جوشیلی تقریریں تحریک انصاف کو ڈبو دیں گی

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کے امتحان ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے، کارکنوں کو تو 2013 میں الیکشن مہم کے دوران ہی آزمائش میں ڈال دیا گیا تھا پھر جب انتخابات میں اکثریت نہ ملی تو مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کی کال دیدی گئی ، تمام مسائل کا ایک ہی حل بتایا گیا کہ جب تک اوپر ایماندار آدمی یعنی عمران خان نہیں آ جاتے اس وقت تک نہ کرپشن ختم ہوگی اور نہ ہی اس ملک کے مسئلے حل ہوں گے ، گویا تبدیلی اور انقلاب کا واحد نسخہ یہی رہ گیا ہے کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ تک پہنچایا جائے، 2013 کےانتخابات کے بعد چار حلقے کھولنے کا مطالبہ لے کرسڑکوں پر آنے والے کارکنوں کو 126 روز کے دھرنے اور بیسیوں جلسوں کے باوجود عمران خان کو وزیر اعظم دیکھنے کے لئے 2018 کے انتخابات تک انتظار کرنا پڑا، 2018 کے انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کو جس طریقے سے اقتدار میں لایا گیا اور جس طرح استعمال کیا گیا اس کی تفصیلات اب پارٹی کے اپنے ہی رہنما آئے روز بتاتے رہتے ہیں ۔

اگرچہ اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان اور ان کے ساتھ سٹیج پر ہر وقت موجود رہنے والے رہنمائوں کا امتحان بھی شروع ہو چکا تھا لیکن کبھی ناکامیوں کا ملبہ سابق حکومتوں اور کبھی کورونا پر ڈال کر ووٹرز اور سپورٹرز کو تسلی دی جاتی رہی ، اقتدار کے پورے عرصے میں عمران خان اور ان کی حکومت کی توجہ مخالفین کو سبق سکھانے پر ہی مرکوز رہی اور اصل مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے گئے ۔ خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھانے پرپی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت ایک طرف عوام میں مقبولیت کھو رہی تھی تو دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی کے نتیجے میں اپنے خیر خواہوں اور سہولت کاروں سے بھی دور ہوتی جا رہی تھی جنہوں نے عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لئے اپنا سب کچھ دائو پر لگادیا تھا۔

تاہم پی ٹی آئی کی قیادت کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب 9 اپریل 2022 کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے فارغ کردیا گیا۔ یوں ملک میں ایک نئے سیاسی باب کا آعاز ہوا اور اقتدار سے رخصت ہو کر دوبارہ حزب اختلاف میں جانے والی پاکستان تحریک انصاف نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج در احتجاج کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جو ختم ہوتا نظر نہیں آرہا۔

اقتدار سے بیدخلی کے بعد تحریک انصاف نے 8 ماہ سے زیادہ عرصہ سڑکوں پر احتجاج،لانگ مارچ اور جلسے جلوسوں کی سیاست کی اور مختلف نشیب و فراز سے گزر کر جنوری 2023 میں پہلے پنجاب اسمبلی تحلیل کی گئی اور اس کے چار روز بعد ہی خیبرپختونخوا اسمبلی کو بھی تحلیل کردیا گیا،پارٹی کے کئی سینئر رہنما اور سرکردہ اتحادی چودھری پرویزالٰہی عمران خان کو اسمبلیوں کی تحلیل سے آخری وقت تک روکتے رہے لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔

اسمبلیوں کی تحلیل کے وقت پی ٹی آئی کارکنوں کو یہ یقین دلایا گیا کہ اس اقدام سے 90 روز کے اندر نئے انتخابات کی راہ ہموار ہو جائے گی ، جب انتخابات ہوتے نظر نہ آئے تو پی ٹی آئی قیادت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ،عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر الیکشن کمیشن نے اپریل کے اواخر میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان تو کیا مگر سیکیورٹی اور مالی وسائل کی عدم دستیابی کے باعث اس اعلان کو بدلتے ہوئے 8 اکتوبر کو پنجاب کے انتخاب کی تاریخ دے دی گئی۔ جب تحریک انصاف کی توقعات پوری نہ ہوئیں تو ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا جس کے نتیجے میں 14 مئی کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے شیڈول دے دیا گیا لیکن تاریخ پہ تاریخ کے باوجود بھی الیکشن کا انعقاد نہ ہو سکا تو کارکنوں کو ایک بار پھر سڑکوں پرآنے کی کال دے دی گئی، اسی دوران 9 مئی کا سانحہ ہو گیا جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کو جتنے مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ عمران خان ایک سال سے جیل میں ہیں، ہزاروں کارکنوں کو مقدمات کا سامنا ہے ،پارٹی کے سرکردہ رہنما یا تو ساتھ چھوڑ گئے یا سیاست سے کنارہ کش ہو کر پس منظر میں چلے گئے ، پارٹی سرگرمیوں کے لئے مالی وسائل فراہم کرنے والے بھی پہچھے ہٹنے لگے ہیں لیکن کارکنوں کو اب عمران خان کی رہائی کے لئے سڑکوں پر نکلنے کا کہا جارہاہ ے جس کی پہلی ریہرسل اسلام آباد میں سنجگانی کے مقام ہر 8 ستمبر کو ہونے والا جلسہ تھا۔

جس روز تحریک انصاف اسلام آباد میں جلسہ کرنے جارہی تھی اسی روز صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں جلسے جلوس کے نئے قانون پر دستخط کئے جس کے تحت اسلام آباد میں غیر قانونی جلسہ کرنے اورضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر تین سے دس سال تک قید کی سزا ہو سکے گی، پولیس نے جلسہ کے لئے طے پانے والے تحریری معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر، سینئر رہنما شیرافضل مروت،شعیب شاہین،صاحبزادہ حامد رضا، زین قریشی،شیخ وقاص اکرم ،عامر ڈوگر، اویس، احمد چٹھہ، شاہ احد، نسیم علی شاہ ،یوسف خان اور زبیر خان کو گرفتار کر لیا ہے ، یہ گرفتاریاں پارلیمنٹ کے باہر سے عمل میں لائی گئیں، گرفتاریوں اور کریک ڈائون کا یہ سلسلہ کب تک چلے گا اس بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن ایک بات یقینی نظر آتی ہے کہ تحریک انصاف کے قائدین اور کارکنوں کی مشکلات میں الفاظ کے غیر محتاط استعمال کر بڑا عمل دخل ہے، پی ٹی آئی پر لگائے جانے والے سارے ہی الزامات غلط ہوسکتے ہیں لیکن زبان سے شعلے اگلنا ایسا قصور ہے جو آئے روز مشکلات میں اضافہ ہی کرتا چلا جارہا ہے، جذباتی تقریریں اور بڑھکیں مخالفین کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گی لیکن پی ٹی آئی کو ایک کے بعد دوسرے امتحان سے دو چار کرتی رہیں گی، قید وبند کی مشکلات برداشت کرنے والوں کو رہائی مل جانی ہے، کیسز کا سامنے کرنے والے بھی بری ہوجائیں گے ،اقتدار بھی دوبارہ مل جانا کوئی ناممکن نہیں لیکن پی ٹی آئی رہنما لفظوں کے جو تیر چلا رہے ہیں یہ ہمیشہ ان کا پیچھا کرتے رہیں گے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے