پی ایف یو جے ،کبھی بھارت میں بھی چرچا تھا۔۔۔!!!

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کہانی دو چار دن کی بات نہیں "پون صدی” کا قصہ ہے۔۔۔!!! پاکستان کے صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پی ایف یو جے کی آج  2 اگست 2025 کو پلاٹینیم جوبلی یعنی 75 سالہ "جشن تاسیس”ہے۔۔۔۔”جشن تاسیس” پر پی ایف یو جے کے سابق صدر جناب احفاظ الرحمان کی معرکتہ الآرا کتاب” آزادی صحافت۔۔۔ سب سے بڑی جنگ” کا ایک حوالہ مجھے برسوں پیچھے لے گیا۔۔۔۔سوگوار کر گیا۔۔۔اوج کمال سے زوال کی دہائی دیتا دلخراش حوالہ۔۔۔۔احفاظ الرحمان صاحب نے اپنی کتاب میں 1977ـ78 کی آزادی صحافت کی تحریک کے باب میں لکھا کہ یہ وہی تحریک ہے جسے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بھارتی اخبار "ٹائمز آف انڈیا” نے لکھا تھا:اگر انڈیا میں بھی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس جیسی کوئی تنظیم ہوتی تو اندرا گاندھی کو یہاں ایمر جنسی نافذ کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔۔۔وہی ولولہ انگیز پی ایف یو جے جس کی بنیاد 2اگست 1950 میں کراچی کے خالق دینا ہال میں جناب ایم اے شکور اور اسرار احمد نے ملک کے جید اخبار نویسوں کے ساتھ مل کر رکھی اور پھر پی ایف یو جے کے قائدین جناب منہاج محمد خان برنا۔۔۔نثار عثمانی۔۔۔۔عبدالحمید چھاپرا اور آئی ایچ راشد نے خون جگر دیکر رخ برگ و گل سنوارا۔۔۔۔۔ آج 2اگست 2025کو اسی خالق دینا ہال میں جناب افضل بٹ اور جناب ارشد انصاری کی قیادت میں پی ایف یو جے کی پلاٹینیم جوبلی منائی جا رہی ہے۔۔۔۔پلاٹینیم جوبلی کے ہنگام ایک سوال دل کو کچوکے لگا رہا ہے کہ چٹان کی طرح مضبوط وہ  پی ایف یو جے کہاں کھو گئی جس کا کبھی بھارت میں چرچا ہوا کرتا تھا۔۔۔جس پر بھارتی اخبارات رشک کیا کرتے تھے۔۔۔۔۔؟؟؟جناب احفاظ الرحمن سے یاد آیا کہ وہ میرے ممدوح لاہور کے دو بڑے صحافیوں جناب خالد چودھری اور جناب راجہ اورنگزیب کے مداح تھے۔۔۔۔یادش بخیر۔۔۔2003 میں روزنامہ خبریں کے شام کے اخبار روزنامہ نیا اخبار کے اجراء کے لیے کچھ مہینے شہر قائد ٹھہرنا ہوا  تو باوقار یونین لیڈر جناب خالد چودھری کے ساتھ کراچی پریس کلب میں جناب احفاظ الرحمان سے برپا دو چار ملاقاتیں کبھی نہیں بھولیں گی۔۔کیا ہی نفیس اخبار نویس تھے۔۔۔۔جب بھی ملے خالد چودھری کے لیے پلکیں بچھادیں کہ چودھری صاحب نے بھی ضیا آمریت میں شاہی قلعے کی کال کوٹھریاں بھی دیکھیں۔۔۔ 500بموں کی برآمدگی کا خوفناک مقدمہ بھی بھگتا۔۔۔راجہ اورنگزیب کے بھی کیا کہنے تھے۔۔۔پاکستانی صحافیوں کے امام جناب نثار عثمانی اور جناب منہاج برنا سے فیض یاب،پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر جناب راجہ اورنگزیب بھی باکمال اخبار نویس تھے۔۔۔۔۔راجہ صاحب کو پی ایف یو جے سے اپنے بچوں کی طرح لگائو تھا۔۔۔۔وہ جناب نثار عثمانی کے ذکر پر مودب ہوجاتے۔۔۔۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی بات ہوتی تو وہ بات بات پر عثمانی صاحب کے حوالے دیتے۔۔۔بڑے فخر سے بتایا کرتے کہ کیسے وزیر اعظم بھٹو نے نثار عثمانی کو خود فون کرکے مذاکرات کے لیے بلایا۔۔۔۔ ملک گیر صحافتی یونین کے تاب ناک ماضی اور کرب ناک حال کا تقابل کرتے ان کی آواز رندھ جاتی اور آنکھییں بھیگ جاتیں۔۔۔میں نے لاہور پریس کلب میں بیٹھے کئی بار ان کے چہرے پر آنسوئوں کی لکیر دیکھی۔۔۔۔۔وہ پی ایف یوجے اور پی یوجے میں” اپنی اپنی یونین”  کے نام سے چار چار’ پانچ پانچ دھڑوں پر بہت کڑھتے رہتے۔۔۔۔۔۔2016میں حج پر جانے سے پہلے انہوں نے لاہور میں ایک زبردست دستخطی مہم چلائی اور یونین کے اتحاد کے لیے جناب  رحیم اللہ یوسفزئی اور جناب ضیا الدین کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو تجاویز بھی پیش کیں۔۔۔۔وہ پر امید تھے کہ” پشاور اجتماع” پی ایف یو جے کو یک جان کرے گا مگر واپسی پر یونین میں ایک اور دھڑے کے جنم کا سن کر رنجیدہ ہوگئے۔۔۔۔وہ آہ بھرتے اور کہتے کہ ہم نے منہاج برنا اور نثار عثمانی کے "گلستان” کا کیا حال کر دیا۔۔۔۔ایک دن کہنے لگے کہ دل کرتا ہے نثار عثمانی کے ساتھیوں کو جمع کروں اور پی ایف یو جے نثار عثمانی بنا ڈالوں۔۔۔میں نے کہا سر کہلائے گا پھر بھی ایک دھڑا؟گناہ بے لذت کا کیا فائدہ؟؟؟دلیل کے آدمی تھے دلیل مان لی۔۔۔۔جناب احفاظ الرحمان کی کتاب” آزادی صحافت۔۔سب سے بڑی جنگ” میں راجہ صاحب کے لکھے دو دلگداز  ابواب بھی شامل ہیں اور ان کی سطر سطر سے ان کا درد دل جھلکتا ہے۔۔۔راجہ صاحب ہی نہیں احفاظ الرحمان صاحب بھی جاتے جاتے پی ایف یو جے کا "نوحہ” کہہ گئے۔۔۔۔احفاظ صاحب نے عروج و زوال کی داستان کہتے ہوئے لکھا:ایک زمانے میں صحافیوں کی انجمن کا کردار مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔۔۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس جو گزشتہ سالوں میں اپنی آب و تاب کھو چکی تھی۔۔۔اب تفرقہ بازی اور تقسیم کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔۔۔بہت کچھ چلاگیا۔۔نعرے بازی رہ گئی۔۔۔اب پستی کا یہ عالم ہے کہ سڑکوں پر جانے کے بجائے صحافیوں کی تنظیمیں پریس کلبوں کے سامنےمظاہروں کا اہتمام کرتی ہیں۔۔۔۔مشکل سے تیس چالیس شرکا۔۔۔دھواں دار تقریریں۔۔۔بلند بانگ دعوے۔۔۔فلک شگاف نعرے کہ ہم وہ ہیں کہ جو جیلیں بھر دیتے ہیں۔۔۔کوئی پوچھے آپ نے کب جیلیں بھریں۔۔۔کب کوڑے کھائے؟؟؟1977ـ78کے واقعے پر کب تک گزارہ کریں گے؟؟؟پی ایف یو جے کے سابق سیکرٹری جنرل جناب مظہر عباس کا احساس تفاخر سر آنکھوں پر کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کراچی میں طلوع ہوئی۔۔۔لیکن المیہ یہ بھی ہوا کہ پی ایف یو جے کو دوسری بار” گرہن” بھی کراچی میں ہی چمٹا۔۔۔اس لیے اب  کراچی پر پی اس "داغ” کو دھونے کا قرض بھی ہے۔۔۔۔۔خدا کرے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس  کی گولڈن جوبلی تجدید عہد کا دن ٹھہرے۔۔۔۔کراچی کے خالق دینا ہال سے اتحاد کا نعرہ گونجے۔۔۔اس کی بازگشت خیبر پختونخوا تک سنائی اور پنج گوشہ پی ایف یو جے یک سو ہو کر منصہ شہود پر ابھرے۔۔۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا پلاٹینیم  جوبلی کا بھی یہی پیغام ہے۔۔۔۔۔!

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے