سرخ شعلوں میں جلتے اسرائیلی شہر حیفہ کا مکروہ چہرہ۔۔۔۔!!!

غزہ کی "قتل گاہ” رلا دیتی ہے۔۔۔صاحب دل انسان ہی کیا چشم فلک بھی "ارض انبیا”پر بدترین نسل کشی دیکھ کر خون کے آنسو رو رہی ہوگی۔۔۔20مہینےمیں 65ہزار بے گناہ فلسطینیوں کی شہادت۔۔۔”تل ابیب کے قصائی” نے 17ہزار بچے گاجر مولی کی طرح کاٹ دیے۔۔اتنی ہی تعداد میں عفت مآب مائیں،بہنیں اور بیٹیاں جام شہادت نوش کر گئیں۔۔بے گناہ خون کا ایک ایک قطرہ اپنا حساب لے گا۔۔۔یہی قدرت کا قانون ہے اور یہی قدرت کا عدل۔۔امیر مینائی نے کہا تھا:

قریب ہے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر؟

جو چپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا!

غزہ کے شہید بچوں کا معصوم خون دنیا میں ہی "حشر”برپا کردےگا۔۔۔ننھے منے خون پر "مہر بہ لب” اقوام عالم نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں ہوگا لیکن پھر  دنیا نے دیکھا کہ کرہ ارض پر اکلوتی ناجائز صہیونی ریاست چشم زدن میں اپنی ہی دہکائی ہوئی آگ میں جل اٹھی ہے۔۔۔اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور بندرگاہ کنارے صنعتی شہر حیفہ پر اسی طرح انگاروں کی  بارش ہورہی جس طرح اسرائیل 20مہینے سے نہتے غزہ پر صبح شام بارود برسا رہا ہے۔۔۔راحت اندوری بھی جاتے جاتے یہ بات کہہ گئے:

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

سرخ شعلوں میں جلتے حیفہ کا ذکر چلا تو یاد رہے کہ اسرائیل کے 4لاکھ آبادی والے اس شمالی شہر کے "کئی چہرے” ہیں۔۔۔ایک سے بڑھ کر ایک مکروہ چہرہ۔۔۔۔مثال کے طور پر یہاں اڈانی اور قادیانی جھلک ایک ساتھ ملتی ہے۔۔۔۔یعنی پاکستان اور اسلام دشمنوں کی آماج گاہ کا نام حیفہ ہے۔۔۔۔حیفہ اسرائیل کا تیسرا بڑا شہر ہے۔۔۔۔یہاں ایک بڑی بندرگاہ اور تیل کی سب سے بڑی آئل ریفائنری بھی ہے۔۔۔اقتصادی نقطہ نظر سے اہم اس شہر میں ہائی ٹیک کمپنیاں بھی موجود ہیں۔۔۔ مائیکروسافٹ ہو، گوگل ہو یا انٹیل، تمام ہائی ٹیک کمپنیوں کے دفاتر حیفہ میں ہیں۔۔۔ حیفہ کے بھارت سے تانے بانے اس قدر ملتے ہیں کہ حیفہ میں ایک بندرگاہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے اڈانی گروپ نے 2023 میں حاصل کی تھی جس کے مالک گوتم اڈانی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور انہیں ایشیا کے امیر ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔۔۔۔اس بندرگاہ کا 70 فیصد حصہ اڈانی گروپ کے پاس ہے، جب کہ 30 فیصد اسرائیل کے ایک کاروباری گروپ کے پاس ہے۔

بی بی سی کے مطابق بھارت اور حیفہ کے تعلقات  کی جڑیں 1918 کی ایک تاریخی کہانی سے جڑی ہوئی ہیں۔۔۔پہلی جنگ عظیم کے دوران، برطانیہ کی جانب سے لڑنے والے ہندوستانی گھڑسوار دستوں نے حیفہ شہر میں ترکی، جرمنی اور آسٹریا ہنگری کی مشترکہ افواج کو شکست دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔۔۔۔اس تاریخ کو اسرائیل میں شہرت ملی ہے۔۔۔۔یہ تاریخ حیفہ کے سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے۔۔۔ اگر آپ بچوں سے پوچھیں کہ ’حیفہ کا ہیرو‘ کون ہے تو وہ میجر دلپت سنگھ کا نام لیں گے۔۔اس جنگ میں جودھ پور لانسرز کے کمانڈر میجر دلپت سنگھ ہلاک ہوئے تھے اور بعد میں انہیں برطانیہ کا عسکری اعزاز ملٹری کراس دیا گیا۔۔اس جنگ میں 44 ہندوستانی فوجی برطانوی حکومت کی جانب سے لڑتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے جسے تاریخ میں گھڑسوار فوج کی آخری بڑی لڑائی کی مثال کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

بھارتی سفارت خانہ اور حیفہ میونسپلٹی ہر سال ایک ساتھ یوم حیفہ مناتے ہیں۔۔۔ جب بھارتی وزیر اعظم مودی یہاں آئے تھے تو وہ بھی وہاں گئے تھے اور ہندوستانی فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔۔۔۔دلی میں واقع تین مورتی چوک کا نام بدل کر کچھ عرصہ قبل تین مورتی حیفہ چوک کر دیا گیا تھا۔۔۔ 2018 میں اس سلسلے میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں اسرائیل کے خونخوار وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی شرکت کی تھی۔۔۔۔حیفہ میں بہائی برادری کے لیے ایک مذہبی مقام بھی ہے۔۔۔جس طرح دہلی میں لوٹس ٹیمپل ہے، اسی طرح یہاں ایک بہائی گارڈن بھی ہے۔۔۔حیفہ میں بہائی ورلڈ سینٹر بھی ہے، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔۔۔۔حیفہ کا ایک اور "مکروہ چہرہ” بھی ہے جس کا تذکرہ خال خال ہی ملتا ہے اور وہ یہ کہ حیفہ مشرق وسطی میں ہندوستان سے اٹھے "مسیلمہ مکتب فکر” کا ہیڈکوارٹرز بھی ہے اور اس کے 600 ارکان صہیونی فوج کے دست وبازو بھی ہیں۔

یادش بخیر۔۔۔۔!!!یہ 2014 کی ایوان اقبال ختم نبوت کانفرنس سے ایک روز پہلے کی شام تھی۔۔۔۔سبزہ زار لاہور کی خانقاہ میں مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب کے قدموں میں بیٹھے تھے۔۔۔جناب ڈاکٹر احمد علی سراج۔۔۔۔عزیز از جان دوست حافظ ظہیر اعوان اور جناب مفتی شاہد اور شکیل اختر بھی شریک محفل تھے۔۔۔۔چائے کادور ختم ہوا تو اجازت چاہی۔۔۔مکی صاحب کہنے لگے بیٹھیں۔۔سمندر پار  سے آپ کے ہم نام مہمان اور ختم نبوت کے محقق آرہے ہیں۔۔۔تھوڑی دیر بعد ایک دراز قد۔۔۔سرخ و سپید اور وضع قطع سے عربی مہمان اندر داخل ہوئے۔

مکی صاحب اپنے بیڈ سے اٹھ کر ان سے بڑے تپاک سے ملے اور بولے یہ ہیں امجد سقلاوی  صاحب۔۔۔یہ اردن سے ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہیں۔۔۔پھر ہم سب کا باری باری تعارف کرایا۔۔۔۔ہم نام اور پھر صحافی کا سن کر ما شا اللہ ما شا اللہ کہتے ہوئے  خلوص بھرا معانقہ کیا۔۔۔۔ہلکی پھلکی گفتگو ہوئی۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب ہمارے مترجم تھے۔۔۔۔مہمان ذی وقار نے جلدی جلدی چائے پی اور کہا مجھے فوری چنیوٹ پہنچنا ہے۔۔۔مکی صاحب نے بتایا کہ وہ مولانا منظور احمد چنیوٹی کی قبر پر حاضری دینا چاہتے ہیں۔۔۔ہم گھر واپس چل دیے جبکہ امجد سقلاوی ڈاکٹر صاحب کی معیت میں اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔۔۔لیکن ہمارا تجسس بڑھا  کہ ایک بندہ اردن سے آتا ہے اور سامان میزبان کے پاس رکھتے ہی رات کے سفر کی پرواہ کئے بغیر سیدھا مولانا چنیوٹی کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے روانہ ہو جاتا ہے۔۔

کہانی کیا ہے؟؟؟؟اگلے دن ہم نے پھر خانقاہ جا کر جناب امجد سقلاوی کو پکڑ لیا۔۔ کافی فرینک گپ شپ ہوئی۔۔۔ہم نے  سر دست دل کی بات سامنے رکھ دی کہ مولانا چنیوٹی سے شناسائی کیسے ہوئی اور اتنی عقیدت کیوں؟؟؟۔۔۔اردن کے دلکش مہمان نے بھی دل کھول کے سامنے رکھ دیا۔۔کہنے لگے پیشے کے اعتبار سے فیشن ڈیزائنر ہوں۔۔۔۔بد قسمتی کہہ لیجیے کہ ایک فلسطینی دوست کی” باتوں "میں آگیا۔۔۔چلتے چلتے اسرائیل کے شہر حیفہ میں مسیلمہ سکول آف تھاٹ کے” ارتدادی مرکز” پہنچ گیا۔۔۔”روبوٹ نما لوگ "برین واشنگ کے لئےسرگرم ہوگئے۔۔۔کئی ماہ "قصے کہانیاں” سن سن کے عاجز آگیا۔۔۔میں سوال کرنے والا آدمی ہوں۔

سوال اٹھائے تو آئیں بائیں شروع ہو گئی….میں بھانپ گیا کہ "دلدل” میں پھنس گیا ہوں۔۔۔۔۔وہاں سے واپس بھاگ نکلنے میں تو کامیاب ہو گیا لیکن سوال  اپنی جگہ تھے۔۔۔۔۔عجیب شش و پنج میں تھا کہ روشنی کی ایک کرن دکھائی دی۔۔۔۔پاکستانی عالم دین مولانا منظور احمد چنیوٹی کی کتاب کا عربی ترجمہ ملا۔۔۔۔۔اوراق پلٹتا گیا اور سوالوں کے جواب ملتے گئے۔۔۔۔

واللہ !مولانا چنیوٹی نے میرا ایمان بچالیا۔۔۔۔۔وہ میرے محسن ہیں۔۔۔۔۔ان کا حق تھا کہ ان کے دیس آنے کے بعد سب سے پہلے ان کی قبر پر حاضری دیتا تو اس لئے کل شب میں لاہور پہنچتے ہی چنیوٹ چلاگیا۔۔۔۔۔۔وہ صرف میرے ہی نہیں امت کے محسن ہیں۔۔۔۔میں نے یہ سفر ہی ان کو خراج عقیدت پیش کرنے لئے کیا۔۔۔۔.واللہ میں سرخرو ہو گیا۔۔۔۔۔!! جادو وہ سر چڑھ کر بولے….انسپائریشن دیکھییے کہ آج امجد سقلاوی اپنے ملک میں تن تنہا ختم نبوت کے لئے دن رات ایک ہوئے ہیں۔۔۔۔یوں کہہ لیجیے کہ وہ "اردن کے مولانا منظور چنیوٹی” بن چکے اور پوری قوت سے ختم نبوت کا پرچم لہرا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔!!!

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے