شوکت خانم ہسپتال دھماکہ، عمران اور تھپڑ
جب دھماکہ ہوا تو میں بیٹ رپورٹر تھا ( پی ٹی آئی کی کوریج میرے ذمہ تھی، اور یہ بیٹ لاہور اور کراچی میں میرے پاس ہی رہی۔) میں فورا شوکت خانم پہنچا تو پتہ چلا کہ عمران پہنچ چکے ہیں پہنچنے والے ہیں۔ خیر کچھ دیر بعد عمران خان اور ہم سب صحافی اس کے ساتھ دھماکہ کی جگہ کی طرف چل پڑے۔
دھماکہ کے بعد نواز شریف یا اس کی پارٹی نے کہا کہ یہ دھماکہ عمران نے خود کروایا ہے تاکہ ہمدردی اور مزید فنڈز اکھٹے کرنے کے ساتھ ساتھ نواز حکومت کو بدنام کر سکے۔
چلتے چلتے ہم عمران سے مختلف سوال کر رہے تھے اور ان کے ارشادات نوٹ کر رہے تھے۔ میں عمران کے لیفٹ پر ایک قدم پیچھے اپنے دھیان میں نوٹس لیتا آگے بڑھ رہا تھا۔ دونوں طرف رپورٹرز عمران سے آگے تھے اور قافلہ V کی شکل میں آگے بڑھ ھ رہا تھا۔ دائیں طرف سے کسی رپورٹر نے عمران کو سوال کیا کہ خان صاحب، پنجاب حکومت کہتی ہے کہ یہ دھماکہ عمران نے خود کروایا ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟
مجھے نہیں علم صرف اندازہ ہے کہ عمران نے اس رپورٹر کو خون خار نظروں سے دیکھا ہو گا اور پھر۔۔۔۔۔ جب ہم سوال کو دل ہی دل میں سراہ رہے تھے کہ اس کے جواب سے ایک تو الزام کا جواب آ جائے گا، دوسرے خبر جاندار بن جائے گی۔۔۔۔ لیکن یہ کیا؟
خان صاحب نے جواب دینے کی بجائے تڑاخ کر کے اس رپورٹر کو تھپڑ مار دیا۔
میں تو وہیں رک گیا۔۔قافلہ آگے بڑھ گیا۔ میں دفتر آیا، غصے اور جذبات سے لال، گالی گلوچ کرتے، اور شدید بنایا ہوا اور بڑبڑاتا کہ میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ سیاست اس ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے بس کی بات نہیں۔ یہ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ۔۔۔ شدید گالیوں کا انبار جس سے میرے دفتر والے واقف اور عادی تھے۔
مجھے فواد ہاشمی جو انتہائی نفیس انسان اور اس وقت ہمارے سپورٹس رپورٹر تھے نے کہا کہ یہ عمران ایسا ہی ہے ایک دفعہ کسی سپورٹس رپورٹر کو بھی گراؤنڈ میں تھپڑ مار دیا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ کونسی بات انہوں نے بتائی تھی لیکن تھی وہ بھی سچ پر مبنی جس کا عمران کے پاس رد کرنے کو دلیل نہ تھی اور مان لینے کا حوصلہ نہ تھا۔
اس بیک گراؤنڈ کے ساتھ میں نے اسے بائیس سال کوور کیا اور کبھی اس کے ساتھ یا اس کے کسی لیڈر ساتھ تعلقات نہیں بنے یا میں نے نہیں بنائے جیسے باقی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کے ساتھ تھے
میرے نذدیک یہ اس قابل ہی نہ تھا۔ میری کیا اوقات پھر بھی میں اسے اپنے قابل نہیں سمجھتا تھا۔۔۔ وہ تو نواز کو بھی کبھی نہ سمجھا البتہ زرداری سے جتنی ملاقاتیں ہوئیں، ان میں اس نے ضرور متاثر کیا۔
جب یہ الیکشن جیت گئے تو ایک جیت کا جلوس نکالا گیا اور ایم این اے جلوس میں عمران سے آگے نکل گیا تو عمران نے اس بھی تھپڑ مارا اور کھینچ کر اسے پیچھے کر دیا۔ اس کی ویڈیو کافی دن تک مختلف ٹی وی چینلز پر چلتی رہی۔ ۔ سو یہ حرف با حرف آپ بیتی ہے جو مجھے قریب سے جانتے ہیں کہ میں کتنا جھوٹا، یا سچا، بکاؤ، کرپٹ یا ایماندار ہوں۔
رہی بات کہ باقاعدہ مار پیٹ ۔۔۔۔ یہ عوام تو کسی رپورٹر کے ساتھ کر سکتی ہے، سیاسی لوگ نہیں کرتے۔۔۔ ایک دو تھپڑوں کی اور بات ہے۔ لہذا مرہم پٹی، پرچہ وغیرہ تو ڈرامے کا حصہ ہو سکتا ہے۔۔۔ ضیاء شاہد صاحب تو مشہور تھے لیکن جنگ گروپ کے صحافتی اقدار بھی کوئی قابل ستائش نہیں ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں