وائیٹ ہاؤس کے کوے سفید ہوتے ہیں!

شاہیں نے آج کل درویشی اختیار کررکھی ہے لگتا ہے ۔ کسی معجزے کے انتظار میں ایک ٹانگ پر کھڑاماضی کی جگالی کررہا ہے۔اس کے پاس سکندری ہے نہ قلندری۔ایسے میں کوے کا نام ہی شہباز ہے، شاہین قیادت سے باز آیا، زاغوں کے تصرف میں، عقابوں کے نشیمن!
”کوا حلال ہے یا حرام؟”
"یہ فیصلہ تو اہل شریعت کریں گے تاہم میری کووں سے بنتی نہیں، ہمیشہ ان سے فکری و عملی قسم کا اختلاف رہا ہے۔”
”ویسے یہ بڑاذہین جانور ہے!”
”ذہین کم اور چالاک زیادہ ہے۔ بعض کوے تو خیر بہت سیاستدان ہوتے ہیں ۔ کبھی آپ انہیں چھوٹے پرندوں سے اٹکھیلیاںکرتے دیکھیں، یا کسی کند ذہن جانور کے آگے سے خوراک اٹھانے کی” کویانہ” تراکیب پر غور کریں، خاص طور پر جب یہ کسی بزدل بکری کو ذہنی الجھاؤ کا شکارکرکے بدنی مشقت میں ڈال دیتا ہے۔”
”بس جی ہر ایک مخلوق کا رزق اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے اور …”
”مگر اس رزق کے حصول کا ذریعہ بھی تو معقول اور جائز ہونا چاہئے۔ اور پھر یہ تو کسی شریف آدمی کی ہنڈیا ڈھکی چھپی نہیں رہنے دیتا۔ کیا پکا ہے، اس کی خبر یہ سارے محلے میں پہنچادیتا ہے۔ پھر اس کا مواصلاتی حربہ بڑا کامیاب ہے جب چاہے ”کاں فرنس” بلالے۔”
”لیکن منڈیر پر کوے کے بولنے کو تو لوگ کسی مہمان کی آمد کی اطلاع سمجھتے ہیں۔”
”جی ہاں! وہ مہمان یہ خود ہوتا ہے اور اپنے آنے کی اطلاع دے رہاہوتا ہے۔ آپ اسے اچھا شگون سمجھ رہے ہوتے ہیں حالانکہ یہ اس طریقے سے ایک طرف تو آپ کی نجی زندگی میں دخل اندازی کررہا ہوتا ہے اور دوسری طرف اپنے ساتھیوں کی کارنر میٹنگ کال کررہا ہوتا ہے تاکہ بوقت ضرورت آپ کو بلیک میل کرسکے۔”
”چلیں جی! کتنا کھالے گا، چونچ کے دامن کی وسعت ہی کیا ہوتی ہے! ویسے بھی ذرا سی چھڑی ہلادینے سے اڑجاتا ہے۔”
”۔۔۔اڑ نہیں جاتا، دوسرے گھر چلاجاتا ہے، جہاں چھڑی نہیں ہے، یا گھر والے کچھ زیادہ روادار ثابت ہوئے ہوں، پھر یہ بھی یاد رہے کہ یہ خاموشی سے نہیں اڑتا، بہت احتجاج کرتا ہے۔ یہ تو غیر ضروری بات پر بھی احتجاج اس طرح کرتا ہے جیسے زندگی کا سب سے اہم کام کررہاہو!
پراپیگنڈہ کرنے میں بہت ”کائیاں” ہوتا ہے، آپ اس کے قبیل کے کسی فرد پر ہاتھ اٹھا کے دیکھیں اور پھر ان کے بنیادی حقوق کا واویلہ سنیں۔ پھر اس معاملے میں یہ اتنا ڈھیٹ اور ہٹ دھرم واقع ہوا ہے کہ اپنی غلطی ماننے کی طرف تو آتا ہی نہیں۔ بس کائیں کائیں کی رٹ لگادیتا ہے، آپ اس شور کی طرف لپکیں گے اور پیچھے سے ان کی دوسری ٹیم آپ کا وہ سرمایہ لے اڑے گی جس کو بچانے کی خاطر آپ نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ کوے اتنے متعصب ہوتے ہیں کہ اپنے لئے تو تھوڑی سی بات پر آسمان سر پر اٹھالیں گے اور اگر کسی اور پرندے کے ساتھ کوئی زیادتی ہو تو خاموشی کے ساتھ گذر جائیں گے۔ ”
”ویسے یہ باتیں تو ٹھیک ہیں، میں نے کبھی اس جانب غور ہی نہیں کیا البتہ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ کوؤں کا اپنے مذہب کے ساتھ بھی کوئی اچھا برتا ؤ نہیں ہے بلکہ آج کل تو سارے کوے لبرل اور سیکولر ہوتے جارہے ہیں!”
”دراصل انہوں نے اپنی زندگی کو دو خانوں میں تقسیم کررکھا ہے؛ ایک ان کی جنگلی زندگی ہے جس میں اپنے لئے ہر ذریعہ کو جائز سمجھتے ہیں دوسری نجی زندگی ہے جس میں کئی قسم کی پالیسیاں بیک وقت جاری ہوتی ہیں ۔”
”ایک بات ہے کہ کوے جمہوریت پربہت یقین رکھتے ہیں! اکثریت کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنا اور فضا بناناجانتے ہیں۔ ہم رنگ اور ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ ”
”یہ خصوصیات تو گھریلو قسم کے کوؤں کی ہیں ان کی ایک قسم جنگلوں میں ہوتی ہے، جوذرا مختلف ہے دیوہیکل قسم کے یہ” ڈوڈ کاں”بڑے پراسرار ہوتے ہیں۔ یہ باہر سے چمک دار اور اندر سے سیاہ ہوتے ہیں۔ یہ ”دیپک راگ” سے بہت کام لیتے ہیں، دوسروں کو جلانے کا۔۔۔کہاجاتا ہے کہ کوؤں کو بین الاقوامی سطح پر منظم کرنے میں ان کا ہاتھ بلکہ چونچ ہے۔ ویسے بھی جنگل کے پرندوں کی قیادت انہیں کے ہاتھ میں ہے۔”
”ہم نے آج تک تو یہی سنا اور پڑھا تھا کہ جنگلی پرندوں کا شہنشاہ تو شاہین ہوتا ہے۔ قیادت و سیاست کا سہرا اسی کے سر ہے جسے اقبال نے بھی آئیڈیل کے طور پر پیش کیا ہے۔”
”یہ بات اب پرانی ہے۔شاہین نے آج کل درویشی اختیار کررکھی ہے ۔۔ ۔ کسی معجزے کے انتظار میں ایک ٹانگ پر کھڑاماضی کی جگالی کررہا ہے، بلکہ اب تو اسے نیند آگئی ہے! ویسے بھی کنگال ہوگیا ہے، وہ دور گیا جب اس کا سکہ چلتا تھا، آج کل تو سرمائے کا دور بھی ہے اور دوڑ بھی۔۔۔شاہین کے پاس سکندری ہے نہ قلندری۔۔۔ایسے میں کوے کا نام ہی شہباز ہے، شاہین قیادت سے باز آیا۔۔۔زاغوں کے تصرف میں، عقابوں کے نشیمن!”
”یہ پھر کوئی امریکی قسم کے کوے ہوں گے۔۔۔ ہمیں استاد یہی بتاتے ہیں کہ دنیا کی قیادت وائٹ ہاؤس کے سفید فام باشندوں کے ہاتھ میں ہے، مگر! کوے تو سیاہ ہوتے ہیں!!!”
”وائٹ ہاؤس میں کوے سفید ہوتے ہیں۔۔۔ جس جگہ بھیجے جاتے ہیں، ویسا ہی رنگ لگادیا جاتا ہے ، سیاہ کووں پر رنگ نہیں چڑھتا سفید کووں پر اپنی مرضی کا رنگ کیاجاسکتا ہے!!! وہ دوسروں کے بارے دہشت گردی کا تاثر عام کر کے ، خود انسانیت کشی کا کام کرتے ہیں، دوسروں پر جمہوریت دشمنی کی تہمت لگا کے ، اپنی جمہور دشمنی کی سفاکیاں معصوموں پر آزماتے ہیں، بنیادی انسانی حقوق کا واویلہ کر کے، انسان حقوق کا قتل عام کرتے ہیں ۔ پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات”

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے