اس ملک کو "نواز دیجئیے” شکریہ نواز شریف!!
بجلی بل ہمیشہ ہی سے پاکستانی قوم پر بھاری رہے ہیں لیکن آئی ایم ایف کے شکنجے کے بعد بھاری ٹیکسوں نے بجلی بلوں کو اتنا زیادہ بھاری کر دیا ہے کہ غریب آدمی کی تو کمر ہی ٹوٹ گئی ہے بلکہ متوسط طبقے کی چیخیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ہر طرف مہنگی بجلی کا کہرام برپا ہے آئی پی پیز مالکان سے کئے گئے غیر منصفانہ معاہدوں سے لیکر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی بدانتظامیوں کا جگہ جگہ سیاپا کیا جا رہا ہے دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف حکام کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ اس جان لیوا مسئلے کا کوئی نہ کوئی نکالا جائے ، ٹاسک فورس پہ ٹاسک فورس بن رہی ہے آئی پی پیز مالکان کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کیسے کی جائے ؟
اس سارے ہنگامے میں میاں نواز شریف نے اپنی ہونہار بیٹی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اس مسئلے کا عارضی حل یہ نکالا ہے کہ اگست اور ستمبر کے کے بجلی بلوں میں 201 یونٹ(200یونٹ تک بجلی بلوں میں وزیراعظم شہباز شریف پورے ملک میں پہلے ہی ریلیف دے چکے ہیں) سے 500یونٹ تک 14روپے فی یونٹ بجلی سستی کر کے عوام کے دکھوں کا کچھ مداوا کرنے کی کوشش کی ہے جس کے لئے پنجاب حکومت نے مختلف محکموں کے ترقیاتی فنڈز کے 45ارب روپے نکال کر اس عوامی ریلیف کے لیے مختص کر دیئے ہیں،وہ بھی تجربہ کاری کی بدولت ہی ممکن ہوسکا عمومی بجلی سستی کی جاۓ تو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط دیوار بن کر سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں، ترقیاتی بجٹ کاٹ کر ریلیف دیدیا اب آئی ایم ایف بھی مطمئن اور عوام بھی خوش۔
میاں نواز شریف کی طرف سے پنجاب کے عوام کے لیے ریلیف کا اعلان کیا ہوا ہر طرف ہا ہا کار مچ گئی سندھ کے حکمران لٹھ لے کر ن لیگ اور مریم نواز پر چڑھ دوڑے ، لسانیت کی گھٹی سے جنم لینے والے ایم کیو ایم کے رہنما کہاں پیچھے رہنے والے تھے انھوں نے بھی عوامی ریلیف پر پنجاب کو خوب کوسنے دئیے ،پختونخوا سے باچا خان کے نوجوان پڑپوتے صوبائی تعصب کا چورن لیکر میدان میں کود پڑے الغرض جس سے جو بن پڑا وہ جلی کٹی سنانے میں پیچھے نہ رہا۔
چند روز سے میڈیا پر پنجاب کے عوام کو بجلی بلوں پر عارضی ریلیف ملنے پر سندھ اور پنجاب کے حکمرانوں میں لفظی جنگ جاری ہیں دوسری جانب حقائق ہیں کہ جو ناقدین کا بری طرح منہ چڑھا رہے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پنجاب کے حکمران اپنے محکموں کا ترقیاتی بجٹ کاٹ کر 45ارب روپے عوامی ریلیف کے لیے مختص کر سکتے ہیں تو دوسرے صوبوں بالخصوص سندھ کے حکمرانوں کو کس نے منع کیا ہے کہ وہ بھی پنجاب کی طرز پر اپنے ترقیاتی بجٹ پر کٹ لگا کر کچھ حصہ سندھ کے غریب عوام کے لیے مختص نہ کریں ، تھوڑا دل بڑا کریں اور اس برس سارے نہیں کچھ ترقیاتی کام روک کر عوام کو بھی معمولی خوشی دیدیں تا کہ غرباء اور کم آمدنی والے بھی کچھ سکھ کا سانس لے سکیں گرمی اور حبس کے باعث اگست اور ستمبر میں پنکھوں اور ائیر کنڈشنر چلنے کے باعث بجلی بل بھی زیادہ آتے ہیں اکتوبر سے موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی بجلی کے استعمال میں کمی آجاتی ہے فقط 2 ماہ کی تو بات ہے، عوامی ریلیف کوئی بھی حکمراں جماعت دے تو میری ناقص رائے میں اسے ہدفِ تنقید بنانے کے بجائے اس کی تقلید کرنی چاہیے اسی میں بھلائی ہے کیونکہ ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کبھی نہ کبھی عوامی دباؤ یا کارکردگی دکھانے کے لیے آپ کو وہی کام کرنا پڑ جاتے ہیں جن کو آپ کھلے بندوں تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں تو پھر بڑی سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
ماضی قریب میں ایک صاحب لاہور میں عامتہ الناس کی سہولت کے منصوبے میٹرو بس کو جنگلہ بس کہہ کر عوامی جلسوں میں ٹھٹہ اڑایا کرتے تھے لیکن پھر کچھ عرصہ بعد اسی لاہور میٹرو (جنگلہ بس) کی تقلید کرتے پائے گئے ، شومئی قسمت تقلید بھی صحیح طریقہ سے نہ کر پائے اب جو بھی پشاور میٹرو بس سروس کا روٹ دیکھتا ہے وہ ٹھٹہ اڑانے والوں کا ٹھٹہ اڑاۓ بغیر نہیں رہ پاتا ، لاگت کی بات کو تو چھوڑیے لاہور میں جتنی لاگت میں میٹرو بس سروس منصوبہ بنا 5گنا لاگت سے پشاور میں جو چیز بنی اس بارے میں پشاور کے دوست بتاتے ہیں کہ آپ کا کبھی کوئی عجوبہ دیکھنے کا من ہو تو آئیے ہم آپ کو پشاور میٹرو بس سروس کے روٹ کی سیر کروا دینگے ۔
پنجاب میں بجلی بلوں پر 45ارب روپے کے ریلیف پر میاں نواز شریف کا شکریہ تو بنتا ہے تو صاحب شکریہ تو ہم کیئے دیتے ہیں لیکن ساتھ ایک چھوٹی سی عرضی بھی ہے ، میاں صاحب یہ بات تو اپنے پرائے سبھی جانتے ہیں کہ آپ ایک درد دل رکھنے والے انسان ہیں آپ ہمیشہ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں اور اکثر عوامی جلسوں کے اختتام پر لوگوں کے لیے خیرو برکت کی دعا بھی ضرور کرتے ہیں آپ ملک کے سنیئر ترین سیاستدان ہیں آپ پر صرف پنجاب والوں کا حق نہیں سندھ ، بلوچستان ، خیبرپختونخوا ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگ بھی آپ سے بہت سی توقعات رکھتے ہیں آج بھی ملک بھر میں آپ کے نام پر ووٹ پڑتا ہیں اسی ملک کے عوام نے آپ کو 3بار سب سے بڑے منصب وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کیا ہے ، آج بھی آپ کے برادر اصغر ملک کے وزیر اعظم اور آپ کی فرمانبردار صاحبزادی سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزیراعلی ہیں ، اس ملک میں جہاں آپ کو بہت دکھ بھی ملے لیکن عوام نے بڑی عزت سے بھی نوازا ہے، میاں صاحب کسی ایسے ریلیف کا اعلان کریں کہ ملک ہر غریب کا دکھ درد کچھ کم ہو سکے ، میاں صاحب ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور آنے والی نسلوں کو خوشحال پاکستان دینے کے لئے کوئی ایسا فارمولا بنائیے کہ کوئی غریب بجلی کے بل کو دیکھ کر خودکشی نہ کرے، کوئی بےکس اور مجبور دہاڑی دار معاشی پریشانیوں سے تنگ آکر اپنے بچوں کو قتل نہ کرے ، بھوک سے تنگ حوا کی کوئی بیٹی اپنی عزت نہ بیچے ، کوئی بیروزگار نوجوان اپنے بوڑھے والدین کی دوائی کے لیے جرائم کی دنیا میں قدم نہ رکھے،میاں صاحب آپ کا حکومتی تجربہ سب سے زیادہ ہے ، وقت تیزی سے گزرتا جارہا ہے میاں صاحب کچھ کیجئے ،اس ملک کو "نواز دیجئیے”
اللّہ آپ کا حامی و ناصر ہو ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں