مسرت کی خاطر بکھرتے خاندان

اس وقت دنیا کے امیر ممالک میں خاندان کا نظام بکھرتا جارہا ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ میں شادی کا ادارہ زوال و زبوں حالی کا شکار ہے۔ تمام ترقی یافتہ ممالک میں طلاق کی شرح میں بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے۔ یک ولدی خاندانوں (Single Parents) کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے مظلوم بچے بڑھتے جارہے ہیں جو شادی کے بندھن ٹوٹ جانے کےبعد ،بے گھری کا شکار ہوجاتے ہیں یا غریب ماں کے ساتھ چمٹے رہ جاتے ہیں۔
امریکہ میں زیادہ گھمبیر صورتحال ہے، جہاں ہر پانچ کالے امریکی خاندانوں میں سے تین یا چار خاندان اس بحران سے دوچار رہتے ہیں۔ یہ سماجی تنزلی کی وہ پہلی سیڑھی ہے جہاں سے انسانیت، غربت، ظلم اور جرائم کے سمندر میں لڑھک جاتی ہے اور معاشرے میں محرومیوں ، تنہائیوں اور مایوسیوں کا دور دورہ ہونے لگتا ہے۔ یہ ناسور اب کالے امریکیوں سے بڑھ کر سفید فام امریکیوں، برطانوی باشندوں اور یورپ کے ”مہذب” معاشروں میں پھیل چکا ہے۔
امریکہ اور یورپ میں خاندان اور کنبے کے قدیم تعمیری نظام بھونچال کا سامنا کررہے ہیں جس کا نتیجہ طلاق میں اضافے اور شادی کے بغیر ولادتوں کی بھرمار کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے۔ امریکہ کے کئی شہروں میں دس میں سے ایک خاندان ایسا ملتا ہے جس کے گھر کی چاردیواری میں کوئی باپ بھی رہتا ہے۔
دنیا میں طلاق کی شرح جن چند ممالک میں سب سے زیادہ ہے، ان میں امریکہ بھی شامل ہے۔ شادی کا ادارہ تباہ ہونے کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ خود شادی کا تصور ٹوٹ رہا ہے۔ جس سے معاشرے کی بنیادی اکائی، خاندان معرض وجود میں آتا ہے۔ ہر سال تقریباً پانچ لاکھ نو بالغ ،ناجائز بچوں کی مائیں بن چکی ہوتی ہیں، جبکہ ان میں سے چند ایک بچے باپ کے گھر میں پلتے ہیں۔ ان بچوں میں سے لڑکیاں اپنی والدہ اور لڑکے اپنے والد کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔
تیس سے چالیس سال کی عمر کی چالیس فیصد عورتیں طلاق حاصل کرلیتی ہیں جبکہ پینتالیس سے پچپن سال کی عمر کی عورتوں میں طلاق لینے کا تناسب چھتیس فیصد ہے۔ ایک امریکی ادارے کی اپنی رپورٹ کے مطابق ان طلاقوں کی اکثریت شادی سے پہلے ناجائز اولاد کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہے۔ سویڈن میں کل شرح پیدائش میں سے تقریباً نصف شادی کے بغیر ہوتی ہے۔ بیس میں سے دس بچے ”ماں اور باپ” کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ سویڈن شادیوں کی آدھی تعداد طلاق پر منتج ہوتی ہے۔ یک ولدی خاندانوں میں اضافے کی شرح 18فیصد سے زیادہ ہے۔
برطانیہ میں بچوں کی اکثریت اپنے ”فطری والدین”کے ساتھ رہتی ہے جو کہ شادی شدہ ہوتے ہیں۔ تاہم بیس فیصد یک ولدی خاندان میں گزارہ کرتے ہیں جو کہ عموماً طلاق یافتہ ہوتے ہیں، اور دوبارہ شادی سے احتراز کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر مائیں کم سنی میں والدہ بنی ہوتی ہیں۔ تین میں سے ایک پیدائش بغیر شادی کے ہوتی ہے ، جن میں سے نصف باپ کے بغیر زندگی کا آغاز کرتے ہیں کیونکہ والد بزرگوار کہیں اور سدھار جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اداروں کی رپورٹس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا میں نوجوان لڑکیوں میں یہ سوال عام ہے کہ بچہ جننا کافی ہے یا ماں بننا ضروری ہے؟۔۔۔تاہم اس کا جواب وہ سوال کے پہلے حصے کی صورت میں اپنے عمل سے دے رہی ہیں۔ بغیر شادی کے بچوں کی پیدائش کی شرح میں روز افزوں اضافہ، اس بات کا ثبوت ہے، جو آئس لینڈ میں کل ماؤ ں کا 58فیصد ، سویڈن میں پچاس فیصد، ڈنمارک میں 47فیصد، فرانس میں 35فیصد برطانیہ میں 33اور امریکہ اور کینیڈا میں 32فیصد ہے۔
(مذکورہ اعداد وشمار، مستند عالمی میگزینز سے لی گئی ہیں۔ پاکستانی معاشرے کے بارے ایسے اعداد میسر نہیں)

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے