ہندوستان غصے میں کیوں ہے ؟
ہندوستان بہت غصے میں ہے – اس کی وجہ پاکستان کے ساتھ مختصر جنگ میں غیر متوقعہ نقصان نہیں بلکہ پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے علاوہ سیاسی ، سفارتی اور انتظامی سطح پر ناکامی ہے –
اس غصے کی ابتداء وزیر اعظم نریندرا مودی کے متفکر اور متکبر انداز میں داڑی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ الفاظ ہیں “ پاکستان نے ہمممممممم پر حملہ کیا-“ یعنی پاکستان نے یہ جرات کیسے کی کہ اس نے بھارت جیسے مہان عالمی طاقت پر حملہ کیا بلکہ اس کے حملے کا جواب بھی کیوں دیا ؟-
اس دکھ، حیرانگی ، شرمندگی اور غصہ کی چند وجوہات یہ ہیں ؛
نمبر ۱- 6/7 اپریل کی رات کو مبینہ طور ہندوستان کے پاکستان کو یہ اطلاع دینے کے باوجود کہ وہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے دہشت گرد اڈوں پر ٹارگٹڈ حملہ کرے گا ، اس کے علاوہ اور کہیں بھی نہیں ہوگا جبکہ پاکستان نے اس کا بھر پور اور دندان شکن جواب دے کر ہندوستان کو ہلا کے رکھ دیا اور یہ سلسلہ اس کے بعد 10 تاریخ تک چلتا رہا – یہ ہندوستان کے لئے حیران اور پریشان کن تھا جس کے لئے وہ تیار نہیں تھا-
نمبر ۲- اس عرصہ کے دوران پاکستان نے ہندوستان کے چھ جنگی طیارے بھی مار گرائے جن میں سے فرانس کے تین رافیل جنگی تیاری بھی تھی جس پر فرانس نے الزام لگایا کہ یہ رافیل کی خامی نہیں بلکہ ہندوستان کے پائیلٹوں کی نا قص کار کردگی ہے –
نمبر ۳- 10 مئی کو ہندوستان نے پاکستان کی فوجی تنصیبات پر بلا اشتعال حملہ کیا جس کے جواب میں اسی صبح پاکستان نے ہندوستان کی اہم ترین ہوائ اور فوجی تنصیبات پر حملہ کر کےشدید ترین نقصان پہنچایا جس سے خوف ذدہ ہوکر نریندر مودی کو امریکہ سے جنگ بند کرانے کی درخواست کرنا پڑی –
نمبر ۴- دس تاریخ کو ہی امریکہ نے بڑھتی ہوئ کشیدگی اور ہندوستان کو شدید نقصان پہنچنے کی وجہ سے مداخلت کرتے ہوئے دونوں ملکوں کو جنگ بند کرنے کی ہدایت کے ساتھ دھمکی دی کہ اگر وہ جنگ بند نہیںُ کریں گے تو ان کے ساتھ تجارت نہیں کی جائے گی، جس پر جنگ بندی ہوگئ -اتنا ہی نہیں اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے ٹویٹ پر یہ خبر دے دی کہ اس نے دھمکی دے کر جنگ بند کرائ – یہ ہندوستان کے لئے رسوا کن امر تھا کہ وہ ملکی معاملات میں کسی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دیتا لیکن امریکہ کی دھمکی پہ ڈھیر ہو گیا –
نمبر ۵- کشمیر کا مسئلے کئی دہائیوں کے بعد دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا کر جس کے حل کئے بغیر اس کو ایٹمی جنگ کا فلیش پوائینٹ قرار دیا-
نمبر ۶- سوائے اسرائیل کے کسی ملک نے ہندوستان کی مدد ہی کیا ہمدردی کا اظہار بھی نہیں کیا- یورپی یو نئین ، روس اور امریکہ نہ صرف لا تعلق رہے بلکہ ہندوستان پر زور دیا کہ پاکستان سے تنازعہ کشمیر کو حل کریں –
نمبر۷- اس جنگ نے پاکستانی قوم کو یکجا کردیا جو قومی اتحاد کی علامت ثابت ہوئ-
نمر ۸- قوم فوج کے پیچھے سیسہ پلائ دیوار ثابت ہوئ جس سے فوج کے خلاف کچھ طبقات کے تحفظات ختم اور فوج کے حوصلے اور بلند ہوئے –
نمر ۹- دنیا بھر میں پاکستان کا امیج ایک طاقتور ملک کے طور ابھرا جس کی زمینی اور فضائی فوج نے اپنی سرعت رفتاری کا لوہا منوایا-
نمبر ۱۰- چین اور پاکستان کے اقتصادی تعاون کے علاوہ ان کے فوجی تعاون اور قربت کے علاوہ چین کے اس اعلان نے ہندوستان اور ساری دنیا کو ششدر کردیا کہ وہ پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کا بھر پور دفاع کرے گا –
نمبر-۱۱- پہلگام کی واردات پر پاکستان کے خلاف الزام کا کوئ ثبوت پیش نہ کرنے کو دنیا نے مان ہندوستان کا الزام نہیں مانا بلکہ اس کا نریندرا مودی اور امیت شاہ کا منصوبہ قرار دیا جو انہوں نے بہار اور بنگال میں ہندو ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے ہندو سیاحوں کو مروایا –
نمبر ۱۲- پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے پر کسی تیسرے فریق کی مداخلت کا ہندوستانی منترا خود ہندوستان نے امریکہ اور سعودی عربیہ کو جنگ بندی کرانے کی درخواست سے توڑ دیا اور آج تک صدر ٹرمپ کے بیان کی خلاف ہندوستان ایک لفظ نہیں بول سکا –
نمبر – ۱۳- ہندوستان کے موقف کی کسی ملک نے حمایت نہیں کی جس کے لئے دنیا بھر میں اپنے وفود بھیجے جن سے کسی بھی ملک کی زمعہ دار اتھارٹی نے نہ ملاقات کی اور نہ بیان دیا – اس وفد کا بھجنا ہی ساری دنیا کو ہندوستان اور پاکستان کے معاملات میں مداخلت/ ثالثی کی دعوت ہے جو ہندوستان کی بے بسی اور تنہائ کا ثبوت ہے –
نمبر ۱۴- یہ حقائق وزارت خارجہ اور ہندوستانی خارجہ پالیسی کی ناکامی اور تنہائ کا واضع ثبوت ہیں –
نمبر ۱۵- جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کی رینک پر پرو موٹ کرنے سے ہندوستان کی فرسٹریشن سے مذید اضافہ ہوگیا جسے وہ تحقیر کے طور مولوی یا حافظ کے نام سے اسلامی جنگجو کہتے ہیںُ-
نمبر ۱۶- بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی کٹھ پتلی حکومت کے گرنے اور پاکستان کی ہمنوا حکومت بننے اور افغانستان سے چین کے توسط سے سفارتی سطح کے تعلقات کو ناظم الامور سے بڑھا کر سفیر بنانا ایک اور بڑا دھچکا ہے – ان حالات میں ہندوستان کا غصے میں ہونا تو بنتا ہے کیونکہ وہ پاکستان کو غزہ یا بھوٹان جیسی ریاست سمجھتا تھا جو اس کی توقعات سے بر عکس نکلا –
ہندوستان کی بی جے پی کی حکومت جس فلاسفی پر گامزن ہے وہ چانکیہ کی یہ فلاسفی ہے کہ ہمسائے کو اس کے ہمسائے کے زریعہ دبا کے اور ڈرا کے رکھو اگر وہ طاقتور ہو تو اس کے خلاف سازش کر کے کمزور اور تابع فرمان کرو اگر ایسا نہ ہو تو اس کے خلاف جنگ کرو لیکن اگر وہ طاقتور ہوجائے تو اس کے ساتھ ساز باز کرکے مناسب وقت پر چوٹ لگانے کا انتظار کرو –
یہ خوش آئیند بات ہے کہ پاکستان نے اپنی آواز اور حوصلہ ہندوستان سے بلند کر کے اس کو اسی آواز میں جواب دینا شروع کردیا ہے جو وہ سمجھتا ہے – پاکستان کو مضبوطی سے بنیان مرصوص بن کے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاھئے ، ایسی صورت میں وہ اس کو دیوتا کا درجہ دے گا – ہاں اگر ہندوستان 5 اگست 2019 سے آج تک کے سارے غیر آئینی اور مسلم کش ، کشمیر کش اور اسلام کش اقدامات واپس کر کے دوستانہ ماحول میں کشمیر اور دیگر مسائل پر بات کرتا ہے اس کو خوش آئیند سمجھ کر قبول کرنا چاھئے –
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں