مہاجرین کوٹہ ۔۔۔۔-سچ کیا ہے ؟؟؟؟
آج کے مقامی اخبارات میں عوامی ایکشن کمیٹی کے مورخہ 26 مئ کے مظفر آباد کے اجلاس میں “ مہاجرین ممبران اسمبلی کی نشستیں اور ملازمتوں میں کوٹہ ختم کرنے ، مفت تعلیم اور علاج مہیا کرنے “ جبکہ اس کے جواب میں مہاجرین ممبران اسمبلی کی پریس کانفرنس میں اس مطالبہ کو “ مقامین اور مہاجریں کی تقسیم ، اتحاد اور اجتماعی مفاد کا نقصان “ قرار دیا گیا ہے –
ایک اور خبر میں مسلم کانفرنس کے قائد سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظمُ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “ غیر ریاستی جماعتوں نے تحریک آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے “
جہاں تک مہاجرین مقیم پاکستان کی آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی کا سوال ہے یہ امر ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے – اس نمائندگی کا پس منظر یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے قیام کے وقت کسی شخص کے تصور میں ہی نہیں تھا کہ اس حکومت کا قیام سوائے اس کے کچھ اور ہے کہ یہ پوری ریاست کی نمائندہ حکومت ہے اور اس کے قیام کا مقصد پوری ریاست کی آزادی اور اس کا پاکستان کے ساتھ الحاق تھا-
یکم جنوری 1949 میں بین الاقوامی دباؤ کے تحت یواین سیکیورٹی کونسل نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا اھتمام کرایا اور سیکیورٹی کونسل کے کمیشن کے زیر اھتمام 7 جولائ 1949 کو سرحدوں کی نشاندہی کرتے ہوئے با ضابطہ جنگ بندی کا معاہدہ بھی عمل میں آیا – بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اس تاریخ سے 10 مئ 2025 تک اس “جنگ بندی لائین کے تحفظ اور اس کی حرمت” کا اسی طرح بھر پور دفاع کرتی چلی آرہی ہے جیسے پاکستان اور ہندوستان مستقل سرحدوں کا تحفظ کررہے ہیں – میرے خیال میں آئیندہ بھی جو امن یا حتمی معاہدہ ہوا وہ اس کے اندر اندر ہی ہوگا ، کیونکہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ نہ جنگ ہونے دے گی نہ اس سے کم یا زیادہ کسی کو کچھ دے گی –
اس بنیادی جنگ بندی اور کمیشن کے معاہدے کی بعد سے آزاد کشمیر کی حکومت اور سیاست دانوں اور پاکستان کی حکومت کا محور و مقصد آزاد کشمیر پر حکومت کرنا ہی رہا ، ساری جنگ و جدل اور مسئلہ کشمیر ، اس کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ اس کے الحاق کا منترا اس الحاق کے زینے ہیں ، باقی ساری زبانی جمع خرچی ہے –
اس پس منظر میں پاکستان میں آباد بااثر ، تعلیم یافتہ اور سیاست میں سر کردہ مہاجرین کشمیر جو اس علاقے کا نظم و نسق حکومت پاکستان کی معاونت سے چلا رہے تھے نے ، آزاد کشمیر کے حدود کے اندر کوئ حلقہ انتخاب نہ ہونے کی وجہ سے مہاجرین کشمیر مقیم پاکستان کے نام سے نمائندگی کا ڈول ڈالا جس میں آزاد کشمیر کے رہنے والے چند گنتی کے لوگوں نے اپنے حصے کا کیک لینے کے لئے اس آئیڈیا کو پروان چڑھایا جو اب ان کے گلے کہ ہڈی اور آزاد کشمیر کی نئی نسل کے مستقبل کے لئے ڈراونا خواب بن گیا ہے – یہ سب ایک فراڈ ہے جو پاکستانی بیوروکریسی اور آزاد کشمیر کی سیاسی برادریوں کے گٹھ جوڑ سے پروان چڑھ رہا ہے – آزاد کشمیر کے آئین کے تحت آزاد کشمیر حکومت کا کشمیر کے کے مسئلے کے حوالے سے کوئ کردار نہیں ہے اس کا کام کاج اچھی حکومت چلانا ، لوگوں کے مسائل حل کرنا ہے ، نظم و نسق درست کرنا ہے – بیس کیمپ وغیر ہ سیاسی من گھڑت اصطلاحیں ہیں ان کا حقیقت کے ساتھ کوئ تعلق نئیں ، یہ صرف مال کھاؤ کمپین ہے ، اس میں کشمیری مہاجرین نام سے لوگوں کو شامل کرنا ان کے زریعہ مرکزی حکومت میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنا اور مل جل کے بندر بانٹ کرنا ہے – یہ جو مہاجر کالو نیوں کی بات کی جاتی ہے وہ آزاد کشمیر میں بنا کے ان کو آباد کریں اگر وہ لوگ نمائندگی اور نوکریاں یہاں سے لیتے ہیں تو آباد بھی یہاں ہو جائیں – دوسرے صوبے میں مہاجرین کے نام پر بستیاں بسانا ، سیوریج اور سڑکیں پانی مہیا کرنا ان صوبوں کی زمہ داری ہے جہاں یہ لوگ پاکستان شہری کے طور رہ رہے ہیں –
ان سب مہاجرین کا اپنے رہائشی پاکستان کے صوبے میں وہی حثیت ، مقام اور حقوق ہیں ہیں جو وہاں کے باقی باسیوں کے ہیں – ان کو پاکستان کا شہری اور اس کا حصہ بننے کا آئینی مقام بھی حاصل ہے جو آزاد کشمیر کے لوگوں کو نہیں – متعلقہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبر اور حکومتی عہدے اور ملازمتیں بھی ہیں، آزاد کشمیر کے لئے مختص دو فیصد مرکزی ملازمتوں میں بھی ان کو حصہ دیا جاتا ہے اور آزاد کشمیر کی ملازمتوں سے 25 فیصد حصہ بھی مختص ہے جبکہ اسمبلی کی نشستوں کا 1/3 حصہ اور اسی تناسب میں حکومت کا بھی-
یہ سارا عمل اخلاق، انصاف ، روایات، انسانی حقوق اور آزد کشمیر کے آئین کے خلاف ہے – آزاد کشمیر اور اس کی حکومت صرف آزاد کشمیر کی حدود تک محیط ہے اس کے بعد آزاد کشمیر اور بیروُنی دنیا میں کہیں کہیںُ اس کا نام ہے ، لیکن بشمول پاکستان کوئ مقام نہیں — ان ممبران کا انتخاب الیکشن کمشن پاکستان مقامی صوبائ حکومتوں کے زیر اھتمام کراتا ہے جن پر آزاد کشمیر حکومت اور الیکشن کمشن کا کوئ کنٹرول نہیں – جس سیاسی جماعت کی جس صوبے میں حکومت ہوتی ہے اسی کی جماعت یا اس کا حمایت یافتہ شخص ہی اسمبلیُ کا ممبر منتخب ہوتا ہے – یہ ممبر اپنے صوبے کی حکومت اور جماعت کے مفاد میں آزاد کشمیر کے لوگوں کا حق مار کے ویسی ہی قانون سازی کراتا ہے اور نوکریاں یقینی بناتا ہے جو اس کی صوبائ حلقہ انتخاب کو چاھئے ہوتی ہے ورنہ اسمبلی کے 1/3 ممبران اتفاق رائے سے حکومت گرا دیتے ہیں اور یہی یہاں کی روایت رہی ہے –
25فےصد سرکاری نوکریاں اور فنی اداروں میں نمائندگی مہاجرین مقیم پاکستان کے نام پر چلی جاتی ہیں جو اعلیٰ تعلیمی سہو لیات کے لحاظ سے بہر طور مقامی لوگوں پر سبقت رکھتے ہیں – جبکہ آزاد کشمیر کی پسماندگی ، روز مرہ کی جنگی کیفیت ، صحت و تعلیم کی اعلیٰ سہولیات سے آزاد کشمیر کا ہر کونہ محروم ہے – پاکستان اور پاکستانی افواج کی جنگ بندی لائین پر جانیں یہاں کے لوگ دیتے ہیں ، بے خانمائ کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں ، اگلے مورچوں تک پاکستانی افوج کے ساتھ صف شکن سپاہی کے طور کھڑے ہوتے ہیں، ان کے حوصلے بڑھاتے ہیں ، ان کی ساتھ اپنی جانیں بھی نظرانا کے طور پیش کرتے ہیں لیکن ان کے وسائل اور حق کا 25 فیصد حصہ نمائندگی کے طور ان کو دیا جاتا ہے جن کاآزاد کشمیر کی زندگی میں کوئcontribution نہیں ہے – کیا یہ استحصال اور استعماریت کی بد ترین مثال نہیں ؟
بنگلہ دیش ابھی جس بحران سے گزرا اس کا پس نظر بھی یہی نمائیندگی / کوٹہ تھا-
میں زاتی طور حیران ہوں کہ مہاجر ہونا کوئ قومیت نہیں ہوتی ، یہ ایک کیفیت کا نام ہے جب کسی بحران کی صورت میں لوگوں کو اپنی جان مال بچانے کے لئے اپنے گھر چھوڑنے پڑتے ہیں ، دوسری جگہ آباد ہوتے ہیں ، وہاں مشکلات برداشت کرتے ہیں ان کے لئے نہ صرف حکومت بلکہ ہر زی شعور شہری کی مدد کرنا لازم بنتا ہے – ان بے خانماوں کی دوسری ، تیسری اور بعض اوقات چو تھی پشت اعلیٰ پوش علاقوں میں رہتے ، کاروبار نوکریاں ، سیاست اور قیادت کرتے ہیں وہ کیسے مہاجر ہوتے ہیں اور ان کی پرورش کا زمہ دار آزاد کشمیر کیسے ہے –
ان معزز نمائندوں کا یہ کہنا کہ ““ مقامی اور مہاجریں کی تقسیم ، اتحاد اور اجتماعی مفاد کا نقصان ہے “- حیرانگی کی بات ہے کہ جب یہ تقسیم خود قانون نے کی ہے جس کی بنیاد پر یہ فائدہ اٹھا یا جارہا ہے تو یہ عوامی ایکشن کمیٹی تو نہیں کر رہی بلکہ وہ اس غیر منصفانہ قانون اور روایت کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ آپ اس کو تقسیم کہتے ہیں ؟ اتحاد اور بقائے باہمی کو اس غیر انسانی قانون نے پروان چڑھایا ہے – اس کی وجہ سے اس خطے کے لوگوں کے حقوق تلف ہورہے ہیں جنہوں نے اس کو آزاد کرایا ہے ، اس وقت بھی آئین کے تحت اس کی شناخت سے محروم ، اس ملک کی آئینی شہریت سے محروم اور تما تر سیاسی ، اقتصادی اور انسانی مساوات کی سزا بھگت رہے ہیں – “ اجتماعی مفاد” یہ نہیں کہ اپنی جائے سکونت سے سارے فائیدے اس طرح سمیٹے جائیں جیسے وہاں رہنے کے حقدار کو ہیں لیکن ہمسایہ سے اس کے حقوق اور مفاد پر بھی اپنا حق جتلائیں –
حکومت پاکستان کو اس کا دراک کرنا چاھئے اور اس کی سرکاری ایجنسیوں کو بھی – میں تو ناز ک مسئلہ اس کو سمجھتا ہوں کشمیر کے مسئلے کو نہیں ، وہ توانا اور اس کے پیچھے ایٹمی طاقت کھڑی ہے ، آزاد کشمیر کے بے زبان لوگوں کی زبان صرف کشمیر بنے گا پاکستان کے لئے ہی چلتی ہے –
مجھے عوامی ایکشن کمیٹی سے بھی یہ شکایت ہے کہ وہ یہ جانتے ہوئے کہ آزاد کشمیر کو ایک صوبے کے طور چلایا جاریا ہے -اس پر مرکز کی طرف سے وہ سب زمہ داریاں عائد ہیں جو پاکستانی آئین کے تحت پاکستان کے صوبوں پہ ہیں لیکن اس کے لئے ان لوگوں کو مرکز کے تمام نمائندہ اداروں میں ان امور کی پالیسی سازی، فیصلہ سازی ، قانون سازی اور اس کے نفاذ کے لئے حکومت سازی ، حکومت بنانے اور ہٹانے کا حق حاصل ہے، پاکستان آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت ان کو اتنی اندرونی خود مختاری دی گئی ہے جس کے لئے ہندوستان کی ریاستیں بھی ترستی ہیں –
عوامی ایکشن کمیٹی کے ارباب صاحبان اس طرف کیوں نہیں آتے ؟ ہماری پسماندگی اور روندہ درگاہی کا سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے – یہ بات زہن میں رکھیں جب تک ریاست جموں کشمیر کا حتمی حل نہیں ہوتا ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے پاس ہی رہیں گے اور اس کےبعد بھی یہی آپشن ہے، وہ وقت نہ جانے کب آئے ، کیا آپ کی بے لوث قیادت دو نمبر پاکستانی رہیں گے ؟ اس طرف غور کریں، مہاجرین کی سیٹوں اور کوٹہ سے بڑا فی الواقع قومی مسئلہ یہ ہے –
آپ نے مفت تعلیم اور علاج کا مطالبہ کیا ہے ، قابل تحسین ہے- یہ ایک ویلفیئر ریاست کی بنیادی زمہ داری ہے – ایسا ہونا چاھئے اور ریاست کو ایسے وسائل پیدا کرنے چاھئیں جو یہ اخراجات پورے کر سکیں – ایک احتیاج کی کیفیت میں رہنے والا علاقہ جو نہ آزاد اور خود مختار ہے اور نہ کسی بڑے وسائل والے والے ملک کا حصہ اس کو ان حدود کا خیال رکھنا پڑے گا – اس سیاسی اور انتظامی کیفیت میں آپ کو اس انو کھی سیاسی درجے والے علاقے کو اس ملک کے دوسرے علاقوں سے مماثلت رکھنی پڑے گی – آپ کو یا تو اس ملک کے اندر ایک انتظامی یونٹ کی طرح کا سیٹ اپ بنانا پڑے گا یا اس ریاست جیسا ، ان دو ریاستی سٹیٹس میں سے کسی ایک کے پیٹرن پر چلنا پڑے گا – یہ حیثیت واضع کریں –
اس مالی سال کے کل اخراجات 220.033 ارب روپے میں سے وفاقی متغیر گرانٹ کے تحت 105 ارب روپے اور اضافی گرانٹ 23 ارب روپے ملا ہے – اس طرح وفاق سے آپ کو 128 ارب روپے ملتے ہیںُ جبکہ اپنی آمدن 110.45 ارب روپے ہے – اس کیفیت میں آپ نے آزاد کشمیر کیُ پیریٹی کم از کم مرکزی حکومت کے ساتھ رکھنی ہے یا کسی صوبے کے ساتھ اور کون سا نیا ماڈل ہو سکتا ہے – اس پیرٹی کے ساتھ ویسی آمدن اور اخراجات میں توازنُ پیدا کرنا پڑے گے – آپ آزاد کشمیر کے سیاسی سٹیٹس کو کس حیثیت میں رکھنا چاھتے ہیں اور اس کی لئے وسائل آمدن اور اخراجات کا توازن کیسے پیدا کر سکتے ہیں ، یہ سامنے رکھ کے اپنی جماعت کی رجسٹریشن کر کے حکومت سازی کے لئے میدان میں آکر خوش گوار اضافہ کریں- روایتی قیادت و سعادت اپ لوگوں سے لا تعلق دیوار پہ بیٹھ کے کودنے کا انتظار کر رہے ہیں – اگر آپ کامیاب ہو گئے تو اپنے باپ دادا کے وقت کی سینیارٹی مانگ کر کہیں گے کہ یہ کام تو ہمارے باپ دادا نے اس زمانے سے شروع کیا تھا –
عتیق خان صاحب کی “”غیر ریاستی جماعتوں نے تحریک آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے “ والی بات پہ انشا اللہ الگ بات ہوگی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں