کنفیوژن سے محفوظ رہتے ہوئے ریکارڈ کی درستگی
عمران خان کے حوالہ سے پہلی بار26اپریل 1996ءمیں شائع ہونے والی میری تحریر”عمران خان آن مائی فٹ” کئی بار شائع اور وائرل ہوئی جب اس میں مذکورتمام شخصیات زندہ تھیں ۔۔۔۔ کسی نے بھی اعتراض یا چیلنج نہیں کیا ۔۔۔۔ گزشتہ ماہ سینئر صحافی ودود مشاق کے انتقال پر مذکورہ تحریر اس ٹھوس حوالہ سے ایک بار پھر وائرل ہوئی کہ ودودمشتاق بھی اس تحریر کا اہم کردار تھے جو خود بھی عمران گردی کا شکار ہوئے تھے ۔
اس بار میری مذکورہ تحریر وائرل ہونے پر غیرمتوقع طور پر بہت زیادہ ردعمل آیا جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔۔ ہر شعبۀ زندگی سے منسلک ان گنت محترمین کے علاوہ صحافی برادری بھی اس ردعمل میں پیش پیش رہی ۔۔ قمراللہ چودھری ، اسد شہزاد ، عبدالصمد ٹیپو ، حامد میر ، عبدالستارچودھری ، نعیم چودھری ، فیصل شاہجہان ، علامہ صدیق اظہر ، سید ذیشان گیلانی ، منصور مہدی ، راجہ ریاض ، سرفراز نواز ، حسن تیمور ، خواجہ عبدالمتین ، نجم الحسن ، سید ھماعلی گیلانی ، محمد سرفراز ناز ، غلام حسین زاہد ، قمرالزمان ، عامرسہیل ، عطیہ زیدی ، اسراراحمد ، شفیق الرحمان عامر ، میاں اویس ، عباس مغل ، ریاض شیرازی ، راج حسن ، منصور احمد ، ذوالفقار نقوی ، تاثیر احمد ، شفیق چودھری ، ادریس بٹ اور درجنوں دیگر صحافیوں نے اپنااپنا نقۀ نظر بیان کیا ۔۔
میری تحریر کو روزنامہ”نئی بات”میں صفحہ 3 پراسدشہزاد کے کالم”دستک” میں دو اقساط کی صورت میں شائع کیاگیا جس میں میری تحریر کی تائید کی گئی ۔۔ چند روز بعد سینئر صحافی اور سابق ڈائریکٹر اے پی پی قمراللہ چودھری نے اسی حوالہ سے اپنی یادیں تازہ کرتے ھوئے مختصر مگر جامع تحریر وائرل کی اس میں بھی میری تحریر کی تائید موجود تھی ۔۔ اتوار یکم ستمبر 2024ء کو”سی ٹی وی نیٹ ورک اسلام آباد نے ڈیجیٹل میڈیا پر میری تصویر اور لوگوکے ساتھ میری تحریر کے بجائے محترم قمراللہ چودھری کی تحریر وائرل کر دی ۔۔ اس سے ابہام اور نئے پڑھنے والوں کیلئے کنفیوژن اور مغالطوں نے جنم لیا ۔۔ سی ٹی وی ڈیجیٹل کے حوالہ سے میں نے اس کام کا اہتمام کرنے والے محترم خواجہ عبدالمتین(اینکر جی ٹی وی نیوز اسلام آباد)کو وائس میسیج کردیاتاکہ وہ اپنی سہو کی تصحیح کر کے کنفیوژن دور فرمائیں اور ریکارڈ کو درست رکھیں ۔۔ آپ سب پڑھنے ، سننے والوں سے گزارش ہے کہ کنفیوژن سے محفوظ رہتے ہوئے ریکارڈ کی درستگی نوٹ فرما لیں ۔۔ بہت نوازش ۔۔ ملتمس ۔۔۔ اقبال جکھڑ
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں