ٹپکے کا آم اور انتشاری سیاست

” ٹپکے کا آم کبھی کھایا ہے آپ نے؟”

          ”کئی کھائے ہوں گے، ہمیں اس سے غرض نہیں کہ وہ ٹپکے کا ہو یا فارم کا۔۔۔اس سلسلہ میں ہمارااصول یہ ہے کہ آم ہونے چاہئیں اورعام ہونے چاہئیں۔ شرط یہ ہے کہ میٹھے ہوں۔۔۔ اب آم کھانے میں فلسفہ اور دانش کا کیا تعلق؟ ہمیں آم کھانے سے غرض ہے۔ ہمیں فائدہ ملنا چاہیے، ہم یہ باتیں عرصے سے سن رہے ہیں ہمیں تبدیلی چاہیے”۔

          ”دراصل ٹپکے کا آم وہ ہوتا ہے جو خوب پکا ہوا ہو۔ قدرتی اور فطری ماحول ، اپنے درخت کے ساتھ لگا رہا ہو، متعین وقت تک اصل کے ساتھ رہے اور رس بھرا میٹھا اور پختہ ہو کر میسر آئے۔ اب میٹھا اور رس بھرا تو آپ بھی چاہتے ہیں۔ یہ خصوصیات، آم میں اسی وقت پیدا ہوں گی جب وہ ٹپکے کا ہوگا!  تبدیلی وہی مفید ہو گی جو درجہ بہ درجہ فطری اصولوں کے مطابق آئے، فطرت  کے کارخانے ایک رات میں اچانک تبدیلی نہیں  آتی۔ فطرت ارتقاء کو مانتی ہے، انقلاب کو نہیں، کتنے انقلاب ہیں جو فساد سے شروع ہوئے ، فساد پر ختم۔ معاشرے وہیں کے وہیں۔ کشت و خون میں نہاکے بھی۔”

          ”دیکھیں جی!انسان فطرت کے کاموں کو مکمل کرتا ہے ۔ اس سلسلہ میں انگریز بہادر زندہ باد ۔۔۔اب ایسے کیمیاوی ”مسالے” تیار ہوگئے ہیں جو آم کو تھوڑے وقت میں کھانے کے قابل بنادیتے ہیں ۔ لوگوں کے پاس اتنا وقت کہاں کہ وہ آم کے درخت کے ساتھ پکنے کا انتظارکریں اور پھر مارکیٹ میں جب مانگ ہوتی ہے تو ایسے کام جلدی میں کرنا پڑتے ہیں۔ اس طرح دوہرا فائدہ ہوتا ہے۔ آم کے آم، گٹھلیو ں کے دام!”

          ”مان لیتا ہوں مگر مصنوعی طریقے سے پیداکی گئی مٹھاس اور رس کے وہ اثرات نہیں ہوسکتے جو فطری طریقوں سے پکے ہوئے پھلوں کا لازمی حصہ ہیں۔ خاص طور پر ایسی صورت میں جب انہیں اپنے اصل اور بنیادی ماخذ سے علیحدہ کرلیا جائے ۔ پھول توڑ لیا جائے تواس کی خوشبواور رنگت کے ساتھ اس کی زندگی بھی ختم ہوجاتی ہے۔ پھر یہ تو قدرت اور فطرت کی قوت وبصیرت پر عدم اعتماد کرنے والی بات ہوئی ناں!”

          ”ناں بھئی ناں ۔ فطرت کا انتظار نہ کریں،  فطرت کو ساتھ لے کے چلیں۔ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ ہتھیلی پر سرسوں جمائیں، تیل کو آگ دکھائیں اور بس۔بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے۔”

          ”ویسے بات توآم کی ہورہی ہے، آپ آگ برسانے پر اتر آئے ہیں۔  مجھے تو آپ کے خیالات سے بارودی ذہنیت کی بو آنے لگی ہے۔ یہ جتھا سازی کی ذہنیت، یہ احتجاج اور انتشار کی نفسیات۔ آخر یہ لشکریت مزاج  لوگ اس قوم کے ساتھ سنگین مذاق کب تک کرتے رہیں گے۔ آپ بارود کے ڈھیر پر آگ پھینکنے کا کھیل کیوں پسند کرتے ہیں؟  ”

          ”دیکھیں زندگی میں تبدیلی یوں ہی آتی ہے۔ صفائی درکار ہے ناں!گندگی کے متعفن ڈھیروں کا علاج انہیں جلانے کے علاوہ ہو بھی کیا سکتاہے؟ سب چور  لٹیرے میرے ملک کو گھیرے ہوئے ہیں۔ایک تو آپ جیسے بے عمل دانشور ہمیں کچھ کرنے نہیں دیتے۔ چکنی چپڑی باتوں سے قائل کرلیتے ہیں۔ ڈھیلی ڈھالی باتوں سے ہمیں کند کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں تو فوری نتیجہ چاہئے۔ یہ کیا کہ آدمی اپنی سوچوں کا ہی اسیر رہے۔ بار بار چھلنی میں سے دودھ کو گزارتا رہے ۔ ہمیں تو لہریں  گننے سے بہتر یہ لگتا ہے کہ آدمی خود طوفان بن جائے۔ اور پھر یہ تو واضح ہو چکا ہے کہ ہمارے مسائل کا علاج تو انقلاب ہے! کیا سوتے رہنے اور سوچتے رہنے سے کوئی بڑی تبدیلی آسکتی ہے؟ انقلاب کے راستوں پر کچھوے کی رفتار کس کام کی؟”

          ”پہلے یہ سوچ لیجئے کہ  تبدیلی اور انقلاب خود منزل ہے یاا س کے نتائج مطلوب ہیں۔ وہ دیر تک رہنے والے اثرات جو دنیا اور انسانیت کو خیر کی راہوں پر گامزن کرسکیں اور شر سے محفوظ رکھ سکیں۔…اگر تو محض  تبدیلی،انقلاب ، بدتہذیبی مقصود ہے تو پھر رینگنے اور مدد کی بھیک مانگنے کی واقعی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ ابھی اٹھیں، مجھے بھی چند تھپڑ رسید کریں، گھر جائیں اور گھروالوں کی ایسی کی تیسی پھیردیں، پھر محلے والوں کی خبر لیں۔اس طرح ہر طرف سے ہاؤ و ہو کی صدائی بلند ہوں ، گریبان چاک ہوں، کھلبلی مچے، گولیاں چلیں،  تبدیلی اور  انقلاب کے فوارے پھوٹ نکلیں۔۔۔”

          ”خیر ایسا بھی نہیں خیر ہمارا مطلب یہ تو نہیں ہے۔ ہم عام لوگوں کا کشت و خون نہیں چاہتے نہ ہی بدامنی کے ذریعے کوئی تبدیلی لانے کے خواہش مند ہیں۔چند بڑے چوروں کو پکڑیں اور پھانسی دیں، باقی سب خود سیدھے ہو جائیں گے۔”

” بس وہی شدت اور انتہاپسندی  کے شعلے، وہی لشکریت کا جنون۔۔۔وہی طاقت کے زور پر دوسروں کو زیر کرنے اور سر جھکانے کی بے چینی۔۔۔ آزادی اور انصاف کے نام پر خواہشات کی غلامی، مفادات کی پوجا۔ مذہب کی آڑ میں اپنے گھٹیا اغراض پوری کرنے کی تبدیلی ۔ مسلح جتھا تیار چور چور کے نعرے، ایوانوں  پر ہلہ بول دے اور حکومت کے سارے اختیارت اپنے ہاتھ میں لے لیں اور انصاف نافذ کردے جو ساتھ نہ دے آپ کے ہاتھوں سے شعلے نہ خریدے وہ بھی چور کا ساتھی، جو ادارہ آپ کی  اخلاقی کرپشن کا ساتھ نہ دے وہ بھی غدار، جو عدالتیں آپ کی چوری پکڑیں وہ بھی چوروں کی ساتھی۔  آپ کی مخالفت کرنے والی عوام  غلام۔ انارکی  اور انتشار کی پھنکار ہر طرف۔”

          ”نہیں یوں بھی ہم نہیں چاہتے ۔ ہم پرامن تبدیلی کے خواہاں ہیں ۔”

          ”تو پھر آپ کو جلدی کاہے کی ہے! جب حقیقت یہ ہے کہ آپ کوئی کچا پلا انقلاب نہیں چاہتے ، دوررس تبدیلی چاہتے ہیں۔ جس کی بنیادیں ٹھوس اور دیرپا ہوں۔ تو پھر چور، آگ  اور پھانسی کے الفاظ اور ارادے سے اجتناب کریں۔اس معاشرے میں ایسی تبدیلی کی ضرورت ہے، جو سراپا خیر ہو اور خیر کے ذریعے ہی عمل میں آئے۔ لوگوں ، اداروں کو ، طبقات کو ایک دوسرے سے لڑاکر آگ ہی لگے گی جو سب کو بھسم کر دے گی، انتشار کی سیاست پوری قوم کو تباہ کر رہی ہے، اس  تباہی کے ذمہ دار آپ ہونگے اور اس کا شکار  آپ بھی ہوکے رہیں۔ آگ کے شعلے اپنا پرایا نہیں دیکھتے، انتشار کے نعرے اور کاوشیں آپ کو بھی اکٹھا نہیں رکھ سکیں گے۔”

          ”درست کہا آپ نے  ہمار امعاشرہ سو طرح کے الجھاؤ کا شکار ہے۔۔۔ مگر ہماری  بھی کچھ سرخ لکیریں ہیں ۔”

بس ان سرخ لکیروں نے خون خون کر دیا ہمارے معاشرے کو ، شدت پسند اور انتہا پرست  سیاست ہو یا مذہبی واردات، کہیں کا نہیں چھوڑتی ریاست اور سیاست کو  ۔۔۔اور کوئی بے حکمتی کا فیصلہ اور کوئی غیر محتاط قدم منزل سے دور لے جاسکتا ہے۔ آپ بھی جلدی اور نادانی میں ، اپنی انا کے خول میں بند، اپنے پیدا کردہ خوف میں مبتلا، اپنی بداعمالیوں کے انجام سے منہ موڑ کر، ہر جرم دوسروں کے گلے مڑھنا چاہتے ہیں۔ آپ کچھ وقت کے لیے کچھ فسانہ پسند جوانوں کو جنون میں مبتلا کر سکتے ہیں، نفسیاتی حربوں سے نشے  میں بدمست کر سکتے ہیں ، لیکن پوری قوم کو انتشار کا شکار کر کے ، دیر تک چھپن چھپائی کوئی نہیں کھیل سکتا۔   

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے