ہائیکورٹ ججوں کے تبادلے
سندھ ، بلوچستان اور لاہور ہائی کورٹس سے ایک ایک جج کا تبادلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیا جانا خوش آئیند اقدام ہے ، ہندوستان میں یہ پریکٹس ساٹھ کی دھائ سے جاری ہے جہاں ہر ہائ کورٹ کے ججوں کا 1/3 حصہ دوسرے صوبے سے ہوتا ہے اور چیف جسٹس ناگزیر وجوہات کے علاوہ ہمیشہ دوسرے صوبے سے ہوتا ہے ۔
میری اطلاع کے مطابق ملک بھر میں ہائی کورٹ ججوں کی ایک سینیارٹی ہوتی ہے۔ اس سینیارٹی کے مطابق کسی بھی جج کو دوسرے ہائی کورٹ میں سینیارٹی متاثر کئے بغیر تبدیل کیا جائے تو اس اخلاقی طور بھی کوئی برائی نہیں آئینی طور تو ہے بھی نہیں ۔اس سے مقامی صوبے میں خدمات انجام دینے والے ججوں کے مقامی ، سیاسی اور سماجی دباؤ سے بالاتر رہنے کا یقینی امکان ہوتا ہے اور دوسرے صوبے کے مقامی ، معاشی ، معاشرتی اور سیاسی مسائل کا ادراک بھی ہوتا ہے، جس کے تجربے سے ملک بھر کے مسائل کو سمجھنے اور زمینی حالات کا ادراک ہونے کی وجہ سے انصاف کرنے کے اصولوں میں ملکی سطح پر ہمہ گیر نظر رہتی ہے ایک صوبے تک محدود نظر میں وسعت پیدا ہوتی ہے – اپنا ایک صوبے کا تجربہ دوسرے صوبے میں لیتے ہیں اور دوسرے صوبے کے تجربات سے خود مستفید ہوتے ہیں ۔ یہ جج جب سپریم کورٹ میں جائیں گے تو ان کا ملک بھر کے صوبوں کے socio- economic- political system کے زمینی حالات کا دراک ہوگا ۔جو ان کو آئین اور قانون کی زمینی حالات کی روشنی میں بہتر فیصلہ کرنے کا ادراک دیں گے۔یہ عمل قومی آہنگی، عدلیہ کے اندر کے نظم و نسق اور ججوں / عدلیہ کی صلاحیتوں ، استعداد اور اہلیت میں وسعت اور نکھار پیدا کرے گا ۔
تاہم تبادلہ کا اختیار ججوں کے Collegium کے پاس ہونا چاہیے جو چیف جسٹس پاکستان اور ہائی کورٹ کے ان دو چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت پر مبنی ہونا ہو جن کی ہائ کورٹ سے جج تبدیل کیا جانا یا لگانا مقصود ہو ۔
اس تجربے میں آزاد کشمیر کو بھی شامل کیا جائے تو قومی ہم آہنگی کے علاوہ آزاد کشمیر کے لئے بہت بڑی opening ہوگی جس سے آزاد کشمیر کے ججوں کو ملک کے دوسرے صوبوں اور دوسروں کو آزاد کشمیر کے سسٹم سے آگہی ہوگی جو مستقبل میں بہت کام آئے گی – اس کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی جو قومی مفاد کا تقاضا ہے ۔
آزاد کشمیر کی بیرو کریسی کی استعداد کار بڑھانے اور ملک گیر تجربہ اور تعلق پیدا کرنے کے لئے بھی یہ نظام وضع کیا جانا چاہیےجس کے تحت ایک خاص حد تک آزاد کشمیر کی بیروکریسی کو پاکستان کی صوبائ اور مرکزی بیروکریسی میں ڈیپو ٹیشن اور ضم کرنے کے ساتھ وہاں کی بیرو کریسی کو آزاد کشمیر بیرو کریسی میں ڈیپو ٹیشن اور ضم کرنے کی گنجائش پیدا کی جانی چاہیے۔
یہ بین الصو بائ ہم آہنگی کی خاطر بھی نہایت اہم ہے، میراذاتی تجربہ ہے کے قانونی اور آئینی تعلق سے زیادہ معاملات ذاتی تعلقات سے بہتر انداز میں سلجھتے ہیں ،جو اختلاط سے ہی ممکن ہے۔ اس عمل سے اعتماد کا خلاء اور بحران ہونے کا کم سے کم احتمال ہوتا ہے ۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں