خیبرپختونخوا کی علیحدگی کا ذکر کیوں؟
وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ خیبر پختونخوا میں نفرتوں کی آگ بھڑکا رہے ہیں، ڈر ہے خدانخواستہ یہ صوبے میں علیحدگی کی تحریک نہ چلادیں، خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے جو بیج بوئے اس کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے،8 ستمبر کو سنجگانی جلسے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پورکی طرف سے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے اعلان کو بھی وزیر دفاع نے ملکی سالمیت پر حملہ قراردیتے ہوئے کہا کہ جلسوں میں جو گفتگو کی گئی وہ علیحدگی پسندوں کی زبان ہے ۔
خواجہ آصف کے بعد قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اظہار خیال کیا اور کہا کہ جس دن بانی پی ٹی آئی نے سڑکوں پر آنے کا کہا تو لوگ بنگلہ دیش کو بھول جائیں گے۔
پاکستان میں سیاستدانوں کی باہمی محاذ آرائی کے ماحول میں1971 کے سانحہ مشرقی پاکستان کا ذکر ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے لیکن آج کل یہ ذکر ماضی کے ایک سانحہ کے طور پر نہیں بلکہ دھمکی آمیز لہجے میں کیا جارہا ہے، عمران خان کے سوشل میڈیا اکائونٹ سے جو متنازعہ پوسٹ کی گئی اس میں بھی71 کے واقعات کا حوالہ بھی کچھ اسی طرح کے مفہوم میں دیا گیا ہے۔
ہو سکتاہے سیاستدانوں کی طرف سے سقوط ڈھاکہ کا تذکرہ محض اتفاق ہو لیکن خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کچھ خطرات کی بھی نشاندہی کررہی ہے ،صوبے کے تین بڑے اضلاع لکی مروت، بنوں اور باجوڑ میں پولیس کے باوردی اہلکاروں نے رواں ماہ احتجاجی مظاہرے کئے اور دھرنے بھی دیئے ۔ ان تینوں اضلاع کے پولیس اہلکار اپنے ساتھیوں کی ٹارگٹ کلنگ اور مسلح افراد کے حملوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور مطالبہ کیا جارہاہے کہ اُن کے اضلاع میں فوج کو محدود کیا جائے اور پولیس کے اختیارات واپس کیے جائیں تو پولیس خود ان دہشت گردوں کو ختم کر دے گی۔
گذشتہ چند ماہ کے دوران لکی مروت سمیت خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع بشمول بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور کلاچی میں پولیس اہلکاروں پر حملوں اور اُن کے اغوا کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ اگست میں جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چھ ماہ کے دوران خیبرپختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے220 اہلکار مختلف واقعات میں شہید ہو چکے ہیں جن میں فوج، پولیس، ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہے، پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے وہ شام کے بعد گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔اِن بڑھتے واقعات کے بعد رواں سال جولائی میں بنوں میں بھی مقامی آبادی کی جانب سے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی کمان سی ٹی ڈی کے حوالے کرنے کے مطالبات سامنے آئے تھے۔
خیبر پختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کو ایک طرف دہشت گرد گروپوں کی طرف سے داخلی سطح پر حملوں کا سامنا ہے تو دوسری طرف سرحد پار افغان طالبان کی عبوری انتظامیہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کی مکمل سہولت کاری کرتی نظر آرہی ہے، افغان حکومت اور دہشت گروپوں کے گٹھ جوڑ نے پاکستان کے لئے جو چیلنجز کھڑے کئے ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے جس اتحاد کی ضرورت ہے وہ باہمی جھگڑوں کی وجہ سے دور دور تک نظر نہیں آرہا، سیاسی اختلافات کو جس طرح صوبائیت اور دیگر تعصبات کی بھینٹ چڑھایا جارہاہے یہ ہمیں کسی بڑے حادثے سے دو چار کرسکتاہے۔
بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پہلے ہی پریشان کن ہے،صوبے کے سرکردہ سیاسی اور قبائلی رہنما منظر سے ہٹتے جارہے ہیں، قیادت کا یہ خلا پر کرنے کے لئے کسی بھی قومی سیاسی جماعت کے پاس بظاہر کوئی پروگرام نہیں،بلوچستان کے لوگوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا،انہیں قومی دھارے میں لانے کی بجائے ایک اور صوبے میں علیحدگی کی باتیں کرنا کوئی دانشمندی نہیں ۔ چاروں صوبوں کے عوام تمام تر اختلافات کے باوجود ایک دوسرے سے اتنے دور نہیں ہوئے کہ علیحدگی کی دھمکیاں دی جائیں یا طنز کئے جائیں۔
افغانستان سے امریکی انخلاء اور بنگلہ دیش میں بھارت نواز حکومت کے خاتمے کے بعد بعض طاقتیں پاکستان میں انتشار کی سرتوڑ کوششیں کررہی ہیں، اگر ہم باہمی جھگڑوں میں الجھے رہے توکسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا،25 کروڑ عوام کے اس ملک کو سقوط نہیں سکوت کی ضرورت ہے ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں