ایران خطاکارسہی مگردیوار ہے گرنے نہ دیں
اسرائیل نے جب سے ایران پر حملہ کیا ہے پوری مسلم دنیا میں دو خدشات اور ایک خواہش مشترک دیکھی جارہی ہے،خواہش تو سب کی یہی ہے کہ جارحیت کے مرتکب اسرائیل کو ایسا زخم لگے کہ ایک عرصے سے آگ و خون میں ڈوبے مسلمانوں کے کلیجوں کو بھی کوئی ٹھنڈک پہنچے ، جو ستم غزہ، لبنان، شام، عراق لیبینا، یمن اور شام میں مسلمانوں پر ڈھائے گئے ہیں اس درد سے اسرائیلی بھی دوچار ہوں ۔
لیکن جہاں خواہشات ہیں وہاں خدشات بھی موجود ہیں پہلا خدشہ یہی ہے کہ کہیں ایران بھی مکمل طورپر شکست نہ کھا جائے اگر ایران یہ جنگ ہار گیا تو صرف ایران نہیں پورا عالم اسلام محکوم ہو جا ئے گا۔دوسرا خدشہ یہ ہے کہ اگر ایران بھی اسرائیل کے سامنے نہ ٹھہر سکا تو صہیونیت کا اگلا نشانہ یقینی طور پر پاکستان ہوگا۔ایران کے حالیہ بحران کو اُس کے پُرشور ماضی اور توسیع پسندانہ عزائم پر نظر ڈالے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایران میں آیت اللہ خمینی کی قیادت میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایک مذہبی حکومت قائم ہوئی، اقتدار سنبھالتے ہی شیعہ انقلابی حکومت نے اپنا مسلکی نظریہ خطے میں پھیلانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اُن کے اولین اہداف میں عراق میں سنی اکثریتی صدام حسین کی حکومت کو گرانا شامل تھا۔ نتیجتاً، ستمبر 1980 میں ایران-عراق کی ہولناک جنگ چھڑ گئی، جو آٹھ سال جاری رہی اور 1988 میں ختم ہوئی۔
اُس وقت صدام کا عراق عرب دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقت تھا۔عراق بھی خطے میں بالادست بننے کی کوشش کر رہا تھا، اور اس نے جوہری ہتھیار بنانے کی دوڑ شروع کی۔ تاہم، جون 1981 میں اسرائیل نے "آپریشن اوپیرا” کے تحت بغداد کے قریب عراق کے اوسیراک نیوکلیئر ری ایکٹر پر ایک حیران کن فضائی حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے عراق کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے میں اسرائیل کی خاموش حمایت کی، اس سے طویل جنگ کے دوران عراق کی حکمتِ عملی کمزور ہوئی۔ایران کی توسیع پسندانہ پالیسی عراق تک محدود نہ رہی۔لبنان میں، ایران نے حزب اللہ کو پیدا اور مسلح کیا۔عراق میں ایک طاقتور شیعہ ملیشیا اور سیاسی گروہ سنی دھڑوں کے خلاف کھڑا کیاگیا۔
شام میں، ایران نے علوی (شیعہ اسلام کی ایک شاخ) بشار الاسد کی حکومت کو سپورٹ کیا حالانکہ شام کی اکثریت سنی تھی۔ خانہ جنگی کے دوران ایران نے روس کے ساتھ مل کر بشار الاسد کا بھرپور ساتھ دیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 15 لاکھ سنی مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔
یمن میں، ایران نے زیدی شیعہ حوثیوں کو سپورٹ کیا، جس سے وہاں خانہ جنگی بھڑکی اور سعودی سرزمین پر بھی حملے ہوئے۔بحرین میں، ایران نے سنی حکومت کے خلاف شیعہ تحریکوں کو ہوا دی، جس سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل گئی۔
پاکستان کے اندر، ایران کی طرف سے بعض شیعہ شدت پسند گروہوں کو خفیہ مدد نے فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دی، جس میں سنی علماء اور رہنمائوں کو نشانہ بنایا گیا،خود شیعہ برادری کے بھی کئی ہزاروں لوگ فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھے، پاڑہ چنار کے فرقہ وارانہ فسادات اس کی ایک تازہ مثال ہے۔
مزید یہ کہ ایران نے اکثر اپنی پالیسیوں کو روس کے اسٹریٹجک مفادات سے ہم آہنگ رکھا۔ مثلاً، اگرچہ آذربائیجان ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے، یران نے نگورنو-کاراباخ تنازع میں ہمیشہ آرمینیا (ایک عیسائی ملک) کا ساتھ دیا، کیونکہ روس اس کا اتحادی تھا۔ اس سے آذربائیجان بدظن ہوا اور اس نے ترکی و پاکستان سے تعلقات مضبوط کیے۔
امریکہ کی عراق و افغانستان میں مداخلت کے دوران، ایران نے خفیہ طور پر مغربی طاقتوں کی مدد کی تاکہ صدام حسین اور طالبان جیسے سنیوں سے جان چھڑائی جا سکے۔ایران نے اُنہی طاقتوں کو مدد دی جن کی عوامی سطح پر مذمت کرتا رہا۔ صرف یہی نہیں ایران نے اپنے ملک میں بھی سنیوں کو سیاسی طور پر دیوار سے لگائے رکھا اور ان کے مقابلے میں یہودیوں اور بہائیوں کو ایسی رعایتیں دی گئیں جو آج ایران کے گلے پڑ گئی ہیں ۔
جنوبی ایشیا میں، جب چین نے پاکستان کی گوادر بندرگاہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی (CPEC کے تحت)، تو ایران نے توازن قائم کرنے کے لیے بھارت سے قریبی تعلقات قائم کیے۔ بھارت نے ایران کے چاہ بہار پورٹ میں بھاری سرمایہ کاری کی اور ایرانی تیل و گیس خرید کر پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی انٹیلی جنس ادارے ایران کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف جاسوسی اور آپریشنز کے لیے استعمال کرتے رہے۔
مذہبی اور لسانی مسلح گروہوں کو پراکسیز کے طور پر تقریباً سبھی ممالک استعمال کرتے ہیں لیکن ایران نے اس آپشن کا بے رحمانہ استعمال کیا، ایرانی حکومت اپنی پالیسی کی وجہ سے پوری دنیا کی شیعہ کمیونٹی کےلئے مرکز عقیدت تو بن گئی مگر یہی شیعہ کمیونٹی باقی مسلم طبقات سے بہت دور ہوتی چلی گئی، فرقہ واریت کے ہتھیار نے شیعہ سنی تقسیم اس قدر گہری کردی کہ جس کا ازالہ ناممکن نظر آتاہے۔
حالیہ دنوں میں جب اسرائیل نے ایران پر اچانک ایک زبردست حملہ کیا جس میں بتایا جاتا ہے کہ موساد کے ایجنٹ بھارتی پاسپورٹس پر ایران میں داخل ہوئے اور را (RAW) کی موجودگی سے فائدہ اٹھایا — تو ایران کی فضائی دفاعی نظام، کمانڈ انفراسٹرکچر اور جوہری تنصیبات کو صرف دو دن میں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔
اس تمام پس منظر کے باعث ایران مسلم دنیا میں تنہا ہوتا گیا،آج، اپنے متنازعہ ماضی کے سبب ایران کے پاس مسلم ممالک میں کوئی حقیقی اتحادی نہیں بچا۔ اکثر ممالک صرف زبانی مذمت پر اکتفا کرتے ہیں اور عملی مدد سے گریز کرتے ہیں۔
اگر ایران اپنی سلامتی واپس چاہتا ہے اور مسلم دنیا میں عزت بحال کرنا چاہتا ہے، تو اُسے اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنا ہوگی۔ بھارت کی طرف سے اعتماد کے استحصال کا جواب دینا ہوگا، پراکسی جنگوں کو روکنا ہوگا، اور ایک متوازن خارجہ پالیسی اپنانی ہوگی جو فرقہ واریت کے بجائے علاقائی ہم آہنگی کو ترجیح دے۔ تبھی وہ دوبارہ وقار حاصل کر سکتا ہے۔
ایران کا متنازعہ ماضی اور توسیع پسندانہ عزائم اپنی جگہ لیکن ایران اسرائیلی مذموم عزائم کے خلاف مسلم دنیا میں مزاحمت کا ایک استعارہ ہے اگر ایران کے بازو مروڑ دیئے گئے اور اسے بھی شام کی طرح اپاہج کر کے تہران میں ایک کٹھ پتلی حکومت بٹھادی گئی تو گریٹر اسرائیل عملی طور پر وجود میں آجائے گا اور پاکستان کی بقا بھی خطرے میں پڑ جائے گی ۔
اسرائیلی طیارے جس طرح ایرانی فضائوں میں آزادی سے گھوم رہے ہیں یہ پاکستان کی سلامتی کے لئے بھارت کے مقابلے میں سو گنا بڑا اور مہلک خطرہ ہے ۔ایران پر اسرائیلی حملے کی ٹائمنگ سے یہ بھی معلوم پڑتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملہ واقعی ایک ایسا فالس فلیگ آپریشن تھا جس کو جواز بنا کر ایران سے پہلے ہی پاکستان کو ٹکڑے کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔
شائد بھارت اور اسرائیل کیا خیال تھا کہ وہ مئی میں پاکستان کو قابو کر لیں گے اور پھر جون میں ایران پر حملہ کر کے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرلیں گے۔لیکن قدرت کو ایسا منظور نہیں تھا پاکستان کے خلاف بھارت اور اسرائیل کی چالیں الٹی پڑ گئیں۔اللہ کرے ایران بھی سرخرو اور اسے کبھی اسرائیل کے سامنے ناکامی نہ دیکھنی پڑے ورنہ پاکستان بھی تین اطراف سے بھارت اسرائیل اور ان کی پراکسیز کے گھیرے میں ہو گا اور دنیا بھر کے مسلمان یہود و ہنود کے پنجہ استبداد میں جکڑے ہوں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں