پہاڑی سیاحتی مقامات پر حادثات

پاکستان کا شمالی خطہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا کے کوہستان، سوات، چترال اور کالاش، آزادکشمیر اور گلیات جیسے علاقوں میں آئے دن ٹریفک حادثات رونما ہورہے ہیں۔ یہ علاقے اپنے قدرتی حسن، فلک بوس پہاڑوں، جھیلوں اور وادیوں کی دلکشی کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے جنت ارضی کا درجہ رکھتے ہیں۔ تاہم ان جنت نما خطوں میں گزشتہ چند برسوں سے سیاحت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ حادثات کی شرح میں بھی تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آئے دن کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی واقعہ ایسا رونما ہوتا ہے جو قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتا ہے۔

پاکستان میں سیاحت کا آغاز قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی سست روی کے ساتھ ہوا۔ 1980ء کی دہائی میں گلگت بلتستان، ناران، سوات، چترال، کالاش اور کشمیر جیسے علاقوں میں محدود پیمانے پر مقامی سیاحت کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ 2000ء کے بعد پاکستان میں سیاحت کو حکومتی سطح پر فروغ دینے کی کوششیں کی گئیں، جس سے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کی آمد بھی بڑھی۔ تاہم مناسب انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ عملے اور حادثات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی نظام کی عدم دستیابی ان خوبصورت وادیوں میں انسانی المیوں کا سبب بننے لگی۔

 گلگت کے علاقے چھلت نگر میں باراتیوں کی گاڑی تیز رفتاری سے موڑ کاٹتے ہوئے دریا میں جاگری، جس کے نتیجے میں دولہا سمیت ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ہوگئے۔ اسی طرح تین ہفتے قبل سکردو کے راستے میں چار نوجوان گہری کھائی میں جا گرے۔ چلاس کے قریب گزشتہ سال ایک بس حادثے میں بیس افراد ہلاک اور اکیس زخمی ہوئے۔ ان تمام حادثات میں کچھ مشترک اسباب دیکھنے میں آئے جن میں سرفہرست ڈرائیونگ میں غفلت اور عدم واقفیت ہے۔ سیاح اکثر ایسے علاقوں میں ذاتی گاڑیاں لے کر جاتے ہیں جہاں سڑکیں تنگ، موڑ خطرناک اور بلندی زیادہ ہوتی ہے۔ ان راستوں سے نابلد ڈرائیور معمولی غلطی کے نتیجے میں بڑے حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں۔

سیاحتی مقامات کی طرف جانے والی گاڑیاں اکثر پرانی، غیر معیاری اور تکنیکی جانچ کے بغیر چلتی ہیں۔ یہ مسئلہ اس وقت شدید تر ہو جاتا ہے جب گاڑی میں بریک یا اسٹیئرنگ کا نظام خراب ہو۔

پاکستان کے اکثر پہاڑی علاقے خاص طور پر مون سون اور برفباری کے دنوں میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں ہوتے ہیں، جس سے سڑکوں پر ملبہ آ جاتا ہے اور گاڑیاں پھنس یا پھسل جاتی ہیں۔حادثات کے فوراً بعد امدادی کارروائیوں میں تاخیر یا سہولیات کی عدم دستیابی سے جانی نقصان بڑھ جاتا ہے۔ اکثر مقامات پر ریسکیو ٹیمیں موجود ہی نہیں ہوتیں یا اُن کی تربیت ناکافی ہوتی ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے اگر مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیے جائیں تو یہ عمل انسانی جانوں کے ضیاع میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں کی سیاحت کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت اور مقامی انتظامیہ کو ایک فعال، مربوط اور دور رس حکمتِ عملی ترتیب دینی ہوگی۔ اس میں درج ذیل نکات اہمیت کے حامل ہیں۔ پہاڑی راستوں پر ڈرائیونگ کا خصوصی تربیتی لائسنس متعارف کرایا جائے تاکہ ناتجربہ کار افراد خطرناک راستوں پر گاڑی نہ چلا سکیں۔

سیاحتی مقامات پر گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ کے لیے چیک پوسٹس قائم کی جائیں جہاں کسی بھی گاڑی کی تکنیکی جانچ کے بغیر اسے آگے نہ جانے دیا جائے۔ریسکیو مراکز، ابتدائی طبی امداد اور ہیلی ریسکیو کے نظام کو فعال اور جدید خطوط پر استوار کیا جائے، تاکہ حادثات کے فوراً بعد امداد ممکن ہو سکے۔

عوامی آگاہی مہم کے ذریعے سیاحوں کو پہاڑی علاقوں کے خطرات، احتیاطی تدابیر اور بنیادی اصولوں سے روشناس کرایا جائے۔لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں میں دورانِ بارش سیاحتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے اور موسم کی پیشگی اطلاعات فراہم کرنے والا مربوط نظام وضع کیا جائے۔

سیاحت کسی بھی ملک کی معیشت، ثقافت اور عالمی تشخص کے لیے ناگزیر ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ انسانی جان کی حرمت کو نظر انداز کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بڑھتے حادثات نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کا سبب بنتے جارہے ہیں بلکہ پاکستان کی سیاحتی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ان حادثات کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور عملی، دیرپا اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ سیاحت محفوظ، بامقصد اور خوشگوار بن سکے

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے