سٹریٹ پاور یا سٹریٹ لائٹ
”میں علم و ہنر کے ساتھ محبت کی ایک تحریک شروع کرنا چاہتاہوں۔”
”کیا مطلب؟”
”مطلب یہ کہ میں چاہتا ہوں ہمارے لوگ علم سے محبت کرنے لگیں، کتابوں سے تعلق جوڑ لیں، علم و ہنرکو اپنا اوڑھنابچھونا بنالیں۔”
”تو پہلے ہم کیا کررہے ہیں؟ یہی ہے۔ کسی نہ کسی تعلیمی ادارے میں ہمارے نوجوان جاتے بھی ہیں، امتحانات بھی دیتے ہیں۔ ہمارے لوگ ڈگریاں بھی حاصل کررہے ہیں اور عموماً متوسط درجے کی تعلیمی قابلیت قسم کی چیز ہمارے ہاں میسر بھی ہے اور آپ کیا چاہتے ہیں؟”
”میں نے تعلیم کی بات نہیں کی، علم کی بات کررہا ہوں۔ ہم ڈگریاں حاصل کررہے ہیں وہ بھی جتنی اور جس طرح کررہے ہیں، آپ جانتے ہیں، ہمیں گہرے اور وسیع علم کی ضرورت ہے۔ علم میں ڈگریاں ہیں، ڈگریوں میں علم نہیں ہے۔ ہماری تعلیم جتنی بڑھتی چلی جاتی ہے علم اور فکر سے دوری اتنی ہی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔”
”ویسے علم کی ضرورت بھی کیا ہے؟ تعلیم چاہئے، روزگار کے لئے، آخر پیٹ بھی تو پالنا ہے! علم سے بھوک تھوڑا مرتی ہے بلکہ اہل علم بھوکے مرتے ہیں۔”
”علم والے بھوکے نہیں سیر ہوتے ہیں۔علم کے حصول کو تو فرض قراردیا گیا ہے۔ مومن کی میراث کہا گیا ہے، جنت کے راستوں کا نشان بتایاگیا ہے۔ قرآن بار بار تحقیق ، غوروفکراور حصول علم کی تاکید کرتا ہے۔یاد رکھئے علم امامت کی ضمانت ہے ۔ تاریخ انسانی گواہ ہے فکری وعلمی میدان میں ترقی کرنے والی قوموں نے انسانیت کی قیادت کی ہے جو جاہل ہے اسے پیروی کرنا ہوتی ہے، پیچھے چلنا ہوتا ہے۔”
”ہم تو دیکھتے ہیں کہ آج قیادت اسی کے پاس ہے جو منظم اور محفوظ طاقت رکھتا ہے۔ قوت کے زور سے قیادت پر براجمان ہو جاتا ہے، دوسروں کو اپنے پیچھے لگا کر دولت کے بل بوتے پر لوگوں کو اپنادست نگر بناسکتا ہے، وہی قیادت کرتا ہے۔”
”اونٹ کو نکیل ڈالی ہوتو چوہا بھی جدھر چاہے اسے لے جاسکتا ہے۔ آپ اس قوم کی بات کر رہے ہیں جسے کم عمری میں نکیل ڈال دی گئی ہو۔میں عالمی سطح تک کی انسانی قیادت کی بات کر رہا ہوں۔ ویسے آپ والی قوم کو بھی علم و شعور اور فکر کی جرات ہی کے ذریعے نجات مل سکتی ہے، غلامی سے۔دوسری طرف عالمی انسانی تاریخ اٹھا کے دیکھئے وہی قومیں قیادت کے مرتبے پر فائز ہوئی ہیں، جنہوں نے علم و حکمت سے اپنا رشتہ استوار کیا ہے۔”
”زیادہ علم تو آدمی کو گمراہ کردیتا ہے۔ عقل عیارہے، سو بھیس بدل لیتی ہے! پھر علم انسان کو کسی حد تک بے عمل بھی کردیتا ہے! انسان پھر اسی پیچ و خم میں رہتا ہے کہ ”یوں ہوتا تو کیا ہوتا اور یو ںہوتا تو کیا ہوتا۔”
”ہاں یہ بات درست ہے لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے جب آدمی اپنی محدود عقل ہی کو سب کچھ سمجھ لیتا ہے، چراغ راہ کو منزل جان لیتا ہے۔علم کو ایمان کے تابع کرلیا جائے تو گمراہی نہیں پھیلتی نہ ہی بے عملی درآتی ہے۔ ایمان و یقین ضمیر کو روشن کرتا ہے اور اس روشنی کے ذریعے، شعوراور جذبے کو بیک وقت کام میں لایا جائے تو انسان اشرف المخلوقات ہونے کا حق ادا کرسکتا ہے۔ ہمیں تو ” اقراء باسم ربک ” کہا گیا ہے۔یعنی اپنے علم و شعور کو وحی و الہام کے ساتھ جو ڑ لو۔ رب العالمین پر ایمان و یقین دراصل شعور کی بنیاد ہے۔ جب ایمان کے تابع علم ہو اور علم کا مقصود معرفت ذات معرفت الٰہی ہو، تعمیر انسانیت اور بندگی رب ہو، تو پھر علم سے بڑی کوئی طاقت اس دنیا میں کوئی نہیں۔”
”لگتا ہے آپ مغربی دنیا سے اتنے مرعوب ہیں کہ احساس کمتری کا شکار ہوئے جاتے ہیں۔ حالانکہ جدید علوم و فنون جو "ٹیکنالوجی ” سے لیس ہیں، انسانی تباہی کا باعث ہیں۔ ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت، احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات۔”
” جی ہاں صحیح کہا آپ نے ، اہل مغرب نے علم و ہنر کو وحی و الہام سے خود محروم رکھا ہے اس لیے ان کا فن اپنے لیے مفید اور دوسروں کے لیے خوفناک ہتھیار بن گیا ہے۔وہ اگر اس محرومی کو دور کر لیں تو ان کے عروج کو دوام مل سکتا ہے، بصورت دیگر زوال ان کا بھی مقدر ہو گا ہماری طرح۔لیکن یہ یاد رکھیں یہ خالی خولی علم جس سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر جدید علوم ہیں وہ بھی ہاتھ میں ہو تو یدبیضا سے کم نہیں ۔”
” پھر وہی ذہنی مرعوبیت کی باتیں!”
”یہ تلخ حقیقت ، آپ تسلیم کرتے ہیں کہ اس وقت دنیا کی قیادت اہل مغرب کے پاس ہے۔ آپ کی لاکھوں جانوں کا فیصلہ چند کوڑیوں کے عوض کردیا جاتا ہے۔ آپ کے وسائل سے آپ ہی کو ختم کرنے کے سارے منصوبے تکمیل پاتے ہیں اور آپ ہی کے لوگوں کے ذریعے روبہ عمل لائے جاتے ہیں۔ خدا جانے آپ کب سمجھیں گے کہ جدید علوم پر اہل ایمان کی دسترس کتنی ضروری ہے۔ آپ کے خون کا سیلاب وہ چاہیں تو پانی کردکھائیں، آپ کی قربانیوں کو وہ چاہیں تو آپ کے ہاتھوں ہی ضائع کروادیں۔ سادگی اپنی بھی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ۔ آپ بس ”سٹریٹ پاور” تیار کرتے رہیے وہ اپنی سٹریٹ لائٹ کے ذریعے آپ کے چہرے پہچان لیں گے اور اسی سٹریٹ میں آپ کو دفن کرنے کے منصوبے بنائیں گے۔”
”ہمارے پاس بھی ایک وقت دنیا کی قیادت تھی۔ عوامی حمایت تھی، قوت تھی، ”
”جی بالکل، دراصل اس وقت ہمارے پاس ایمان کی دولت، اخلاق حسنہ کی تاثیر اور علم کی طاقت تھی۔ہر شہر میں کتب خانوں کی کثرت تھی۔ دنیا کے عظیم ترین عالموں ، فلسفیوں، طبیبوں ، ادیبوں اور مورخوں کی فہرست دیکھیں آپ کو ہر طبقے کے راہنما مسلمان نظر آئیں گے۔ سینکڑوں لوگ تھے جن کی تصنیفات اور تعلیمات دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں کے نصاب میں صدیوں تک موجود رہی ہیں۔ جدید یورپ کے استاد یہ اہل ایمان ، اہل علم تھے۔بر اعظم یورپ اور اہل مغرب جب ”تاریکی کے دور” سے گزررہا تھے اس وقت مسلمان فکرو عمل اور تہذیب و تمدن کی معراج پر تھے۔ مگر، گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی؛ ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا۔”
”آپ کی بات اگرتسلیم کر لی جائے تو اس نظام تعلیم کا کیا ہوگا؟”
” نظام تعلیم کو بدلنے کے لئے آپ کو ٹھوس علمی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ یہ محض مطالبے جلسے اور جلوس سے نہیں بدلا جاسکتا۔ہمارے نوجوانوں میں سے ہر فرد اپنے ذوق ، دلچسپی اورصلاحیت کے مطابق اپنے مستقبل کے شعبہ علم و فن کا تعین کرے۔ پھر اس میں کمال حاصل کرنے کا جنون پیداکرے۔ اسے زندگی اور موت کا مسئلہ بنالے ۔ جب وہ عملی زندگی میں جائے گا تووہ ایک غیر معمولی شخص ہوگا۔ ایک مکمل تبدیل شدہ انسان ! ایسے لوگوں کی قیادت میں لوگ تبدیل ہوتے ہیں۔
قیادت تو لوگوں کو تبدیل کرنے کا نام ہے۔ قلوب و اذہان پر حکومت کا نام ہے۔ لوگ آپ کی پیروی کریں ، آپ کی عادتیں اپنالیں۔ اپنی امانتیں آپ کے سپرد کرنے پر تیار ہو جائیں۔ آپ سے خیر کی توقعات باندھنا شروع کردیں۔ آپ کے علم اور عمل پر مکمل اعتماد کرلیں،ایسی ہی قیادت ہماری ضرورت ہے۔…یوں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتی ہے۔ یوں نظام تبدیل ہوتے ہیں۔ یوں انقلاب آتے ہیں!!!”
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں