جماعت اسلامی ہربارخالی ہاتھ کیوں؟

جماعت اسلامی بجلی کی قیمتوں میں آئے روز ہونے والے اضافے اور آئی پی  پیز کے ساتھ کیپسٹی پے منٹ  معاہدوں کے خلاف دس دن سے راولپنڈی میں دھرنا دئیے  بیٹھی ہے۔ پاکستان میں دھرنوں کے حوالے سے جماعت اسلامی کی ایک منفرد تاریخ رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے ماضی میں دھرنے کے ذریعے ہی بینظیرکی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور باوردی صدر پرویز مشرف کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا تھا لیکن کیا اب بھی دھرنے سے کچھ حاصل ہو گا؟ یہ تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا  لیکن ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ کامیابی اگر مل بھی گئی تو اس میں جماعت کاحصہ بقدر جثہ ہی ہو گا اور اصل ٹرافی کسی اور کو تھمادی جائے گی ۔ جماعت اسلامی کے نظریاتی کارکنوں کی محنت کا پھل ہمیشہ دوسروں کی ٹوکری میں ہی گرتا رہا ہے۔جماعت اسلامی اپنی باکردار  پڑھی لکھی قیادت نظریاتی کارکنوں اور مثالی نظم وضبط کی وجہ سے پاکستان سمیت مسلم دنیا میں اپنی خاص پہچان رکھتی ہے ۔ بھارت برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک میں بھی جماعت اسلامی کی مضبوط جڑیں موجود ہیں۔ آٹھ دہائیوں پر مشتمل اپنی تاریخ میں اس نظریاتی جماعت میں کبھی بغاوت نہیں ہوئی۔ نقطہ نظر کے اختلاف پر ڈاکٹر اسرار مرحوم اور جاوید غامدی جیسے عظیم دانشور اگر جماعت سے الگ بھی ہوئے تو احترام کا رشتہ قائم رہا۔ اپنی بے پناہ نظریاتی فکری اور تنظیمی خوبیوں کے باوجود جماعت اسلامی سیاسی میدان میں محدود سطح پر بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکی جس کا خواب کارکنوں اور عوام کو دکھایا جاتا ہے۔  جماعت اسلامی کی ایک بدقسمتی یہ ہے کہ اسے اپنی ایک کامیابی کو دوسری کامیابی کے لیے زینہ بنانے کا فن نہیں آتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے ہر بار صفر سے شروعات کرنا پڑتی ہے۔

زیادہ دور نہ جائیں 1996 کی بینظیر حکومت کے خلاف دھرنا ہی دیکھ لیں۔ حکومت مخالف احتجاج اور قاضی حسین احمد مرحوم کی قیادت میں دیئے گئے تاریخی دھرنے کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ تو ہو گیا لیکن کامیابی کے ثمرات نواز شریف کی جھولی میں ڈال دیئے گئے۔ مشرف کی آمریت کے خلاف مذہبی جماعتیں متحد ہوئیں تو جماعت اسلامی بھی اس اتحاد میں سرگرمی سے شامل ہوئی۔ احتجاج اور ملین مارچ کا سلسلہ شروع ہوا تو جماعت کے کارکن سب سے آگے تھے ۔مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے مذہبی جماعتوں کو ووٹ بھی ملا اور حکومت کرنے کا موقع بھی۔۔۔لیکن بدقسمتی کہیں یا حکمت عملی کی کمزوری۔ جماعت اس کامیابی کو بھی مستقبل کی بڑی کامیابی کی بنیاد نہ بنا سکی۔ یہ پہلاموقع تھا جب جماعت اسلامی کو چاروں صوبائی اسمبلیوں۔  قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی ملی لیکن ملکی سیاست میں اپنے لیے اتنی جگہ بھی نہ بناسکی جتنی ایک ایک سیٹ والی پارٹیاں بھی بنا لیتی ہیں۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان نے میئر کا الیکشن جیتاتو شہر میں انقلاب برپا کر دیا لیکن دوسری مدت کی باری آئی تو شہر ایم کیو ایم کی نظامت میں  چلا گیا۔جماعت اسلامی نے وکلا کے ساتھ مل کرججوں کی بحالی کی تحریک چلائی تو کامیابی کا سہرا نواز شریف کر سر باندھ دیا گیا۔

پانامہ کا مسلہ جماعت اسلامی سپریم کورٹ میں لے کر گئی تھی مگر کامیابی ملی تو کریڈٹ سارا عمران خان لے گیا۔ عمران خان کی حکومت سے جب لوگ تنگ ہوئے تو آواز اٹھانے والوں میں جماعت اسلامی بھی پیش پیش تھی لیکن جب عمران خان کو اقتدار سے ہٹایاگیا تو نئے سیٹ اپ میں جماعت اسلامی کے حصے میں مزید احتجاج کے سوا کچھ نہیں تھا۔عام انتخابات میں بھی جماعت کو ووٹوں سے زیادہ دھچکے ہی لگے۔ اب یہ نظریاتی درویش آئی پی پیز کا مسئلہ لے کر سڑکوں پر بیٹھے ہیں شائد یہ نہیں جانتے جو طاقتیں آئی پی پیز کی بینیفیشری ہیں وہ سولر کے کاروبار کی طرف جارہی ہیں اسی لیے تو میڈیا پر آئی پی پیز کے خلاف باجماعت کوریج کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ جب آئی پی پیز کا مسلہ گوہر اعجاز اٹھائیں تو جماعت کے نظریاتی دور اندیشوں کو سمجھ جانا چاہئے تھا موصوف کے دل میں یہ ہمدردی اشاروں کے بغیر نہیں جاگی۔ ہوسکتا ہے آئی پی پیزسے معاہدوں پر نظرثانی یا کسی ریلیف کے کریڈٹ کا ٹوکرا اس بار جماعت اسلامی کے حصے میں بھی آ جائے  لیکن یہ کریڈٹ اس ہیلتھ انشورنس جیسا ہی ہو گا جس کے تمام فوائد کسی معذوری یا موت سے مشروط ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی اپنے کارکنوں کے اخلاص و توانائیوں کو سدابہار حکمران اور فیصلہ ساز طبقے کے گھناؤنے مقاصد کی نذر نہ کرے۔ جماعت کی دیندار قیادت کو مشورہ ہے وہ حضرت ایوب ؑ کے صبر کو اپنے لیے رول ماڈل بنائے اور ایوب ؑ کی اس وفادار بیوی کی حکمت عملی کابھی جائزہ لے جس حکمت عملی کا سہارہ لے کر وہ پیغمبر خدا کو مشکل سے نکالنا چاہتی تھیں لیکن ایوب ؑ ہر بار اس مخلص بیوی کی تدبیر کو یہ کہہ کر مسترد کر دیتے کہ یہ تدبیر پروردگار کی منشاء کے مطابق نہیں ۔ایوب ؑ اپنی بیوی کو شیطان کے وسوسوں اور چالوں سے بھی خبردار کرتے رہتے۔۔جماعت بھی آج کی شیطانی طاقتوں کے جال میں نہ پھنسے اور ہربار جلد بازی میں نتائج کے چکر سے نکل کر صبر کا دامن تھام لے ورنہ وہی راستہ اپنائے جو سید مودودی کی رائے تھی کہ جماعت اسلامی سیاست کی بجائے تعمیر سیرت پر توجہ دے ۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے