں۔ بھیڑ ریوڑ کے پیچھے اور ریوڑ چرواہے کے پیچھے۔ آدمی تو اپنی سوچ اور ذہن کو استعمال کرتے ہوئے نئی راہیں نکالتا ہے۔ لیکن اگر کچھ لوگ پرانی چیزوں کو عبادت سمجھ کر اپنائے رکھیں اور کچھ لوگ نئی چیزوں کو عبادت سمجھ کر اپنانا شروع کردیں تو مضحکہ خیز صرف پرانے لوگوں کو ہی کیوں قراردیا جائے؟دونوں میں آخر فرق کیا ہے؟؟؟”
”فرق نئی عادتیں اور فیشن ہیں جو روشنی کی علامت ہیں۔ تبدیلی اور ارتقاء کی نشانی ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے آدمی نئے راستے تلاش کررہا ہے، نئی منزلیں طے کررہا ہے۔ یہ تو ترقی پسند ذہنیت کا پتہ دینے والے مظاہر ہیں۔”
”نئی اور پرانی ہونے کا تصور ایک اضافی چیز ہے۔ آپ کے لئے جو پرانی ہے اور ایک دیہاتی اور گنوار کے لئے بالکل نئی ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے جسے آپ نئی سمجھ کر اپنا رہے ہوںوہ یورپ میں پرانی ہونے کی وجہ سے متروک ہوچکی ہو اور ہمارے ہاں تو آپ کو پتہ ہے کہ لباس اور زبان کے معاملے میں یہی کچھ ہوتا ہے۔جسے ہم نئی کہتے ہیں وہ ہر لمحہ پرانی میں تبدیل ہورہی ہے کیونکہ نئی اور پرانی کا تصور وقت کے ساتھ وابستہ ہے جو کچھ دیر بعد تبدیل ہوچکا ہوتا ہے۔ ہمارے حال کا ہر لمحہ ماضی میں تبدیل ہورہا ہوتاہے پر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر نئی چیز بہتر اور مفید بھی ہو۔ ہر نئےقدم کو مثبت سمجھنا اور ہر تبدیلی کو ارتقاء کا نام دینا سطحی اور محدود سوچ کا آئینہ دار ہے ؛ زمانہ ایک حیات ایک کائنات بھی ایک ، دلیل کم نظری قصہ قدیم و جدید۔”
”اس کا مطلب ہے آپ بھی پس ماندہ ذہنیت کے علمبردار ہیں۔ ترقی کے مخالف، روشنی سے دور بھاگنے والے ، زمانے سے پیچھے رہ جانے والے ، متروک اور آرتھو ڈوکس! جناب من! انسان نے گزشتہ سالوں میں جو ترقی کا سفر طے کیا ہے وہ اس طرح نمایاں و عیاں ہے ،جس طرح صبح کا سورج رات کی تاریکی میں سے واضح ہو کر نکلتا ہے۔ آپ غاروں کے ساتھ چمٹے رہنے پر اصرارکیوں کررہے ہیں؟”
”یہ تصور بھی حقیقت پر مبنی نہیں کہ انسان بس قدیم زمانے میں ہی غاروں سے وابستہ رہا ہے اور اس نے تہذیب آج بیسویں صدی میں ہی آکر سیکھی ہے۔ آج بھی انسان بہت بڑی تعداد میں غاروں سے بھی بد تر مسکنوں میں رہ رہا ہے۔ ننگے جسموں والے انسان پرانے دور کی یادگاریں ہی نہیں آج بھی برہنہ انسانوں کے غول کے غول نظرآتے ہیں!حقیقت یہ ہے کہ انسان قدیم ہو یا جدید اس نے ارتقا ء کا سفر اسی وقت طے کیا ہے جب وہ ہدایت الٰہی سے وابستہ ہوا ۔ اپنے خالق کی منشاء اور ہدایت پر چل کر ہی ا س نے ترقی کی ہےاور جب بھی اس نے اپنے خالق سے منہ موڑا ہے وہ جنگل کی برہنہ مخلوق ٹھہرا ہے۔ اس پر اس کا ماضی بھی گواہ ہے اور حال بھی۔”
” خیر اب کی زندگی جس قدر سہولتوں سے مزین ہے، پہلے کہاں تھی۔ ”
"جہاں تک سہولیات زندگی کے حصول کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں بھی یاد رہے کہ ہر دور کا اپنا فلسفہ اور ہر دور کی اپنی سائنس ہوتی ہے۔ انسان نے تاریخ میں کئی بار سائنسی ترقی کی ہے تاہم گزشتہ تین صدیوں میں اس نے غیر معمولی رفتار اور مقدار میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ رہن سہن کے ذرائع، مشروبات و ماکولات کے ذائقے ملبوسات کے نمونے، ذرائع ابلاغ اور ذرائع رسل و رسائل میں بے پناہ اضافے کئے ہیں ۔۔۔مگر المیہ یہ ہوا ہے کہ انسان نے، الہامی راہنمائی کو نظر انداز کر کے، محض اپنی عقل کے استعمال سے خیر اور شر، مفید اور مضر کا فیصلہ کیا ہے۔ لہٰذا، اس کی یہ ساری ترقی زندگی کے صرف مادی پہلو کے اعتبار سے ہوئی ہے جبکہ اس کا روحانی اور اخلاقی پہلو نظرانداز ہوگیا ہے۔ ”
"یہ بات تو آپ کی ٹھیک لگتی ہے۔۔۔”
"بہرحال نہ تو غاروں سے چمٹے رہنا کوئی دانشمندی ہے اور نہ ہی ہر چیز کو بلاسوچے سمجھے قبول کرتے جانا مفید۔پرانی چیزوں اور روایتوں کو ترک کردینا یا نئے فیشن اختیار کرلینا کسی تہذیبی اصول کے تحت ہونا چاہیے۔ ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں کے لئے تو اس کے علاوہ کوئی اصول ہے ہی نہیں کہ وہ ہر وقت ترک و اختیار میں صرف اور صرف اپنے ایمان کو ہی معیار بنائیں۔ ہاں جو ایمان کو اتنا قیمتی نہ سمجھتا ہو جتنا کہ کسی نئی چیز کو تو پھر اسے اختیار ہے جس طرح کا چاہے فیصلہ کرے۔”
”بات تو فیشن کی ہورہی تھی اور آپ اسے کفر و ایمان کے فیصلے تک لے گئے۔ اس کا مطلب ہے آپ تھوڑی دیر میں مجھے کافر قراردینے والے ہیں۔ فتویٰ بس تیار ہے۔ معلوم نہیں آپ اتنے وہمی کیوں ہوگئے ہیں۔ حالانکہ آپ بہت پڑھے لکھے اور صاحب فکر و شعور انسان ہیں۔ بھلا فیشن کا ایمان کے ساتھ کیا تعلق؟”
”انسان کے ہر عمل کا تعلق اس کے ایمان کے ساتھ ہوتا ہے۔زندگی کے بارے میں تصور، زندگی کے مقصد کا تعین، زندگی گزارنے کا طریقہ اور اسلوب،سب کچھ۔۔۔”
”گویا آپ ابھی بھی سنجیدہ ہیں اور بھاری بھر کم گفتگو کرنے کے موڈ میں ہیں۔ بات آپ کی درست ہے، مگر۔۔۔”
” ذراغور سے دیکھیں تو بہت سی خرابیوں کی جڑ یہی مسئلہ ہے کہ بس وقت کے ساتھ چلنا چاہیے۔ یہ رویہ ایک متعدی مرض ہے جس کی طرف خود آدمی رضاکارنہ طور پر بڑھتا ہے۔ یہ عموماً دوسرے کی نقل کے طور پر اپنا یا جاتا ہے جس کا لازمی طور پر معنی ایک یہ ہوتا ہے کہ جس کی نقل کی جارہی ہے اس کو اپنے آپ سے بہتر سمجھا جائے اور جو یہ نہ کررہے ہوں ان کو اپنے سے گھٹیا سمجھا جائے۔ یہ جنوں گویا ایک طرح کے احساس کمتری کا اظہار ہے، جس سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں کند ہوجاتی ہیں۔ آہستہ آہستہ آدمی اپنے اوپر اعتماد کھو دیتا ہے اور بھیڑ چال میں شریک ہوجاتاہے!”
”ہاں تو یہی کچھ ہوگا کہ اپنے ماحول سے مطابقت اختیار کرلے گا۔ زبان اور لباس کا استعمال اپنے اہل صحبت کی طرح کرے گا۔”
”آپ کو معلوم ہے کہ یہ طریقہ محض اس حد تک محدود نہیں رہتا۔ بہت سارے خیالات محض زمانے کے رواج کے طور پر بغیر سوچے سمجھے پال لئے جاتے ہیں اور پوری زندگی اسی طرح کے اپنائے گئے فلسفے پر گزر جاتی ہے۔زندگی نقل کرنےکی عادت عموماً غلام قوموں میں رواج پاتی ہے اور طبقاتی معاشرے میں زیادہ پھلتی پھولتی ہے۔ہمارے جیسے معاشرے میں اس کے اثرات بہت بھیانک ہوتے ہیں۔ یہ اپنے ماحول اور اردگرد کے جیسا ہونے کی خواہش، غریب طبقوں میں آہستہ آہستہ حسرت میں تبدیل ہوجاتی ہے اور وسائل والے لوگوں کی ہوس بن جاتی ہے۔ یہ وہ پیاس ہے جو پورے معاشرے کو ہلکان کردیتی ہے۔ ”
” ویسے۔۔۔اس طرح تو عموماً نظر آتا ہے ہمارے ہاں بھی۔”
” جی ۔۔۔جن معاشروں میں انصاف بھی نہ ملے اور وسائل پر چند لوگ قابض ہوں تو اس کے وہی نتائج ہوتے ہیں، جو آج کل ہمارے ہاں نظر آرہے ہیں۔ آپ کو کیا معلوم کہ غریب بچوں کی حسرتیں اپنے والدین کو کیا کیا کرنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ سفید پوش لوگوں کو اپنے بچوں کو احساس محرومی اور احساس کمتری سے بچانے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔غربت کا لفظ اس کے تقاضے پہ بے اثر؛ چپ سی لگی ہے عقل کو بچے کے سامنے!
بظاہر یہ ، آپ کے خیال میں بے ضرر سی دل لگی ۔۔۔مگر بعض اوقات یہ دل کو لگ جاتی ہے، مرض بن کر۔۔۔پھر جاتی بھی نہیں! اس کے اثرات کا صرف ایک منفی پہلو دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ زمانے کے ساتھ چلنے کی توقع پر پورا نہ اترنے کے ارمان نے غریبوں کو حسرت ناکام سے مار دیا ہے، سفید پوشوں کو ذہنی امراض کا شکار کردیا ہے اور امیروں کو ہوس کا غلام بنادیا ہے۔۔۔دیا نہیں تھا تو گھر ہی جلا دیا اس نے، غریب شہر کو تہوار تو منانا تھا!”

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے