ناگزیر ترقی نعمت یا وبال؟
غریب ممالک میں دولت اور وسائل کا قحط ہے اورزیادہ آبادی وبال جان بنتی جارہی ہے جبکہ دولت اور وسائل سے لدے پھندے ملکوں میں طرز زندگی ایسا اختیار کر لیا ہے کہ ماؤں کی گودیں ویران ہیں اور وراثت سنبھالنے والا کوئی جنم نہیں لے رہا؟۔۔۔ماؤں کی گود سے قوموں کے مستقبل منور ہوتے ہیں مگر جدیدنظریہ حیات اور لائف اسٹائیل ایسے کسی امکان کا راستہ روک رہا ہے۔ کیا یہ نظام سرمایہ داری کا کیا دھرا ہے کہ جس نے انسانیت کو معاشی سطح پر دو طبقات میں بانٹ دیا ہے؛ ایک سرشار اور دوسرا محروم!
ایک طرف سرشاری اور دوسری طرف معذوری۔۔۔مگر اس عدم دلچسپی کا علاج کیا ہو کہ عورت ماں بننے کو تیار ہی نہیں! ۔۔۔ اکثر غریب ملکوں میں تو مائیں اس اختیار ہی سے واقف نہیں۔ کچھ ترقی یافتہ ملکوں میں قومی اور انفرادی سطح پر بچت کرنے کا رجحان بھی بہت کم ہورہا ہے۔ بچے نہیں ہیں تو بچائیں کس کے لئے ؟۔۔۔یہ فطرت سے بغاوت کا منطقی نتیجہ ہے جس نے انسان کو اپنے ہاتھوں سے اپنی نسل نو کی گردن مارنے پر تیارکردیا ہے: جگمگاتے ہیں وحشتوں کے چراغ، عقل نے آدمی کو بیچ دیا !
گھر کی ذمہ داری اور بچوں کی پرورش صرف والدہ کے ذمے ہی کیوں؟آخر مرد کس مرض کا علاج ہیں۔یہ سوال بھی یقیناً اہمیت اختیار کر رہا ہے کہ جب معیشت کا بندوبست دونوں مل کرکررہے ہیں تو گھریلو ذمہ داریاں بھی دونوں اداکریں! یہ بات اپنی جگہ مشاہدے اور تجربے میں آئی ہے کہ باپ کے ہاتھوں میں پلے بچے اپنی سماجی تربیت کے لحاظ سے بہتر ثابت ہوتے ہیں ۔ مگر کئی سرویز اور مطالعے واضح کرتے ہیں کہ باپ گھر میں ماؤں کی نسبت ایک تہائی کم وقت دیتے ہیں۔ دراصل وہ اپنی ذمہ داری سے آنکھیں چراتے ہیں اور اس کا اظہار بھی نہیں کرتے کہ بچوں کی نگہداشت کا کام گلے پڑ سکتا ہے۔ عملاً وہ بچوں کو ڈے کئیر سینٹرز کے حوالے کر جاتے ہیں ۔
مغربی معاشروں میں معاشی تگ و دو ایک گھمبیر مسئلہ بن چکا ہے جو والدین کو زیادہ کام کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔تاہم کچھ اداروں نے اب ”خاندان دوستی” کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ملازمین کے لئے کچھ نئی سہولتیں شروع کی ہوئی ہیں۔ جس سے وہ اپنے گھر بار کی خبر گیری دفتری اوقات میں بھی کرسکتے ہیں۔ لہٰذا اب Quantity Time گھر کے لئے اورQuality Timeدفتر کے لئے ہوگا۔ مگر موجودہ معاشی سیٹ اپ میں اس کا بھی زیادہ فائدہ اس لئے نظر نہیں آتا کہ دفاتر میں کام کا وقت معاوضے کی شرح کے ساتھ وابستہ ہے۔ زیادہ وقت دینے سے اور زیادہ کام کرنے سے پیسے زیادہ ملتے ہیں۔ لہٰذا اوقات کار میں کمی سے معاشی تنگی بھی درآسکتی ہے۔ اب پیسے بچائیں یا بچے پالیں؟
والدین بے چارے توآب و دانہ کی خاطر وقت کی قید میں آگئے ہیں! معاملے کے حل کی واحد صورت یہ نظرآتی ہے کہ اخراجات، سہولیات اور ضروریات کم کرلی جائیں تاکہ کم وقت میں کمائے ہوئے کم پیسوں پر گزارہ ہوسکے۔ خواہشات کے میدان ِ کارزار میں یہ بھلا کیسے ممکن ہے؟ ۔۔۔ جب کہ ناگزیر ترقی کے ماحول میں آپ کی عافیت اسی میں ہے کہ دوسروں کے ساتھ دوڑیں بصورت دیگر پیچھے رہ جائیں گے اور کچلے جائیں گے ۔۔۔قناعت ، صبر اور توکل ،انسان کی قسمت سے نکل چکے ہیں!
بعض خوشحال عورتوں نے مسئلے کا حل یہ نکالا ہے کہ بچوں کا دکھ ہی نہ پالا جائے تاکہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ لہٰذا ان کی زندگی آزادی سے معمور ہے۔ دن کسی بنک یا ادارے میں کام کرتے، ٹینس کھیلتے اور پیانو بجاتے گزرتا ہے، راتیں اچھے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں۔یوں مستقبل کا قتل خوش اسلوبی سے ہورہا ہے؟
جاپان کی مثال لیجیے: حکومت نے عوام کو بتایا ہے کہ ملک میں بوڑھوں کی تعداد زیادہ اوربچوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔۔۔ جاپان بوڑھا ہو رہاہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی جاپان کی ایک چوتھائی آبادی عمر کے لحاظ سے ستروں بہتروں کراس کر چکی ہے۔ گھر کے محاذ پر جاپان میں مرد و عورت کی مخاصمانہ چشمک نظر آتی ہے۔ عورتوں کی کل آبادی کا نصف (جن کی عمریں25سے 30سال کے درمیان ہیں) تنہائی کی زندگی گزاررہی ہیں جبکہ کل مردوں کا 66فیصد ،جو انہیں کے ہم عمر ہیں، شادی نہیں کرپاتے۔
نوجوان تعلیم یافتہ خواتین کی شرح میں اضافے کا ایک ”فائدہ” یہ ہوا ہے کہ ان کے پاس معاشی تگ و دو کے مواقع میسر ہیں لہٰذا بطور معاشی سرپرست کے انہیں خاوند درکار نہیں ہیں۔ خاوند رکھنے کے لوازمات اور تقاضے، بچوں کی شکل میں کئی ایک مشکلات پیداکردیتے ہیں۔ اس کا” نقصان”یہ ہوا ہے کہ مرد گھر میں کام چوری سے کام لیتے ہیں اور یورپ کے مردوں کی طرح گھریلو کاموں میں خواتین کا ہاتھ نہیں بٹاتے۔
ایک سروے کے مطابق کارکن خواتین اگر گھر میں روزانہ سوا دو گھنٹے دے پاتی ہیں تو اس کے مقابلے میں مرد چھ منٹ روزانہ سے زیادہ نہیں دیتے۔ البتہ اب رویے تبدیل ہونا شروع ہوئے ہیں اور نوجوان مردوں میں گھر کی اہمیت اور بچوں کی نگہداشت کا جذبہ پروان چڑھنا شروع ہوا ہے جس کا ثبوت ان لوگوں کی طرف سے ”بچوں کی نگہداشت کلاس” میں حاضر ہونا اوردلچسپی لینا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں