تہذیب کے فرزند لا وارث کیوں ہیں !

پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت جیسے غریب ممالک میں والدین کی اکثریت کے پاس بچوں کے لئے وقت تو میسرآتا ہے مگر وہ اپنے بچوںکو بنیادی ضروریات کی فراہمی سے قاصر رہتے ہیں۔ بہتر تعلیم و تربیت کے وسائل چند فیصد طبقات کو حاصل ہیں جہاں یورپ کے ترقی یافتہ معاشروں کی ثقافتی بے حجابیاں عام ہیں۔

چھوٹے گھروں میں افراد زیادہ اور بڑے گھروں میں انسان تنہا ہیں۔ چھوٹے شہروں میں وسائل کم ہیں اور بڑے شہروں میں آدمی گم……تاہم ذرائع ابلاغ نے نئی طرز معاشرت کے سارے آداب غریب کے بچے کو بھی سکھادیئے ہیں اور اب اس کے غریب والدین اس کی خر مستیوں کے متحمل نہیں ہوپارہے۔

جنوبی ایشیا میں عورتوں کی ملازمت کا رجحان قدرے کم ہے۔ سنگاپور، ٹوکیو اور ہانگ کانگ جیسے شہروں میں بہت سی عورتوں کو ملازمت کرنا پڑتی ہے۔ جس کا اثر ان کی صحت، سرگرمیوں اور نفسیات پر بھی پڑتا ہے۔ اسی طرح کام کرنے والے مردوں پر بھی کام کا دباؤ رہتا ہے، صرف نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ بہت سے مرد، روزی کمانے سے فارغ ہی نہیں ہوتے کہ وہ اتنی چیزیں سوچ سکیں۔

عموماً مرد کے بارے میں یہی تاثر ہے کہ خاندان کے لئے اس کی گھریلو سی ذمہ داری پیسے کمانا ہی ہے۔ امیر خواتین کو گھر میں معاوضے پر کام کرنے والے بھی سستے داموں ملتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ بچوں کی دیکھ بھال اور کھانے پینے کا بندوبست بھی نوکرانیوں کے ذمہ ہوتا ہے۔ اس طرح والدین اور بچوں کے درمیان محبت کی وابستگی میں کچھ فرق ضرورآجاتا ہے۔

دوسری طرف بعض خواتین اپنے بچوں کا اتنازیادہ خیال رکھتی ہیں کہ ہر سرگرمی میں ان کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس سے بچے میں اعتماد کی کمی کے ساتھ دوسروں پر انحصار کی عادت نشوونما پاتی ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کا عموماً احساس یہ ہوتا ہے کہ ان کے خاوند گھریلو کاموں میں ان کا ہاتھ بٹائیں جبکہ مرد ایسی سرگرمیوں سے کنی کترانے کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں ،جن خاندانوں میں میاں بیوی باقاعدہ گھر بنا کر رہتے ہیں، وہ گھر کے کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیںتاہم متحرک اور مصروف زندگی کی رفتار کار اور سرعت نے بچوں کو والدین کی توجہ اور محبت سے محروم رکھا ہوا ہے۔زیادہ تر خاندان اب یہ بات سوچ رہے ہیں کہ جس طرح اپنے خواستگار کلائنٹسClients کے لئے روزانہ کے کیلنڈر میں جگہ رکھی جاتی ہے، اسی طرح وقت اور توجہ کے خواہاں لخت جگر کے لئے بھی وقت کا کوٹہ مخصوص کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

کچھ لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ بچوں کے ساتھ 9گھنٹے کی جگہ ایک گھنٹہ اگر کامل یکسوئی کے ساتھ گزاراجائے تو زیادہ فائدہ مند ہوسکتا ہے ، لیکن یہ تصور بھی کارگر نہیں ہوتا۔۔۔ اس طرح ایک تو آئیڈیل وقت کی تلاش میں ،روز مرہ کا عمومی ٹائم بھی جاتا رہتا ہے، دوسرا یہ کہ وہ اپنے آپ کو اس تصور سے دھوکہ دیتے رہ جاتے ہیں۔ مطلوبہ معیار کے حصول کے لئے بہت ساخالص وقت Pure Timeدرکار ہے تاکہ پورے ہفتے میںاچھے وقت کے دس منٹ… افراد خانہ صرف کھاناکھانے کے لئے ایک کمرے میں ایک میز پر جمع ہوں اور اس دوران بھی ساتھ ٹی وی چل رہا ہوتو کیا اکٹھا ہونے اور باہم محبت و الفت کے تبادلے کا یہ مختصر وقت صحیح صرف ہورہا ہے؟ یقینا نہیں۔تاہم اس سے والدین یہ کہہ کر خوش ہوسکتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ Quality Timeبیت رہا ہے!

بچے اپنے والدین کی طرف سے بہت سی توجہ کے خواہاں ہوتے ہیں لہٰذا ان کے لئے بہت سا وقت درکار ہوتا ہے جبکہ بعض والدین کو یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ بچے ہمارے ٹائم ٹیبل کے پابند ہیں اسے وہ قبول کرلیں گے۔ یوں نہیں ہو سکتا کہ آپ کچھ لمحے نکال کر ان سے ہنسی مذاق کرلیں اور کہیں کہ اچھا بھئی اب آدھا گھنٹہ ہم نے اکٹھے گزار لیا اب آپ اپنا کام کریں اور میں اپنا کام کروں گا۔ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ بچوں کے معمولات، گھریلوعادتیں، رسوم ورواج، مستقل مزاجی، والدین سے قربت اور یہ احساس کہ والدین انکا خیال رکھنے میں کتنے مگن ہیں…یہ سب کچھ زیادہ وقت اور رفاقت سے ہی میسرآسکتا ہے۔

بعض خاندانوں میں یہ کلچر ہے کہ والدین شام کو آتے ہی سیدھا فون اور فیکس کے ذریعے گھر سے باہر رابطے شروع کردیتے ہیں اور بچے اسی طرح منہ بسورتے رہ جاتے ہیں۔ والدین کی یہ حرکت، بچوں میں کئی نفسیاتی مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ اس سے بچے احساس محرومی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں وہ اپنے آپ کو فالتو اور بے قیمت سمجھنا شروع کردیتے ہیں جس سے ان میں اعتماد اور جرأت کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ ایسے بچے بڑوں سے باغی اور منحرف ہوجاتے ہیں ان میں مزاحمتی ذہنیت پیدا ہوجاتی ہے پھر وہ سکول میں اور گھر میں نظم و ضبط اور اصول و ضوابط توڑنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اسی طرح منتقم مزاجی کا عام مرض پیدا ہوجاتا ہے۔

امریکی ماہر نفسیات Hocs Childنے اپنی کتابThe Time Bind میں تجزیہ کیا ہے کہ ملازمت پیشہ مرد و خواتین کو بے شمار گھریلو مسائل کا سامنا ہے۔ کام کے طویل اوقات اور مختصر رخصت نے صورتحال کو گھمبیر کیا ہوا ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ گھر سے دفتر کا ماحول بہتر ہے جہاں ذہنی تناؤ کم اور سماجی سرگرمیاں یا دوسروں سے میل ملاپ زیادہ ہوتا ہے۔گویادفاتر، گھروں میں تبدیل ہورہے ہیں جو قدرے آزادی اورہلکی پھلکی ذمہ داری سے مزین ہیں اور گھروں میں دفاتر کا ماحول در آیا ہے، جہاں تناؤ اور الجھنیں انتظار میں ہوتی ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے