توپ کے دھانے میں گھونسلا!!

”مختلف مذہبی فکر رکھنا اور کسی ایک مکتب فکر یا مسلک کے ساتھ منسلک ہونا تو کوئی جرم نہیں اور یہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ آپ صدیوں کے اختلافات کو بیک قلم کیسے ختم کرسکتے ہیں۔ ”
"بھئی اختلاف ختم نہ کریں ، برداشت کریں۔ ۔۔آپ اختلاف تھوڑا ختم کر رہے ہیں، آپ تو اختلاف کرنے والوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہے لا علاج مرض۔”
” ہاں جی ، آپ تو یہی کہیں گے۔اگر کوئی کسی ایک مسلک پر کاربند ہونے لگتا ہے تو آپ اسے فرقہ بندی اور فرقہ پرستی کا نام دینے لگ جاتے ہیں حالانکہ ہمارے ہاں مذہبی بیداری کی لہر کو پوری دنیا میں محسوس کیا جارہا ہے اور اور اسلام کے دشمن اس سے خطرہ محسوس کررہے ہیں بلکہ ہماری متحرک قسم کی مذہبی جماعتیں پوری دنیا میں اسلامی بیداری کی عمومی فضا میں خوشگوار اضافہ ہیں۔ اس سے کفر پریشان ہے۔”
”اتنا پریشان نہیں جتنا خوش ہے کیونکہ جو کام انہیں کچھ عرصہ کے بعد کرنا پڑے گا وہ ہم خود ابھی کررہے ہیں۔ایک دوسرے کی سرکوبی کے لئے خود کافی ہیں۔خود کشی میں خود کفیل ہیں۔ مختلف نقطۂ نظر رکھنا یا مسلک میں دوسرے سے اختلاف رکھنا جرم نہ سہی، اہم اور نازک اس وقت بن جاتا ہے جب ہم اسے تصادم میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ ”
” اختلاف تو کئی معاملات میں ہوتا رہتا ہے، آپ مذہبی اختلاف ہی کو غلط کیوں کہتے ہیں۔”
” وہ اس لیے کہ جب آپ ایسی چیز میں اختلاف کرتے ہیں جس کے ساتھ آپ کی جذباتی وابستگی ہے تو اسی وقت آپ کے حوصلے کا امتحان شروع ہوجاتا ہے اور اس کے حوصلے کا بھی جس سے آپ نے اختلاف کیا ہے۔ اس امتحان میں ہم اکثر فیل ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک مذہبی مسلک کے اختلاف کا ہمیشہ سے ہونے کا تعلق ہے تو یا د رہے کہ کبھی اس اختلاف کو صرف اپنا ہی حق سمجھ کر اور اپنی رائے کو ہی حق سمجھ کر نہ لیا جائے تاریخ میں جب بھی ایسا ہوا تلواریں چلی اور گردنیں کٹی ہیں مگر جب بھی فہم و بصیرت اور حکمت و دانائی سے کام لیا گیامعاملات سلجھتے گئے۔”
"ساری جماعتیں تو ایسی نہیں”
"جب آپ کسی بات پر اختلاف کریں تو ضروری نہیں کہ آپ اس پر ایک جماعت بھی کھڑی کردیں اور اپنے نقطۂ نظر پر ”کاربند”ہونے لگیں۔ ہر دوسری پیدا ہونے والی جماعت پہلی کے پیچھے لٹھ لے کے لگ جاتی ہے، حالانکہ اس کا بھی وہی جرم ہے جو اس سے بعد میں جنم لینے والی جماعت کا ہے۔اس تفریق کے لامتناہی نقصانات ہیں جس کا اندازہ ”جماعت ساز”ذہنیت کو نہیں ہوتا…اس سے ایک طرف تو مذہب سے وابستہ کم پڑھے لکھے لوگوں کے ذہن، دل اور نفسیات میں نفرتوں کے دائروں میں اضافہ ہوجاتا ہے اور دوسری طرف مذہب بیزاری کی عمومی فضا میں مزید زہر پھیل جاتا ہے۔”
"یہ بات تو خیر ٹھیک لگتی ہے”
” مذہب سے متعلق ذہنی الجھاؤ کا شکار اس معاشرے میں مسلکی غلط فہمیوں کا ایک اور سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ مذہب پسند لوگوں میں مزاحمتی رجحان جنم لینے لگتا ہے جو کہ متشدد ذہنیت اور متنفر رویوں کی پیدائش کا ذریعہ بنتاہے۔اپنے مسلک کے تحفظ کو فرض اولین اور فرض عین سمجھ لینے کا کیا جواز ہے؟ وہ بھی اس وقت جب معرکہ خود مذہب کے بنیادی اصولوں اور بنیادی عقائد کو درپیش ہے اور آپ اپنے مسلک اور فرقہ کی پوجا میں لگے ہیں! اسلام دشمن قوتیں جہاں اس بات پر خوش ہیں کہ پاکستان میں کچھ جماعتیں متحرک ہیں تو وہ ساتھ ہی یہ بھی محسوس کرلیتی ہیں کہ یہ متحرک اتنی نہیں ہیں جتنی ”متفرق” ہیں۔”
"خیر جب ضرورت پڑتی ہے اور فائدہ معلوم ہوتا ہے تو یہ جماعتیں متحدو متفق بھی ہوجاتی ہیں۔”
”اگر اتحاد کرنا ہی تھا تو علیحدہ جماعت کیوں بنائی تھی؟جب متحد ہونے میں ہی فائدہ ہے اور اتحاد وقت کی ضرورت تھی تو نااتفاقی، افتراق اور انتشار کے بیج کیوں بوئے گئے؟ پھر جس اتحاد و اتفاق کی آپ مثال دے رہے ہیں اس کی عمر کتنی ہوتی ہے؟ چند مختلف دماغوں والے سروں کو اکٹھا باندھ دینے سے اتفاق قائم ہوسکتا ہے! کبھی متنفر دلوں کو جسمانی قربتیں یکجا کرسکتی ہیں۔ روحانی طور پر دور افتادہ سرزمینوں کے درمیان جغرافیائی یکجائی کیسے پیدا کی جاسکتی ہے؟
”نقطۂ نظر کے اختلاف کو تو آپ نے خود تسلیم کیا ہے اب اگر کوئی جماعت اپنی شناخت اور تشخص کے لئے کوئی علامتیں استعمال کرتی ہے تو آپ اسے فرقہ پرستی کا جنون قرار دے دیتے ہیں۔”
"آپ جس شناخت اور تشخص کے اظہار کی بات کررہے ہیں وہی دراصل المیے کی بنیاد ہے جسے آپ معمولی قرار دے رہے ہیں وہ بیماری کا اصل سبب ہے۔ یہ شناخت اور تشخص کا چکر ہی تو ہے جس کا ہر مرحلہ جماعت کو محدود اور تنگ کردیتا ہے۔ جماعت بنا کر علیحدہ نام رکھتے ہی آپ معاشرے سے علیحدہ ہوجاتے ہیں۔ پھر خاص پرچم اور بیج لگا کر اور محدود ہوجاتے ہیں۔ پھر مخصوص اصطلاحات کا پردہ تان لیتے ہیں۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ہم تو لوگوں سے کٹ چکے ہیں پھر واپسی کے رستے تلاش کرتے ہیں۔ اس اندھیرے میں اگر کوئی اور ایسا ہی گم کردہ راہ مل جائے تو اسے دشمن سمجھ کر کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔ یہ اپنی شناخت اور تشخص کو بچانے کا خوف، ہمیں دوسرے پر وار کرنے پر اکساتا ہے۔ ہم اس خانہ جنگی میں مصروف ہیں اور مادیت پسند تہذیب کا دیو ہمارے معاشرتی نظام کو ہڑپ کئے جارہا ہے؟”
”پھرکیا کیا جائے؟ یہاں تو ہر ایک خلوص نیت کے ساتھ جدو جہد کررہا ہے!”
” ہماری مذہبی جماعتوں نے اکثر اہم اصطلاحوں کے غلط مفہوم عام کرکے قوم کو فکری آشوب چشم میں مبتلا کردیا ہے اور ان کی باہمی چپقلش نے ”جہاد” اور” شہید”جیسے الفاظ کو اتنا ”کنفیوز”کردیا ہے کہ میں تجھے ماروں تو تو شہید، تو مجھے مارے تو میں شہید، سب شہیدوں کی صف میں شامل ہیں، سب یزیدوں کی صف میں شامل ہیں۔ظالم اور مظلوم دونوں مقدس ہیں۔یہ مذہبی و معاشرتی مغالطوں کا آشوب ہے! اختلاف اور افتراق کے نکات تلاش کرکے علیحدگی اختیار کرنے کی بجائے اشتراک اور اتفاق کے نکات تلاش کرکے اخوت قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنا زور اپنے مخصوص مذہبی مسلک کو تحفظ دینے میں صرف ہوتا ہے اتنا زور دین کی بنیادی اقدار اور ارکان کی حفاظت کرنے میں لگایاجائے۔ اپنی جعلی شناخت اور جھوٹے تشخص کو بھلا کر اپنی اصل شناخت اور اپنا اصل رنگ صبغة اللہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے مگر اس کے لئے بڑی قربانیاں درکار ہیں۔”
” جی جناب قربانیاں ہی تو دیتے آرہے ہیں مذہبی لوگ، اپنے اپنے حساب سے!”
” شخصیت اور انانیت کے بت توڑنا پڑیں گے۔ سیاسی منافقت چھوڑنا پڑے گی، انفرادی قربانیاں کامیاب نہیں ہوں گی۔اس وقت عالمی منظر نامے میں ہماری کیفیت کچھ اس طرح ہے کہ قوموں کے بین الاقوامی میلے میں ہم تہذیب کے قصاب خانوںمیں ذبح ہونے کے لیے، اپنے اپنے دڑبوں میں بند اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہماری بے حسی و بے بسی اور عالمی قصاب کی بے رحمی و خود غرضی کا مقابلہ جاری ہے۔آپ کہتے ہیں کیا کیا جائے؟ توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔ اب بھی سنبھل جانے میں عافیت ہے۔۔۔ اخوت، محبت، اوریکجہتی جیسے دلکش الفاظ کا کتابوں ، ذہنوں اور منشوروں سے نکال کر عمل کی دنیا میں لانا پڑے گا ورنہ اپنے منطقی انجام کی تیاری کرنی چاہئے!فطرت افرادسے اغماض تو کرلیتی ہے، لیکن نہیں کرتی کبھی قوموں کو معاف!!”

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے