مرد، عورت پر کیوں تشدد کرتا ہے؟
جب کوئی انسان اپنے لب ہلاتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی انفارمیشن دے رہا ہوتا ہے واقعات،تجربات اور حادثات ہمیشہ سبق سیکھنے کیلئے ہوتے ہیں اور علم الکلام میں اس کی بہت اہمیت ہے انسان ہر دن کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے وہ اس کو اپنی زندگی میں کس طرح داخل کرسکتا ہے یہ ایک انفرادی فعل ہے، ایک مرتبہ کسی سیمینار کیلئے میں مری گیا ہوا تھا واپسی پر راولپنڈی سے پشاور کیلئے ہائی ایس میں سوار ہوا، میرے ساتھ والی نشست پر ایک شخص تشریف فرماتھے ان سے کلام شروع ہوا۔چند باتوں کے بعد اس نے تعارف کرایا کہ وہ مشن ہسپتال پشاور میں ماہر امراض جشم ہیں سیالکوٹ سے تعلق ہے۔ ڈاکٹر منور ایک جہاندیدہ انسان تھے میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی وہ گویا ہوئے، کتابیں پڑھتے ہو ؟ جواب اثبات میں ملنے کے بعد انہوں نے اچانک مجھ سے پوچھ لیا کہ مرداپنی عورت کو کیوں مارتا ہے؟ میں ان کا منہ دیکھتا رہ گیا، اس نے کہا تم نے چنگیز خان کو پڑھا ہے ؟ میں نے کہا سرسری پڑھا ہے انہوں نے کہا پھر تم نے ان کی کہانی سے کیا سبق حاصل کیا، میں نے کہا وہ ایک جنگجو تھا اور ایک ظالم حاکم کے طور مشہورتھا، انہوں نے کہا کہ جب چنگیز خان نوجوان تھا تو منگول قبیلوں کے درمیان لڑائیاں عام تھیں اس نے اپنے باپ کے ایک دوست کی بیٹی سے پسند کی شادی کرلی تھی ایک رات اس کی غیر موجودگی میں دشمن قبیلے نے اس کے قبیلے پر حملہ کردیا اور قتل عام کے بعدجو مال ومتاع ساتھ لے گئے اس میں چنگیز خان کی بیوی بھی تھی وہ ایک سال تک دشمن قبیلے کے پاس رہی، چنگیز خان نے ایک سال تک اپنی قوت اکٹھی کی اور اس کے بعد اپنے دشمن قبیلے پر حملہ کر کے ان کے خیمے تہس نہس کردئیے، ایسے میں اس کی بیوی کو ایک عورت نے پیغام دیا کہ چنگیز خان تمھارے خیمے کی طرف آرہا ہے اس کی بیوی کے پیٹ میں دشمن سردارکا نطفہ تھا وہ حمل سے تھی وہ گھبرا گئی اس کو یقین تھا کہ چنگیز خان یہ سب دیکھ کر اسے ضرور قتل کردے گا جیسے ہی چنگیز خان اس کے سامنے پہنچا تو وہ اس کے پاؤں میں پڑگئی اور اپنا سر اتارنے کیلئے پیش کردیا اور ساتھ زوردار آواز سے چیخ پڑیں، چنگیز خان نے اسے اٹھایا اور کہاکہ اس میں تمہاری کیا غلطی ہے۔ میں کمزور تھا تیری حفاظت نہیں کرسکا۔ اس لئے دشمن اٹھا کر لے گیااب میں طاقت میں ہوں دوبارہ تم کو پالیا ہے،اس کہانی سے یہ نتیجہ نکلا کہ مرد عورت پر تب تشدد کرتا ہے یا مارتا ہے جب وہ کمزور ہوتا ہے اور اپنی کمزوری کی وجہ سے وہ اس حرکت پر مجبور ہوتا ہے۔
چونکہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی اور میں نے اس کی بڑی تعریف کی تھی، تو ڈاکٹر منور نے دوسری بات بتائی اور کہا کہ میں انگلینڈ کی یونیورسٹی میں سپیشلائزیشن کررہا تھا ایک مرتبہ مجھے ایک کتاب ملی، یہ آنکھ کے قرنیہ پر ایک جرمن پروفیسر نے لکھی تھی، ڈاکٹر صاحب بولے کہ مجھے وہ کتاب بہت اچھی لگی اور کئی مرتبہ پڑھنے کے بعد مجھے یقین ہوگیا تھا کہ یہ اس صدی کی سب سے بہترین کتاب ہے ۔میں یہ کتاب اٹھائے اپنے پروفیسر کے پاس دوڑا، دوڑا گیا،وہ مجھے راہداری میں ملے، میں نے انہیں کتاب دکھائی اور اس کتاب کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے، میراخیال تھا کہ انگریز پروفیسر کو بھی یہ کتاب بہت پسند آئے گی۔ پروفیسر نے میرے ہاتھ سے کتاب لی اور کچھ دیرتک صفحات کو
الٹ پلٹ کر کتاب مجھے واپس کردی اور مجھے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہر کتاب ایک اچھی کتاب ہو۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ چار سال تک انگلینڈ میں تعلیم کے بعد میں واپس پاکستان آرہا تھا میرے ساتھ ایک جرمن ڈاکٹر بھی تھا ہم ائر پورٹ پر ساتھ آئے، وہ جرمن ڈاکٹر میرے ساتھ چارسال تک ایک کمرے میں رہ چکا تھاائر پورٹ پر میری پرواز کی اڑان کی صدا بلند ہوئی، تومیں نے فرط جذبات میں اسے گلے لگالیا اور اجازت لیتے ہوئے گلوگیر لہجے میں کہا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے زندگی میں شائد ہی پھر کبھی ملاقات ہو، جرمن ڈاکٹر نے مجھے الگ کیا اور کہا کہ فکر نہ کرو، دنیا گول ہے زندگی نے ساتھ دیا تو کہیں نہ کہیں پر ٹکرا جائیں گے ڈاکٹر منور بولے اس بات کو22 برس سے زیادہ ہوگئے تھے اس دوران کبھی ان کے ساتھ میرا رابطہ نہیں ہوا تھاکراچی میں اپٹامالوجسٹ ایسوسی ایشن کی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا اس کانفرنس میں دنیابھر سے آئی سپیشلسٹ مدعو کئے گئے تھے، ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ کراچی ائر پورٹ پر بیرون ممالک سے آنے والے مہمانوں کا استقبال میری ذمہ داری ہوگی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں صبح ہی ائر پورٹ پہنچ گیا اور مہمانوں کا گلدستوں سے استقبال کیا اور ان کے ہوٹلز کے ایڈریس پر روانہ کرتا گیا، کئی گھنٹوں کے بعد ایک پرواز سے آنے والے لوگ لاؤنج میں داخل ہوئے، ان سب کے درمیان ایک سفید بالوں والا لمبا تڑنگا شخص بھی بیگ اٹھائے آرہا تھا جرمن لوگ چونکہ دوسرے ممالک کے لوگوں سے کچھ زیادہ لمبے اور دراز قد ہوتے ہیں وہ بھیڑ میں نمایاں نظر آتے ہیں نزدیک آنے پر مجھے حیرت کا زوردار جھٹکا لگا یہ تو وہی ڈاکٹر ہے جو چارسال میرا ہم پیالہ اور ہم نوالہ رہا ۔ہم دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا میں ان سے بغل گیر ہوا تو اس نے جھٹ سے کہا، ڈاکٹر میں نے تجھے کہا تھا کہ دنیا گول ہے زندگی میں ضرور دوبارہ مل لیں گے۔ نتیجہ دنیا گول ہے زندگی ہو تو انسان دوبارہ کہں نہ کہیں ٹکراجاتا ہے۔
نوٹ:
ڈاکٹر منورصاحب چندسال قبل دنیا سے پردہ کر چکے ہیں میں اسے اپنا استاد سمجھتا ہوں اور زندگی بھر ان کا احسان مند رہوں گا جنہوں نے مجھے سبق سکھا یا، میری بڑی خواہش تھی کہ ان سے میری دوبارہ نشست ہو، لیکن مصروفیت اتنی زیادہ تھی کہ میں نہ مل سکا اور وہ دنیا چھوڑ کر چلے گئے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں