پشاور پریس کلب میں صحافیوں کے لئے کیاخاص جو باقی کلبوں میں نہیں

سعید صابری کی رپورٹ 

پاکستان میں قومی، علاقائی اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ صحافیوں نے ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پرسینکڑوں پریس کلب قائم کررکھے ہیں جہاں انہیں آپس میں مل بیٹھنے کا موقع ملتا ہے اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے بھی بہت سی سہولیات میسر ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ صحافی پریس کلب کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں ۔ اکثر پریس کلبوں میں اپنے ممبران کے لئے سبسڈائز کھانا،مفت انٹرنیٹ،کام کرنے کے لئے فری کمپیوٹرز،ورزش کے لئے جم اور انڈورسپورٹس کا بھی انتظام ہوتاہے ۔ کچھ پریس کلبوں کی عمارتیں بہت شاندارہیں تاہم بعض جگہوں پر برائے نام کمروں میں بھی کام چلایا جارہاہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے صحافیوں کی بہبود کے لئے پریس کلبوں کو مختلف اوقات میں گرانٹس بھی دی جاتی ہے ۔ پریس کلب مختلف اوقات میں سیمینارز، مباحثے، تفریحی پروگرام، پریس کانفرنسز،ادبی پروگرامات جیسی تقریبات کی بھی میزبانی کرتے ہیں۔
پاکستان میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے ساتھ ساتھ لاہور اور کراچی کے پریس کلب اپنے ممبران کی تعداد کے اعتبار سے باقی کلبوں سے نمایاں ہیں تاہم اگر سہولیات کی بات کی جائے تو پشاور پریس کلب نے کچھ ایسی مثالیں قائم کی ہیں جوباقی کسی شہر میں نظر نہیں آتیں۔پشاور پریس کلب نے پچھلی دو دہائیوں کے دوران اپنے ممبران کے لئے دورہائیشی سکیمیں منظور کروائیں جن میں تمام کونسل ممبران کو بہت معمولی رقم کے عوض پلاٹس فراہم کئے گئے ۔ پشاور کے صحافیوں کے لئے پہلی رہائشی سکیم سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی کے دور میں منظور کی گئی جس کانام بھی درانی میڈیا کالونی ہی رکھا گیا ہے۔ اس کالونی میں پلاٹ حاصل کرنے والے صحافی اس وقت کروڑ پتی بن چکے ہیں ۔ لگ بھگ ایک کروڑ مالیت کے پلاٹ کے لئے انہیں تین لاکھ روپے سے بھی کم رقم خرچ کرنا پڑی۔
پشاور پریس کلب نے اس کے بعد اپنے تمام ممبران کے لئے لیپ ٹاپ کا بندوبست کیا تاکہ وہ میڈیا انڈسٹری میں آنے والی جدت سے ہم آہنگ ہوسکیں ۔ لیپ ٹاپ فراہمی کا یہ عمل بھی بلاتفریق تمام ممبران کے لئے تھا۔ ذاتی سواری ہر صحافی کی ضرورت ہے لیکن اکثریت کو یہ سہولیت میسر نہیں اسی وجہ سے ان کے لئے پیدل صحافی کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ پشاور پریس کلب نے صحافیوں کی ذاتی سواری کے انتظام کے لئے موٹرسائیکل سکیم متعارف کروائی اور اپنے کونسل ممبران کو موٹرسائیکل فراہم کئے ۔ صرف یہی نہیں پشاور پریس کلب کی ممبر شپ رکھنے والے فوٹوگرافرز اورکیمرہ پرسنز کے لئے بھی ضروری سامان کی فراہمی کا بندوبست کیا گیا۔ خیبر یونین آف جنرنلسٹس کی طرف سے اپنے ممبرز کو ڈیجیٹل کٹ دی گئی جس میں ٹرائی پاڈ، مائیک، یو ایس بی اور پاور بینک شامل تھا،سوشل میڈیا کا دور آیا تو کلب ممبران کے لئے یوٹیوب چینلز،ویب سائٹس اور آن لائن کام کرنے کی ٹریننگ کااہتمام کیا گیا ۔کلب میں جدید ترین سہولیات سے آراستہ ڈیجیٹل سٹوڈیو بھی بنایا گیا ہے جہاں ممبران اپنے سوشل میڈیا اور یوٹیوب چینلز کے لئے ریکارڈنگ کر سکتے ہیں ۔
سینئرصحافی اور اینکرپرسن عرفان خان کے مطابق کلب ممبران کو بیماری کے دوران علاج کے لئے انڈومنٹ فنڈ سے ایک لاکھ روہے تک فراہم کئے جاتے ہیں اور وفات کی صورت میں تجہیز وتکفین کے لئے بھی رقم دی جاتی ہے، کلب کے جو ممبران 60 سال سے زائد عمر کو پہنچ چکے ہیں انہیں ماہوار دس ہزار روپے وظیفہ دینے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے پشاور کے سٹی میئر محمد زبیرنے بھی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی طرف سے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

 

ایک اہم بات یہ ہے کہ پشاور پریس کلب کی رکنیت سخت چھان بین اور تصدیق کے عمل سے گزرنے کے بعد ہی ملتی ہے اور ہر سال سکروٹنی کمیٹی فہرست کا جائزہ لیتی ہے۔
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری عمران یوسفزئی پشاور پریس کلب کی گورننگ باڈی کے ممبر ہیں اور ماضی میں سیکرٹری جنرل بھی رہ چکے ،وہ بتاتے ہیں پشاور پریس کلب کھیلوں کی سرگرمیوں کا بھی باقاعدہ سے انعقاد کرتا رہتا ہے اور 2017 سے میڈیا کرکٹ لیگ کے نام سے ایک کرکٹ ٹورنامنٹ ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوتا یے جس میں 16 سے زائد ٹیمیں حصہ لیتی ہیں اور تمام کھلاڑیوں کو کٹس، شوز، کیش پرائز دیا جاتاہے ۔ گزشتہ چار سال سے رمضان سپورٹس گالا کے نام سے خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب اپنے ممبران کے لئے کئی انڈور گیمز کا اہتمام کرتے ہیں جس میں صحافی رمضان کے آخری عشرے میں افطار کے بعد صحتمندانہ سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، ممبران کی صحت کا خیال رکھنے کے لئے باقاعدگی سے میڈیکل کیمپ بھی لگائے جاتے ہیں ۔ پریس کلب کے معزز ممبران کے بچوں کی تفریح طبع کے لئے بھی شہر سے باہر فیملی ٹورز کا اہتمام کیا جاتا یے۔

 

گزشتہ دو سال سے پریس کلب گرمی کے موسم میں ممبران کے لئے "مینگو پارٹی” کا اہتمام کر رہاہے۔
جو چیز پشاور پریس کلب کو ملک کے دیگر کلبوں سے ممتاز کرتی ہے وہ حکومت کی طرف سے ملنے والی گرانٹس کی شفاف اور منصفانہ تقسیم ہے۔ جی ہاں پشاور پریس اپنی سالانہ آمدن تمام ممبران پر برابر تقسیم کردیتاہے ،ممبران کو یہ رقم عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر ادا کی جاتی ہے اورسال 2024 میں اس مد میں 80 ہزار روپے کے حساب سے 466 ممبران کونقد رقم ادا کی گئی ۔ صرف یہی نہیں کلب ممبران کو بجلی بلوں کے بوجھ سے نجات دلانے کے لئے اب سولرسسٹم لگاکردینے کافیصلہ کیا گیا ہے اس منصوبے کااعلان وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور نے خود کیا ہے ۔ پشاور پریس کلب اپنے نئے آنے والے ممبران کے لئے نیو پشاور ویلی میں میڈیا انکلیو کی منظوری بھی حاصل کرچکا ہے اور ممبران کو دس دس مرلہ پلاٹ کے عبوری لیٹر بھی جاری ہوچکے ہیں۔ پشاور پریس کلب کے موجودہ صدر سینئر صحافی ارشدعزیز ملک کہتے ہیں ہماری کوشش ہے پریس کلب کو ایک مثالی ادارہ بنایا جائے اس مقصد کے لئے ہماری اولین ترجیح مالی معاملات کی شفافیت ہے یہی وجہ ہے کہ ہم پریس کلب کوملنے والی تمام گرانٹ اخراجات پورے کرنے کے بعد تمام ممبران پر برابر تقسیم کردیتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے