پاک افغان تعلقات اور چیلنجز

افغانستان کئی دہائیوں سے تنازعات اور عدم استحکام سے دوچار ہے جس کی وجہ سے اس کی اقتصادی ترقی میں کافی رکاوٹیں ہیں۔ لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود، پاکستان نے مختلف ادوار میں افغانستان کے لیے اہم حمایت فراہم کی ہے، خاص طور پر عدم استحکام اور جنگ کے دور میں۔ مہاجرین کی میزبانی، انسانی امداد، اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں پاکستان کی کوششیں افغانستان کے عوام کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ، اقتصادی روابط اور باہمی تجارت دونوں ممالک کے تعلقات میں مثبت اضافہ کرتی رہی ہیں۔

یاد رہے! افغانستان کا پاکستان پر انحصار جغرافیہ، تاریخ، اور اقتصادی تعلقات کی حقیقت ہے۔ اگرچہ پاکستان نے افغانستان کے لیے بہت کچھ کیا ہے، لیکن پشتون تحفظ موومنٹ نے اس پیچیدہ تعلق کو مزید الجھا دیا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کی تقدیریں کئی دہائیوں سے جنوبی ایشیا کے سیاسی منظرنامے کو متاثر کرتی آئی ہیں۔ جغرافیائی اور ثقافتی طور پر جڑے ہونے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل اور غیر محفوظ سرحد ہے جو پشتون اکثریتی علاقوں سے گزرتی ہے۔ یہ مشترکہ شناخت اور قربت افغانستان اور پاکستان کے درمیان سماجی، اقتصادی، اور سیاسی تعلقات کا باعث بنی، جہاں پاکستان نے افغانستان کی بقا میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر عدم استحکام کے دور میں۔

تاریخی طور پر، پاکستان نے افغانستان کے لیے ایک اہم سہارا فراہم کیا ہے، چاہے وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہو، اقتصادی تعاون، یا سیاسی مدد۔ 1980 کی دہائی میں سوویت افغان جنگ کے دوران، پاکستان نے اپنی سرحدیں لاکھوں افغان مہاجرین کے لیے کھول دی تھیں، جنہیں رہائش، خوراک، اور پناہ دی گئی۔ آج بھی، لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں، جو مقامی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بھی ڈال رہے ہیں۔

یاد رہے افغانستان کی معیشت دہشت گردی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہے ، جہاں فی کس جی ڈی پی صرف 372.62 امریکی ڈالر ہے، جبکہ 90 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے اور نصف سے زیادہ بیرونی امداد پر انحصار کرتی ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ انسانی ہمدردی اور بھائی چارے کی بنیاد پر افغانستان کی مدد کی ہے، خاص طور پر قدرتی آفات کے دوران۔ حالیہ سیلاب کے دوران پاکستان نے متاثرہ افغان عوام کی مدد کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور ہزاروں کمبل، خیمے، غذائی اشیاء، اور دیگر امدادی سامان بھیجا تاکہ ان کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ حکومت پاکستان نے 50,000 کمبل، 30,000 خیمے، 10,000 خشک خوراک کے پیکٹ، 50 ٹن ادویات، 100,000 لیٹر صاف پانی، 25,000 گرم کپڑے، 50,000 پانی کی بوتلیں اور 100 افراد پر مشتمل امدادی عملہ فراہم کیا۔ اس کے علاوہ، مختلف فلاحی اداروں نے کچن کا سامان اور دیگر ہنگامی ضروریات کی اشیاء بھی مہیا کیں اور وہاں کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ افغان عوام کی بحالی اور ان کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا تھا۔

انسانی امداد کے علاوہ، پاکستان افغانستان کی اقتصادی بقا کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تجارت افغانستان کی معیشت کا بڑا حصہ بناتی ہے۔ سمندر تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے افغانستان اپنی درآمدات اور برآمدات کے لیے پاکستانی بندرگاہوں پر انحصار کرتا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت افغانستان کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کا واحد ذریعہ ہے۔

مزید برآں، افغانستان میں سیاسی استحکام اکثر پاکستان کے اثر و رسوخ پر منحصر رہا ہے۔ چاہے وہ سفارتی کوششیں ہوں یا علاقائی سلامتی کے معاملات، پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کے قیام اور شدت پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوششیں کی ہیں۔ یہ باہمی انحصار ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان کی خوشحالی پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔

سوویت یونین کے حملے سے لے کر آج تک، پاکستان نے افغان عوام کو پناہ، امداد، اور حمایت فراہم کی ہے۔ تاہم، جیسے جیسے پاکستان میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ایک اہم تحریک کے طور پر ابھری ہے، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تحریک پشتونوں کے مسائل حل کرنے میں معاون ہوگی یا پہلے سے موجود حساس حالات کو مزید پیچیدہ بنائے گی؟

پی ٹی ایم کے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات پر گہرے اثرات ہیں۔ پشتون دونوں ممالک کی سرحد پر آباد ہیں، اور ان کی مشترکہ ثقافت پی ٹی ایم کے مطالبات کو ایک بین الاقوامی مسئلہ بنا دیتی ہے۔ لیکن یہ تحریک افغانستان اور پاکستان کے درمیان فاصلے کم کرے گی یا نئے مسائل پیدا کرے گی؟

پی ٹی ایم کا جارحانہ رویہ دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بڑھا سکتا ہے۔ افغان سیاسی رہنماؤں کی جانب سے پی ٹی ایم کی حمایت کا اظہار پاکستان میں داخلی معاملات میں مداخلت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو کمزور کر سکتا ہے۔

اگر پی ٹی ایم اپنی محاذ آرائی کی حکمت عملی جاری رکھتی ہے، تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں مزید تقسیم پیدا کر سکتی ہے۔ اس سے پشتون مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں، کیونکہ بڑھتا ہوا تناؤ سرحدی علاقوں میں مزید عسکریت کاری، اقتصادی رکاوٹوں، اور پشتون آوازوں کی مزید حاشیہ بندی کا باعث بن سکتا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے