علامہ محمد اقبال اور کشمیر

علامہ اقبال تحریک ازادی کشمیر کے بانیوں میں تھے کیونکہ ان کا تعلق خطہ کشمیر سے تھا ۔
آپکا خاندان 18صدی کے وسط میں کشمیر سےہجرت کرکے سیالکوٹ میں آباد ہوا۔ تحریک پاکستان سے بہت پہلے نظریہ کشمیر کے بارےمیں بات کرتے تھے ۔
پاکستان سے زیادہ انھیں کشمیر کی فکر لاحق تھی۔ علام اقبال کو اس بات کا بہت افسوس تھا کہ 16 مارج 1846کو طے پانے والے بدنا م زمانہ معاہدہ امرتسر کے تحت کہ انگریزوں نے 75 لاکھ نانک شاھی کے عوض ڈوگرہ شاھی خاندان کو زندہ انسانوں کو زمین سمیت فروخت کر دیا۔ روئے زمین پر ایسی کو ئ نظیر نہیں ملتی۔ ڈوگرہ دور میں عوام سے جبراً بیگار لی جا تی تھی ،چولھوں، روشندانوں، دروازوں، کھڑکیوں ،چھتوں ،غرض ہر چیز پر ٹیکس تھا۔ ظلم وستم ڈھائے جاتے لیکن بولنے کی اجازت نہیں تھی ۔
اس پر اقبال بہت افسردہ تھے وہ وہاں سے غربت وافلاس ختم دیکھنا چاہتے تھے ۔ انھو ں نے اس کا اظہار اپنی شاعری میں بھی کیا ۔ ایک جگہ فرماتے ہیں : "” توڑاس دست جفاکیش کو یارب۔۔ جس نے روح آزادی کشمیر کو پامال کیا””۔
تمام کشمیر ی قیادت اپنے مسائل اور مشکلات لیکر آپ کے پاس ہی آیا کرتے تھے۔ آپ نے سب کی مشاورت سے آل انڈیا کمیٹی کی بنیاد رکھی۔
انھوں نے کشمیر کے حالات کے بارے متحدہ ہندوستان میں ہڑ تال کی اپیل کی جو کامیاب رہی ۔
1921 میں کشمیر کا آخری وزٹ کیا اس کے بعد ڈوگرہ حکومت نے اجازت نہیں دی ۔ آپ نے ہر ذرائع سے کشمیریوں کو ڈوگرہ حکومت کے خلا ف آواز بلند کر نے کے لئے تیار کیا۔
اقبال نے تاکید کی ہر صورت حال کا مقابلہ کرنا اور آزادی کی جہدوجہد جاری رکھنا ہے ۔ وہ کشمیر ی عوام کی رگ رگ میں بستےتھے ۔
13جولائ 1931 کے سنٹرل جیل سرینگر کے باہر کے واقعہ جس میں 22کشیمریوں نے اپنے سینے پر گولیاں کھا کر اذان مکمل کی اس واقعہ پر انھوں بہت دکھ کا اظہار کیا ۔
انھوں نے چندہ اکٹھےکرنے اور قانونی مدد فراہم کرنے کے لئے نامور وکلا کےساتھ کشمیر کو دورہ کرنے کی کوشش کی لیکن ڈوگرہ حکومت نے اجازت نہیں دی ۔
علامہ اقبال نے شیخ عبداللہ کو بھی راہ راست لانے کی کوشش کی لیکن وہ بہک گیا بعد میں اپنی کتاب آتش چنار میں ذکر کیا کہ کشمیریوں کا علا مہ اقبال سے بڑھ کر کوئ غمگسار اور ہمدرد نہ تھا۔
علامہ اقبال نے دو قومی نظریہ کی بنیاد 1930 میں خطبہ الہ آباد میں رکھی۔ مغربی تہذیب اور فکر کا پوسٹ مارٹم کیا۔ انھوں نے ہندوستان کے مسلمانوں کو فکری محاذ پر حیات نو دیا انگریزوں اور ہندوؤں پر واضح کیا کہ ہندوستان میں ایک نہیں دو قو میں ہیں۔ انھوں نے قائد اعظم محمد علی جناح ؒکو بہت مشکل سے مسلمانوں کی قیادت کرنے پرمجبور کیا۔
آپ انڈیا مسلم لیگ کے صدر تھے ،آپ نے خود مستعفی ہو کر قائد اعظم کو تاحیات صدر بنایا۔کہا کہ آپ مسلمانوں کے بہترین لیڈر اور وکیل ہیں۔
افسوس پاکستان تو قائد اعظم کی قیادت میں اس خطے میں وجود میں آگیا۔مگر آپکی وفات کے بعد جو حشر ھمارے حکمرانوں نے پاکستان اور عوام کا کیا وہ دنیا کی بد ترین مثال ہے ۔ عوام بنیادی سہولیات کے لئے ترس رہے ہیں۔
صرف قائد اعظم اور حضرت علامہ اقبال کے مزارات پر حاضری ہی ہے۔ انکے سنہری اقوال کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے