پوش علاقوں کا حال اور فیض حمید

کامیابی خواہ کسی بھی شعبے میں ہو، ہر دور میں ہر انسان کے لئے اہمیت کی حامل رہی ہے،انسان اپنی تخلیق کے آغاز سے ہی کامیابی کے لئے سرگرداں ہے ،کچھ لوگ مادی کامیابی کے لئے ہرحد سے گزر جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو روحانی کامیابی کے لئے تمام مادی کامیابیوں کو ٹھکرا دیتے ہیں، ہر انسان کے نزدیک کامیابی کا تصور مختلف ہو سکتا ہے تاہم اگر انسانی جسم اور روح کے رشتے کو دیکھیں تو صرف مادی یا صرف روحانی کامیابی کو مکمل کامیابی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ روح اور جسم انسانی زندگی کے دو اہم حصے ہیں ۔ کامیابی کا حقیقی ذائقہ چکھنے کے لئے ضروری ہے روح اور جسم میں سے کوئی بھی اپنے سے لاتعلقی اختیار کئے رکھنے کی شکایت نہ کرے۔
زندگی کے مختلف شعبوں میں عروج حاصل کرنے والوں کی معلومات آئے روز ہم تک پہنچتی رہتی ہیں ،کوئی تعلیم ، تجارت ، خدمت اور سیاست کے میدان میں نام کماتاہے تو کوئی اپنے فن کے ذریعے کامیابیاں سمیٹتاہے، انہی کامیاب لوگوں کو ملنے والی عزت، شہرت اور دولت دوسرے لوگوں میں بھی آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے ، پاکستان کو حال ہی میں پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل کااعزاز دلانے والے ارشد ندیم پر انعامات کی ایسی بارش ہوئی کہ وہ راتوں رات ارب پتی بن گئے ، ارشد ندیم کو ملنے والی عزت اور دولت نے یقیناً لاکھوں نوجوانوں کو کھیل جیسی مثبت سرگرمیوں کے ذریعے کامیابی کی ترغیب دی ہوگی اور ہزاروں نوجوان تو اس سمت عملی سفر بھی شروع کرچکے ہوں گے۔
ضروری نہیں ہر کوئی کامیابی کے لئے ارشد ندیم جتنی محنت کرے یا اگر محنت کر بھی لے تو اسے ارشد ندیم کی طرح کامیابیاں بھی مل جائیں، ہم نفسانفسی کے جس دور میں جی رہے ہیں یہاں راتوں رات امیر ہونے اور سٹیٹس کی ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ جس کے شرکاء کی اکثریت اچھے برے کی تمیز کئے بغیر ہر حد عبور کرتی جارہی ہے اور اخلاقی قدریں تو ہمارے معاشرے سے ناپید ہوتی جارہی ہیں۔
جسے سیاست میں کامیابی چاہئے وہ اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے سیاست کے ہر اصول کو روندتا ہوا نظر آتا ہے، ہر حال میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہش میں ملکی ادارے تباہی سے دوچار کر دیئے گئے ، عوام کے وسائل سے بنائے جانے والے اداروں کی طاقت چند افراد یا مافیاز کی انا اور مفادات کے لئے استعمال کی جاتی ہے ، حال ہی میں گرفتار ہونے والے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا کیس ریاستی اداروں کی طاقت کو اپنے ذاتی مفادات اور خواہشات کے لئے استعمال کرنے کی زندہ مثال ہے، کس طرح ایک شخص نے عدلیہ ، میڈیا ، پارلیمنٹ ، بیوروکریسی اور کاروباری شعبے میں موجود اپنے گنے چنے سہولت کاروں کے ذریعے ایک ایٹمی ریاست کی پوری طاقت کو ہائی جیک کر لیا ، یہ شخص اس قدر طاقتور ہو گیا کہ ریاست کا کوئی شعبہ ایسا نہیں تھا جو اس کی گرفت سے باہر ہو، ایسا اس لئے ہوا کہ یہ شخص جوابدہی کا احساس بھول گیا تھا اسے اپنے احتساب کی کوئی فکر نہیں تھی۔
یہ صرف ایک فیض حمید کا معاملہ نہیں ہمارے معاشرے میں ہر دوسرا شخص فیض حمید بننا چاہتاہے، گھراور گلی محلے سے لے کر ریاست کی سطح تک قدم قدم پر فیض حمید جیسے کردار نظر آتے ہیں جو عہدوں ، طاقت اور وسائل کے حصول کے لئے تمام ضابطے پامال کر رہے ہیں۔
جب تک جوابدہی کا احساس زندہ تھا تو لوگ سچائی اور عزت کے لئے کسی بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے اور اب حال یہ ہے کہ معمولی فائدے کے لئے عزتیں سر عام نیلام کی جارہی ہیں ۔ اسلام آباد کے پوش علاقوں میں گزشتہ کچھ دنوں سے لوگ سڑکوں پر آکر احتجاج کر رہے ہیں کہ عصمت فروشی کے اڈے بند کئے جائیں ، مساج سنٹرز کے خلاف سڑکوں پر نکلے یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر جن پر آسائش علاقوں میں آباد ہوئے یہاں کوئی شریف انسان اپنی فیملی کے ساتھ باہر نہیں نکل سکتا ، طاقتور مافیاز کی طرف سے بے راہ روی کا شکار طبقے کی سرپرستی کی جارہی ہے ۔ نئی نسل کو تباہی سے بچانے کے لئے کوئی قدم نہ اٹھایا گیا تو جس طرح ہمارے ادارے اور سماجی اقدار تباہ ہوئی ہیں اسی طرح خاندان بھی تباہی سے دو چار ہوجائیں گے ۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے