گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر؟

کیا واقعتا کوئی معاشرتی بگاڑ موجود ہے یا یہ کچھ لوگوں کا وہم ہے؟ ۔۔۔۔بہت سے لوگ اس دکھ کا اظہار کرتے ہیں کہ انسانی معاشرہ ہر پہلو سے ایک تخریب اوربگاڑ کا شکار ہے ،جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ زمانہ اپنی رفتار اور معیار کے مطابق ارتقاء کا سفرکر رہا ہے۔ ان کے خیال میں بگاڑ اور زوال کی باتیں کرنے والے لوگ دراصل معاشرتی تبدیلیوں کا ادراک نہیں رکھتے اور یہ کہ وہ ماضی کی پسماندگی کے ساتھ چمٹے رہنے کو ہی تعمیر سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ سماجی زندگی میں تبدیلی کے ساتھ ہی ترقی وابستہ ہے اور جوں جوں ہم اپنے خیال اور رویے تبدیل کررہے ہیں توں توں ہم تہذیبی ترقیوں کے زینے چڑھ رہے ہیں۔
اس اختلاف رائے کی بنیادی وجہ بناؤ اور بگاڑ ، تعمیر اور تخریب کے مختلف ، تصورات اور متضاد پیمانے ہیں۔ کوئی معاشی حالات کی بہتری کو بہر صورت ترقی سمجھتا ہے۔ بے شک اس کے نتیجے میں یا اس کے ساتھ ساتھ انسان شرم و حیا ، ہمدردی، خلوص اور مروت و اخوت جیسے جذبوں سے عاری ہوتا چلا جائے ۔ کچھ لوگ غریب رہ کر بھی باحیاء، باوفا اور بامروت رہنے کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر اپنی معیشت کی بہتری کواپنے اخلاقی اوصاف کے ساتھ مشروط کرکے چلتے ہیں۔ وہ اخلاقیات کی قیمت پر معاشیات کی ترقی حاصل نہیں کرنا چاہتے۔
ترقی کا تصور ، فلاح و کامیابی کا پیمانہ اور ارتقاء کا معیار دراصل انسان کے اس نقطہ نظر کے ساتھ وابستہ ہے جو وہ اپنی زندگی، اپنے مقام اورمقصد حیات کے بارے میں رکھتا ہے۔
زندگی کا مقصد اور مقام متعین کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان یہ معلوم کرے کہ خود کائنات کا وجود کس لئے ہے؟ کیا اس کا پیداکرنے والا، اس کو چلانے والا، اس کو نشوو نما دینے والا اور اس کی نگہبانی کرنے والا کوئی ہے یا یہ سب کچھ اتنی حکمت، تنظیم، تسلسل اور ہم آہنگی کے ساتھ خود بخود چلتا جارہا ہے؟ اس سلسلہ میں جب ایک واضح مربوط اور مفصل نظریہ میسر آجائے تو اسی کے مطابق زندگی کا نقشہ ترتیب پانے لگتا ہے۔ترقی و تنزلی کے سارے پیمانے بھی اسی کے مطابق ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔
وہ فرد جو مذکورہ بالا سوال کی بابت یہ نتیجہ حاصل کرتا ہے کہ کائنات بے خدا ہے ، اپنے آپ سے کچھ طبعی قوانین کے نتیجے میں چلتی چلی جارہی ہے۔ اس کائنات کی سب سے منفرد ہستی، انسان بھی اپنی میکانکی اور طبعی ضروریات کو پورا کرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ اس شخص کی زندگی کا تانابانا ،ایسے دوسرے فرد سے بالکل مختلف بلکہ متضاد ہوگا جو یہ سمجھتا ہے کہ کائنات ایک خالق ، مالک، پروردگار اور فرمانروا کے حکم اور مرضی کے تحت ایک خاص منزل کی طرف گامزن ہے جس میں انسان بھی اپنی مخصوص ذمہ داری کے تحت اپنے لئے مختلف وسائل کو استعمال کرتا ہوا، زندگی گزاررہا ہے۔
اول الذکر آدمی ایک آزاد و خود مختار زندگی جی رہا ہوگا جس میں ہر طرح سے اولیت اس کی خواہشات اور ضروریات کی تکمیل کو حاصل ہوگی جبکہ موخرالذکر ایک ذمہ دار اور منکسر المزاج شخص ہوگا جو جوابدہی کے احساس کی بدولت محتاط زندگی بسر کررہا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ پوری انسانی زندگی کا تفصیلی نقشہ آدمی کے نظریہ حیات ہی عکس ہوتا ہے جسے اس نے ”ایمان” کا درجہ دے رکھا ہو ۔ دوسرے الفاظ میں انسانی سرگرمیوں کا محور اور اس کی اخلاقیات کا جو ہر اس کی ایمانیات ہی ہیں۔ اخلاق یعنی عادات اور رویوں کا تعلق ایمان کے ساتھ وہی ہے جو درخت کا بیج کے ساتھ ہواکرتا ہے۔ گلاب کا پھول اپنے بیج ہی کے خواص کا مظہرہوتا ہے۔
ایمان کی بنیاد پر ایک طرف تو اخلاق کی عمارت تعمیر ہوتی ہے اور دوسری طرف ترقی، عروج اور فلاح و کامرانی کے پیمانے میسر آتے ہیں۔ اب جس کاایمان یہ ہے کہ ۔۔۔دنیا کا وجود اتفاقی ہے، کسی خالق کی حکمت، مشیت اور صناعی اس میں کارفرما نہیں ہے اور انسان کی زندگی دیگر جانداروں کی طرح کچھ طبعی قوانین کے تحت ،جو اپنے آپ سے معرض وجود میں آگئے ہیں، بسرہورہی ہے۔
یہ زندگی پہلی اور آخری زندگی ہے جس کی جوابدہی کسی بااختیار ہستی کی عدالت میں نہیں ہوگی۔۔۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خواہشات کی بہتر طریقے سے تکمیل ہی کو کافی سمجھے۔ اس کے لئے تعمیر یہ ہے کہ اس کی ساری ضروریات پوری ہورہی ہوں۔ اس کے لئے بگاڑ یہ ہے کہ وہ زندگی کی آسائشوں سے دور رہے۔ اس کے لئے ناکامی یہ ہے کہ وہ زندگی میں لطف اندوز ی سے محروم رہے۔
جبکہ دوسری طرف وہ شخص جو یہ ایمان رکھتا ہے کہ ۔۔۔کائنات کا نظام رب ذوالجلال کے حکم اور مشیت کے تحت چل رہا ہے اور انسانی زندگی ایک مہلت عمل ہے جس کا نتیجہ ایک ایسی زندگی میں عدل و انصاف کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر میسر آئے گا، جو ہمیشہ کی زندگی ہے اور اس زندگی کی خوشگواری اور ناگواری کا دارومدار دنیا کی اس عارضی زندگی کی سرگرمیوں پر ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے