کشمیر 5 اگست 2019 سے مئ 2025 تک

5 اگست 2019 کو بھارت نے اپنے آئین سے وہ علامتی دفعات (370/35A) بھی ختم کر ڈالیں، جو ریاست جموں و کشمیر کی تاریخی شناخت کی آئینہ دار تھیں۔ اس کے اگلے ہی دن، یعنی 6 اگست کو ریاست کو مکمل تحلیل کر کے اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے “یونین ٹیریٹری” کا درجہ دے دیا گیا، اور 31 اکتوبر سے اس قانون کا اطلاق عمل میں آیا۔ یہ قدم صرف آئینی ترمیم نہیں تھا، بلکہ ایک سنگین تاثر پیدا کیا گیا کہ جموں و کشمیر کی ریاست اب کوئی متنازعہ خطہ نہیں رہا بلکہ مکمل طور پر بھارت کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ یہی نہیں، بلکہ پاکستان کے زیرِانتظام ریاستی علاقوں کو بھی اپنے آئین میں شامل رکھتے ہوئے ان کے لیے علامتی نشستیں مختص رکھیں۔ کشمیری اور پاکستانی اس دن کو دنیا بھر میں  یوم  استحصال کے طور مناتے ہیں –

یومِ استحصال، یومِ سقوط، یومِ مذمت، یومِ شہداء — اس پر ماتم، نوحہ ، مرثیہ  ،  سب ایّام اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اس سے زیادہ اہم اس کا دراک ضروری ہے کہ اُس وقت ہم  کیا کرنے میں ناکام ہوئے اور اب کیا کرنا چاھئے –  جذباتی ریلیوں سے زیادہ  اُس وقت علامتی اور عملی اقدامات کی ضرورت تھی جو یقینی نہیں ہو سکے  –   کشمیریوں نے تو اس کا بدلہ مسلسل مذاہمت اور 2024کے ریاستی الیکشن میں بھارتی بیانیے کو اپنے تشخص کے تحفظ اور استقامت سے بی جے پی اور اس کی حکومت کی  پوری قوت کے باوجود مسترد کر دیا۔  لیکن مئی کی جنگ نے ہندوستان نے پاکستان کو وہ موقع دوبارہ فراہم کر دیا  ہے-

۱- کیا اُس وقت پاکستان کی خاموشی  مجبوری تھی ؟

پاکستان آج بھی ریاست جموں و کشمیر کے 45 فیصد حصے کا نگہبان ہے، اور یہ وہ علاقہ ہے جس پر بھارت اب بھی اپنے آئینی و سیاسی دعوے جتاتا ہے۔ یہ حقیقت یاد رکھنا ضروری ہے کہ مہاراجہ کا پاکستان کے ساتھ قائمہ معاہدہ آج بھی قانونی حیثیت رکھتا ہے، اور اقوام متحدہ کی قراردادیں پاکستان کو حق دیتی ہیں کہ وہ پوری ریاست کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ بھارت نے شملہ معاہدے سمیت تمام باہمی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست کی حیثیت یکطرفہ طور پر بدل دی، جب کہ ایسا اقدام باہمی رضامندی کے بغیر ممکن نہ تھا۔پاکستان معاملہ کو سلامتی کونسل یا جنرل اسمبلی میں نہیں لے جا سکا نہ پر ایکٹیو سفارت کاری کر سکا –

ریاست میں جاری تحریک کو بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی پشت پناہی سے جوڑنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ 9 لاکھ فوج، کالے قوانین اور دہلی کی براہ راست حکمرانی کے باوجود تحریک آزادی کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ یہ بھارتی بیانیہ خود اپنے ہی بوجھ تلے دب گیا۔اس کو بھی ایکسپلائٹ نہیں کیا جا سکا –

اس وقت  پاکستان کا صرف تقریروں، قراردادوں اور احتجاجی ریلیوں پر اکتفا کرنا ناکافی اور غیر مؤثر عمل رہا۔  جیسا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیریوں پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے – اس وقت  بھارت کو وارنگ دینا چاھئے تھی کہ کشمیر سے فوجی محاصرہ ختم نہ کر کے صورت سابق بحال نہ کی گئ   تو اسے پاکستانی فوج کا تحفظ دیا جائے گا –  اس سے دنیا بھر لرز اٹھتی – ایسا نہ ہونے سے سوائے روایتی دوستوں ایران اور ترکی کے دنیا نے نوٹس نہ لیا- اس وقت کے وزیر اعظم نے عوامی دباؤ کا جواب صرف یہ کہہ کے دیا “ کیا اب میں ہندوستان پر حملہ کروں ؟”

پاکستان کو چاہیے تھا کہ 1986ء کی بھارتی براس ٹیک مشقوں کی طرز پر، اپنی سرحدوں پر افواج کو جدید اسلحے سے لیس کر کے آراستہ کرتا، یا کم از کم 2001-2002 کی ایٹمی تناؤ جیسی کیفیت پیدا کر کے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتا۔ دنیا جنگ نہیں چاہتی، اور ایسے اقدامات ہی پاکستان کی سنجیدگی کو ثابت کرتے، اور اقوامِ عالم کو مسئلے کے حل پر آمادہ کرتے۔

     ۲—بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت-

2019 کی آئینی چالاکی کے بعد 2021 میں حد بندی کمیشن نے ایسی چالاکی سے حلقہ بندیاں کیں کہ مسلمانوں کی سیاسی حیثیت آٹے میں نمک کے برابر کر دی گئی۔ لاکھوں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل دے کر ریاست کا آبادیاتی توازن بگاڑ دیا گیا۔ لیکن پاکستان کی جانب سے کوئی مضبوط سفارتی و سیاسی قدم نظر نہیں آیا۔ کیا یہ مصلحت پسندی تھی یا ادراک کی کمی؟

کم از کم آزاد کشمیر کی حکومت کے ذریعے بیرونِ ملک آباد ریاستی باشندوں کی فہرست مرتب کی جا  تی اور سکھوں کی طرح عالمی سطح پر ریفرنڈم کی مہم چلائی جا سکتی تھی۔ شملہ معاہدے جیسے وہ تمام دو طرفہ معاہدے ختم کیے جانے چاہیے تھے جو اب یکطرفہ پامالی کا شکار ہو چکے ہیں۔

پاکستان کو یو این سیکیورٹی کونسل میں رجوع کرنا چاھئے تھا کہ ریاست میں 9 لاکھ بھارتی فوج، قتل و غارت، عزتوں کی پامالی، اور جائیدادوں کی تباہی، ایک جنگی کیفیت کو جنم دے چکی ہے۔ سلامتی کونسل  کو اس کا نوٹس لے کر ریاست کو امن فوج کے حوالے کر دینا چاہیے تھا—جیسا کہ ایسٹ تیمور میں ہوا تھا۔

   ۳- آئینی ترامیم اور وحدتِ ریاست-

پاکستان کو اپنے آئین میں ترمیم کر کے ریاست جموں و کشمیر کو فی الوقت متنازعہ ریاست کے طور پر شامل کرنا چاہیے تھا، جب تک کہ اقوام متحدہ کے زیرِنگرانی رائے شماری نہ ہو جائے۔ اس کے ساتھ پارلیمنٹ میں ریاست کی تمام نشستیں مختص کر کے، مقبوضہ حصے کی نشستیں خالی، اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی نشستیں نامزدگی کے ذریعے پُر کرنی چاہیے تھیں۔

 صرف سڑکوں کا نام “سرینگر روڈ” رکھ دینے  اور  نقشے میں ریاست کو متنازعہ دکھا دینا ہی کوئ رد عمل نہیں تھا ہے اس پر مذاق یہ کہ اس وقت کے وزیر اعظم نے کہا کیا میں ہندوستان پر حملہ کردوں ؟ یہ سب محض علامتی تسلیاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم 75 سال میں اقوام متحدہ کی قراردادیں نافذ نہیں کرا سکے، اور 370 کا “کچا دھاگہ” نہیں کاٹ سکے، تو اب بھارتی آئین، ہزاروں قوانین اور لاکھوں افواج کو  نکالنے کے لئے کر سکیں گے؟

    ۴-  متبادل سیاسی حکمتِ عملی

اگر یہ سب ممکن نہ تھا تو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو 24 اکتوبر 1947 کی پوزیشن پر لا کر ایک متحدہ حکومت بنائی جاتی، اور صرف دفاع و خارجہ امور پاکستان کے سپرد کیے جاتے۔ یہ حکومت اقوام متحدہ میں پوری ریاست کی نمائندہ بن سکتی تھی۔ یہ 45 فیصد علاقہ اس وقت آئینی طور پر پاکستان کا حصہ بھی نہیں، جو سفارتی اور سیاسی اعتبار سے ایک بہت بڑی خامی ہے۔

اگر وحدت میں قباحت تھی تو دونوں خطوں کو علیحدہ علیحدہ “لوکل اتھارٹی” بنا کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فعال کیا جا سکتا تھا، اس سے آزاد کشمیر حکومت کا یو این سلامتی کونسل سے براہ راست رابطہ قائم ہوتا , عالمی سطح پر ان کی قانونی حیثیت تسلیم کی جاتی اور مسئلہ کشمیر عالمی ایجنڈے پر زندہ رہتا-

     ۵- – مئی 2025 کی جنگ اور آئندہ کا راستہ

مئی 2025 کا پاکستان کی سالمیت اور علاقائ  اقتدار اعلی پر ہندوستانی حملہ 2019 کے حملے کی عملی شکل تھی -پاکستان کے خلاف مئیُ کی جنگ صرف ہندوستان نہیں ، یورپ ، امریکہ ، اسرائیل اور روس کے خلاف دفاعی جنگ تھی جن کا ساز و سامان ہندوستان نے استعمال کیا –

 اس دفاعی جنگ میں  پاکستان نے ہندوستان پر جو حربی اور نفسیاتی  بر تری ، فتح  اور دنیا میں اثر ورسوخ اور image بنایا ہے اس کا فا ئدہ اٹھا  کے ہندوستان پر سفارتی اور سیاسی  دباؤ اور اپنی طاقت اور معیشت کو بڑھا کر کشمیر کے مسئلے کے حل پر بات چیت کے لئے مجبور کیا جائے-

  اس  نے پاکستان کو ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں وہ آئینی اقدامات  کا موقع فراہم کیا جو یہ 2019 میں کھو گیا تھا – ان میں سے کچھ درج بالا عبارت میں موجود ہیں اور کچھ مئی کی جنگ کے بعد وجود میں آئی ہیں۔ اگر حربی، ضربی اور نفسیاتی  دباؤ کو جاری رکھنا ہے تو  2019 کے سہو کا ازالہ کرنا نا گزیر ہے –

   مجھے اس میں کوئ شک نظر نہیں آتا کہ بلآخر  فیصلہ سہہ  فریقی مذاکرات سے ہی ممکن ہے لیکن اس کے لئے ہندوستان کو ٹیبل پر لانے کے لئے ان اقدامات کے زریعہ مجبور کرنے کی ضرورت ہے – جس طرح ہندوستان نے “ اوپریشن سندور “ کے نسوانی جذبے کو پاکستان کے ساتھ مسلسل جنگ کا نام دے کر ہندو  کانسٹیچو نسی کوپاکستان کے خلاف  مشتعل  کر کے جنگی ماحول  بنایا ہے  ، پاکستان کو اس کے مقابلے میں ان اہم اقدامات کے ساتھ الہامی حکم “ بنیان  مر صوص”  کے جذبے کے تحت صف  بستہ رہنے کی ضرورت ہے جس سے مئی کی جنگ میں فتح حاصل کی-

 اس میں   پاکستان کو جو حربی، نفسیاتی اور سفارتی برتری حاصل ہوئ ہے وہ بے مثال تھی – اس فوجی بر تری کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اس فضا کو استعمال کر کے بھارت پر سیاسی اور سفارتی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے، تاکہ وہ بات چیت پر آمادہ ہو۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی معیشت اور دفاعی طاقت کو مستحکم کرے، تاکہ کشمیر کے مسئلے پر عالمی برادری کو سنجیدہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا جا سکے

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے