غریب کے بچے کی زندگی ہے نہ موت
پوری دنیا کی آٹھ ارب آبادی میں تین ارب کے قریب بچے ہیں، ان میں سے ایک ارب سے زائد ،غریبی کی ناگفتہ بہ حالت میں زندگی گذارتے ہیں۔سماج کی ناانصافیوں ، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور ریاستوں کی غیر مفید پالیسیوں کی وجہ سے کمسنوں کو اپنی نشوو نما کے لئے لازمی ضروریات زندگی، ماحول اور ذرائع و وسائل میسر نہیں آتے۔ جس کی وجہ سے وہ محنت و مشقت اور بعض اوقات ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔۔۔جس معاشرے میں انسان کے مقام اور عزت کا تعین دولت یا اس کی سیاسی حیثیت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے وہاں تو غریب کے بچے کی نہ زندگی ہے نہ موت……نامعلوم کیا چیز ہے جسے وہ عمر کہہ کے گزاردیتا ہے۔
ہر بچے کو ابتدائی عمر میں کچھ کام تو عمومی ذمہ داری کے کرنا ہوتے ہیں جو اس کی تربیت کا حصہ ہوتے ہیں اور اسے مفید شہری بناتے ہیں مگر جبری مشقت بچوں کا استحصال ہے جس میں انہیں ہر روز کئی گھنٹوں تک مسلسل غیر صحتمندانہ ماحول میں کام کرنا پڑتا ہے اور اس پر مزید ظلم یہ کہ اس کی اجرت بھی کم ہوتی ہے ۔ایسے بچوں کی زندگی کے انتہائی قیمتی سال جو ان کی تعمیر کے لئے سنہری عرصہ ہوتے ہیں، اسی بے نتیجہ مشقت میں ضائع ہوجاتے ہیں اور اس کے باوجود انہیں معاشرہ میں کوئی عزت کا مقام دینے کو تیار نہیں ہوتااور تا حیات ”چھوٹے” بن کے رہ جاتے ہیں۔
امریکی ادارے پاکستان میں کھیلوں کے سامان تیار کرنے اور قالین بنانے میں بچوں کی مشقت کا شور مچاکے ہماری برآمدات کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ خود امریکہ کے اندر کپڑے سینے کے کاروبار میں لاکھوں بچے مشقت میں لگے ہوئے ہیں جن کے معاوضے بہت کم ہیں۔ دن کی روشنی میں امریکہ کے غمگسار باسی، دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف بیانات دیتے ہیں اوررات کی تاریکی میں بنیادی حقوق کے یہ ٹھیکیدار، محنت کش گھروں کے دروازے پر کم اجرت پر سخت کام کروانے کے لئے ،دستک دیتے نظرآتے ہیں۔
اس وقت دنیا میں ،دانستہ و نادانستہ غریب بچوں پرجوظلم جاری ہے ا سکی بنیادی طور پر تین قسمیں ہیں:
ا۔ کھیتی باڑی میں اور گھریلو صنعتوں میں والدین کی معاشی مجبوریوں کے تحت کام، جو عموماً ان کی سکت اور استعداد سے زیادہ ہوتا ہے۔
ب ۔اجر ت حاصل کرنے کے لئے مشقت ، جس کے تحت بچے ایسے والدین کا معاشی سہارا بنتے ہیں جو اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں ایسی صورتوں میں پھر بچوں کو غیروں کے بے رحم ہاتھوں میں ہوٹلوں، ورکشاپوں اور فیکٹریوں وغیرہ جیسے اداروں میں کام کرنا پڑتا ہے۔
ج ۔اغواشدہ یا خریدے گئے بچوں کی مشقت جو درندہ صفت انسانوں کے ہاتھوں ناقابل بیان سلوک کے سزاوار ٹھہرتے ہیں۔ جنسی تشدد اور تذلیل اب دنیا میں ایک ناسور کی شکل اختیارکرچکا ہے۔
مذکورہ تینوں صورتوں میں سے وہ مشقت جو بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ کاروبار میں کرنا پڑتی ہے، کسی حد تک نظرانداز کی جاسکتی ہے کیونکہ اس میں وہ اپنے والدین کے ساتھ ہوتے ہیں اور انسانیت سوز سلوک سے محفوظ رہتے ہیں پھر اس میں ان کی تحقیر وتذلیل کا پہلو بہت کم ہے بہ نسبت آخری دوصورتوں کے جہاں مجبور اور کمزور نونہالوں کی عزت نفس اور جسم ، ایسے لوگوں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے جو انسانیت کے بنیادی اصولوں اور اخلاق سے عاری ہوتے ہیں۔
آخر بچے اس ستم کا نشانہ کیوں بنتے ہیں؟ ایک بنیادی وجہ تو غربت اور معاشی بدحالی ہے جس نے بعض خاندانوں کی نسلوں کی نسلوں کو اس مشقت کی چکی میں پیس رکھا ہے۔ اس کی وجوہات جو بھی ہوں بہرحال، غریب آدمی کے بچے کی قسمت میں ذلت آمیز مشقت ہی لکھی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے مارے موجودہ طبقاتی معاشروں میں ”سود ایک کا لاکھوں کے لئے مرگ مفاجات” ہے دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ، سودی معیشتوں اور افراط زر میں ڈوبتی ریاستوں کے غیر عادلانہ نظام نے غریب کے اوقات تلخ کررکھے ہیں۔
دوسری وجہ سستی تعلیم کی کم دستیابی یا مخصوص لوگوں کے لئے تعلیم مہیا ہونے کا نظام ہے جس کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہنے والے بچوں کو ایسے کام مجبوراً کرنا پڑتے ہیں جو معاشرے میں ان پڑھ اور غریب طبقہ کے لئے مخصوص ہیں۔ اس صورتحال میں وہ اکثر کم اجرت پر زیادہ مشقت اور محنت کا کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جو مزدور کی سکت اور صلاحیت سے کہیں زیادہ ہوتاہے لہٰذا ناخواندگی اور چائلڈ لیبر میں ایک درجہ کا اتفاق اور ہم آہنگی ہے جو بچوں کے استحصال کا باعث بن رہی ہے۔
تیسری وجہ وہ غیر مفید، نامناسب اور بعض اوقات بدنیتی پر مبنی لیبرقوانین ہیں۔ جب کہ بچے کوئی اجتماعی سیاسی قوت بھی نہیں رکھتے اور ان کی کوئی ایسوسی ایشن، ٹریڈ یونین اور فاؤنڈیشن بھی نہیں جو ان کے حقوق کی نگہداشت کرے۔ ان کا ووٹ بھی نہیں ہوتا کہ ان کے حقوق جمہوریت کے علمبرداروں کے نعروں کا حصہ بن سکیں اور خلاف ورزیوں پر کم از کم واویلا ہی ہوسکے۔
لہٰذا جمہوری ، مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں بھی چھوٹے انسانوں کی کوئی نہیں سنتا: تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے؛ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات !
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں