سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ، کلرکو کریسی کے ہتھے
شہریوں سے متعلق ُسرکاری ریکارڈ بنانے، رکھنے اور قواعد پر عملدرآمد کرانے والے سرکاری آفیسر س بیرو کریٹ کہلاتے ہیں – ان ہی کے ساتھ مختلف معاون کے طور کام کرنے والے “شکمی بیرو کریسی” کو عرف عام میں “کلرکو کریسی “ کہا جا سکتا ہے – مجھے زاتی طور کلرکو کریسی کے ساتھ کبھی واسطہ نہیں پڑا لیکن ان کے زخم خوردہ شہریوں کی داد فریاد بیس سال تک سنتا اور نپٹاتا رہا ہوں جن کی غلط کاریوں کی جواب دہی ان کی بیروکریسی کو کرنا پڑتی تھی اور اس بات کا مجھے دکھ ہوتا تھا کہ کرے کوئ ، بھرے کوئ اور نقصان عام شہری کا ہو –
عدلیہ میں مجھے ایک بار چند مہاجرین کی شکایت سننے کا اتفاق ہوا جن کو ریاستی باشندہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں کلرکو کریسی نے زچ کیا- ان کا شور شرابا سن کر کچھ غیر متعلقہ مرکزی حکومت کے بیروکریٹس نے ضلع کے بڑے اور مجاز بیروکریٹ نے بھی کلرکو کریسی سے اتفاق کرتے ہوئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا – ہائ کورٹ میں مجھےرٹ کی سماعت کا موقع ملا ، میں نے ضلع مجسٹریٹ اور آزاد جموں وکشمیر کونسل کے سیکریٹری سے تبصرہ طلب کیا – انہوں نے بھی کلرکو کریسی سے اتفاق کر کے بڑے پر جوش انداز میں بظاہر مضبوط مگر کھوکھلے دلائل دئے، کیونکہ ان کے پیچھے بھی وہی پردہ نشین تھے جنہوں ضلع مجسٹریٹ سے زیر کار کاروائی میں حکم جاری کروایا تھا – بہر حال میں نے رٹ منظور کرتے ہوئے قانون کے مطابق مقررہ مدت کے اندر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا حکم جاری کیا جو قانونی جریدہ —PLJ 2001 AJ&K 33 – میں رپورٹ بھی ہوا- اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر درخواست گذاروں کے حق میں سشناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی جاری ہوا ہے اور وہ لوگ اب ملک اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں باعزت روز گار اور زندگی گزار رہے ہیں-
وادی کشمیر اور جموں میں وکالت کرنے والے چند مہاجرین وکلاء نے میرے ہوتے ہوئے آزاد کشمیر میں وکالت کا لائسنس جاری کرنے کے لئے درخواست دی جن کے خلاف بھی ماتحت عملہ نے پہلے تو مجھے غیر متعلقہ لکین با اثر مرکزی بیروکریسی کے تحفظات بتا کر زبانی ایسا کرنے سے منع کیا جس پر میں نے ان کو کہا “ آپ کے پاس ان کے خلاف جتنے اعتراض ہیں یا ہو سکتے ہیں وہ لکھ کر پیش کریں” ، انہوں نے جو کچھ ہو سکتا تھا وہ لکھ کے لایا ، جسے میں نے مسترد کرتے ہوئے لائسنس جاری کردیا، جس کی بنیاد پر انہوں نے پاکستان بار کونسل میں بھی رجسٹریشن کرائ اور آج لاھور ، اسلام آباد اور دیگر جگہوں پر وکالت کررہے ہیں – اس طرح اس قسم کی درجنوں مثالیں ہیں جہاں کلرکرکو کریسی کی گرھیں کھلوانے میں لوگوں کو زلیل کیا جاتا ہے – ممکن ہے کلرکو کریسی کسی نادیدہ طاقت ، نفس ، مہنگائ یا عادت سے مجبور ہوکے ایسا کرتے ہوں لکین اس کے لئے جواب دہ پورے سسٹم کو ہونا پڑتا ہے – یہاں سے نا انصافی کی بنیاد پڑتی ہے جو بلآخر عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھا تی ہے- اس حقیقت کا ادراک صرف وہی کر سکتا ہے جو اس اذیت سے گذرتا ہو-
آمدم بر سر مطلب گذشتہ دنوں مجھے اپنے ایک عزیز نے اسی طرح کے عمل سے گزرنے کی بپتا سنائ جس کا سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ 2005 کے زلزلے میں لائبریری کی فائلوں اور کتابوں سمیت تلف ہوگیا – وہ خود کینیڈا میں تھا جس کو پاکستانی شناختی کارڈ کی بنیاد پر وہاں کا NICOPبھی جاری ہوگیا تھا لیکن پاکستانی شناختی کارڈ Expire ہوگیا تھا جس کی تجدید کرنے/ نیا جاری کرنے کے لئے مظفرآباد نادرا کے دفتروں میں چکر لگاتا رہا لیکن جواب یہ ملا کہ اس کے لئے بنیادی دستاویز سٹیٹ سبجیکٹ ہے- ان سے کہا گیا کہ کہ آپ اس کارڈ کی بناء پر جاری کریں جس بناء پر پہلے جاری کیا تھا جو اب ایکسپائر ہوگیا ہے لیکن کسی نے نہ مانی اس لئے اس کو مظفر آباد میں متعلقہ مجسٹریٹ کے دفتر سے رابطہ کرنا پڑا جہاں کسی کلرک محترم نے کہا کہ آپ خسرہ گرداوری کی نقل لائیں ‘ جب کچھ دنوں بعد وہ اپنے والد صاحب کی لے کے گیا اس نے کہا اپنی لائیں جب اس کو کہا گیا اس کے نام تو کوئ زمین ہی نہیں ، اس نے کہا اپنے باپ کے نام جمعببدی اور مثلقیت لے آئیں ، وہ لے کے گیا تو اس کہا گیا کہ حقوق ملکیت کی سرٹیفکیٹ لائیں – درخواست گذار نے کہا یہ سب کچھ آپ ایک ہی بار کہہ سکتے تھے اور وہ بھی درخواست ؤصول کرکے متعلقہ اتھارٹی کا حکم لے کے کہہ سکتے تھے، تم نے درخواست بھی واپس کی اور وہ بھی اس پر متعلقہ مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر مجھے چکر لگاتے رہے حالانکہ میں نے اپنے والد صاحب اور بھائ کا سٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ ساتھ لگایا اور قانون کے تحت یہی سٹیٹ سبجیکٹ کے لئے حتمی ثبوت ہے، اس نے کہا مجھے نہین پتہ کس قانون کے تحت ہے یہ وکیل جانیں ‘ ہمیں یہی ہدایات ہیں – مجسٹریٹ صاحب کے پاس شکایت کے بعد معاملہ ان ہی دستاویزات کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس منظوری کے لئے بھیجا گیا جہاں کے کلرک صاحب نے پھر کلرکو کریسی والے ثبوت مانگے – ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی نوٹس میں آنے کے بعد ان ہی دستاویزات پر منظوری ہوگئ لیکن سرٹیفکیٹ ایک یا دوسرے بہانہ کی بنیاد پر آج تک نہیں مل سکا جس کی وجہ سے اس نوجوان کا CNIC ، ڈرائیونگ لائسنس ، بینک اکاؤنٹ اور روز مرہ کی دیگر سر گرمیاں ممکن نہیں ہو سکیں –
مجھے ایک اور کیس کی بھی زاتی علمیت ہے کہ میرے محلے دار ایک حجام کی وفات کے بعد اس کے بیٹے کو والد کا سرٹیفکیٹ ہونے کے باوجود زمین کے کاغذات اور ان میں اپنے اندراج کے لانے کے لئے ایڑیاں رگڑائیں – اس کے پاس زمین نہیں تھی وہ کہاں سے لاتا اور جب باپ کا سرٹیفکیٹ موجود تھا تو کسی اور ثبوت کی کیا ضرورت تھی – اب وہ بھی فوت ہوگیا ہے – نہ معلوم اس کو بعد میں ملا یا نہیں – یہ اتنے ظالم لوگ ہیں – ایک دن میں نے اس کو کہا کہ تم DC صاحب کو مل اور شکایت کرو – اس نے معصومانہ طور جواب دیا ملنے بھی نہیں دیتے اور اگر مل بھی لوں پھر بھی کام ان ہی لوگوں نے کرنا ہے-
جہاں تک سٹیٹ سبجیکٹ کا تعلق ہے یہ آزاد کشمیر کے آئین کی دفعہ دو کے تحت مہاراجہ کشمیر کے زمانے کے قانونی نو ٹیفکیشن No-I – L/ 84- , Dated 20 April 1927 کے تحت جاری ہوا ہے جس کے تحت ریاستی باشندگان کے تین درجے اور غیر ریاستی کمپنی کا ایک درجہ مقرر ہے – ریاستی باشندہ درجہ اول وہ شخص قرار دیا گیا ہے جو خود یا اس کے والدین مہاراجہ گلاب سنگھ کی حکومت سے پہلے ریاست میں رہائش پذیر ہو گیا جبکہ درجہ دوئم اور سوئم کے لئے رعیت نامہ پر زمین حاصل کر کے دس سال کی رہائش کا ثبوت ہونا ضروری ہے اور ایسی غیر مقیم لوگوں کی کمپنیاں جو مقامی معاشی حالات کے لئے ضروری ہوں وہ سٹیٹ سبجیکٹ درجہ چہارم رجسٹر کی جا سکتی ہیں – اسی گزٹ نوٹیفکیشن کے نوٹ ( ii ) کے تحت ریاستی باشندہ کی اولاد بھی اسی درجہ کی سٹیٹ سبجیکٹ ہوگی جس کا اس کا باپ یا دادا تھا – اگر اس کے باپ یا دادا کا سرٹیفکیٹ موجود ہے تو اس کے لئے اس قانون کے تحت کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں لیکن اگر یہ ثبوت موجود نہیں تو اس کا ثبوت مہیا کرنا ضروری ہے ، جس کا اہم ترین ثبوت اس کے باپ دادا کی زمین یا رعیت نامہ ضروری ہے – کسی زمانے میں ایک حکومتی نو ٹیفکیشن کے تحت مہاجرین مقبوضہ کشمیر کے لئے دو مہاجرگزیٹڈ آفیسر کا بیان حلفی ہونا ضروری ہے – اب سننے میں آیا ہے کہ مہاجر کارڈ کی بنیاد پر جاری ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی دو گزیٹڈ آفیسرس کا بیان حلفی طلب کیا جاتا ہے –
سیدھے سادھے لوگوں نے یہ سیدھا سادھا قانون سال 1927 میں بنایا تھا جس کو کلرکو کریسی نے ہندوستانی CAA جیسا قانون بنا دیا ہے جس کے تحت مسلمانوں کو اپنے ہندوستانی Origin کے ہونے کا ثبوت فراہم کرنا ضروری ہے یا رومانیہ کے 1938 کے قانون کے مطابق وہاں بسنے والے یہودیوں کو یہ دستاویزی ثبوت فراہم کرنا ضروری تھا کہ وہ رومانیہ کی سر زمین میں پیدا ہوئے تھے اور رومانیہ کی شہریت کے حقدار ہیں ، اگر یہ نہ ہو تو پانچ سال کے لئے بر طانوی فوج میں ملا زمت کا سر ٹیفکیٹ ہو – یہ زمانے کی کلرکو کریسی نے کمائ کا ایک نیا اور منافع بخش زریعہ پیدا کردیا جس سے وہ خود اور وہ ادارے مسفید ہونے لگے جن سے جائیںز یا ناجائیز ثبوت بنوایا جاتا تھا –
ہماری بیرو کریسی اور کلرکو کریسی کو یہ بات زہن میں رکھنا چاھئے کہ نہ وہ “ ہندوستانی ہندوکرپٹو/ کریسی” ہے جو مسلمانوں کے خلاف بغض رکھ کر Citizen Amendment Act ) CAA کے تحت شہریت کا سرٹیفکیٹ جاری کرے اور نہ ہی رومانوی عیسائ بیرو کریسی یا کلر کو کریسی ہے جو یہو دیوں کا قافیہ تنگ کرنے کے لئے ایسے قانون، قواعد، ہدایات یا پریکٹس اپنائیں کے قانونی طور مستحق لوگ سارے کام کاج چھوڑ کر زندگی بھر مجسٹریٹوں کی کلرکو کریسی کی چکی میں پستے رہیں یا اپنی حلال کی کمائ ان کے حرام کے رزق یا عیاشی کے لئے وقف کردیں- ان کے باس Boss بھلے جتنے اچھے اور سیدھی لائین پر چلنے والے ہوں اس کلرکو کریسی کی پیدا کی گئ پریشانیوں کے زمہ دار وہ سمجھے جائیں گے جو ان حقائق سے بے خبر یا بے نیاز ہیں –
بیروکریسی ہو یا ان کی شکمی کلرکو کریسی ، عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ہے – قوانین ، قواعد اور ہدایات کو پڑھنے، سمجھنے اور ان سے آسانیاں پیدا کر کے راہ نکالنے کے زمہ دار ہیں – دانستہ ، نا دانستہ یا بد دیانتی سے رکا وٹیں یا مشکلات اور پیچیدگیا پیدا کرنے کے لئے نہیں – جہاں بات سمجھ نہ آئے وہاں اپنے باس سے یا کسی اور سیانے سے پوچھنا ان کی قانونی اور اخلاقی زمہ داری ہے –
آزاد کشمیر کونسل کے قیام سے پہلے یہ سبجیکٹ آزاد کشمیر حکومت کے پاس تھا اور اس وقت تک یہ قانون سمجھنے اور زمینی حالات کا ادراک رکھنے والے لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس معاملہ کو بہت آسان بنا رکھا تھا جیسا کہ مہاجرین کشمیر کے لئے دو مہاجرین گزیٹڈ آفیسرس کا بیان حلفی کافی سمجھا جاتا تھا – کونسل کے پاس یہ سبجیکٹ جانے کے بعد کونسل کی بیرو کریزی اور کلرکو کریسی نے اس کا حلیہ بگاڑ کر لوگوں اور آزاد کشمیر کی بیروکریسی کے لئے معاملہ گنجلک بنا دیا ہے مثال کے طور پر اس قانون کے لئے کونسل کے قانون 1980 میں سٹیٹ سبجیکٹ اور ڈو میسائل کے قانون کو گڈ مڈ کر کے مبہم بنا دیا ہے – بلکہ ایکٹ کے تحت سٹیٹ سبجیکٹ کی تعریف Defination کئے بغیر اس کی منسوخی کا طریقہ کار درج کیا گیا ہے- آزاد کشمیر حکومت اور واقفان حال بیروکریسی کی زمہ داری بنتی ہے کہ اس معاملہ کو قابل فہم اور سہل قواعد بنائیں جیسے کہ ڈوگرہ کے وقت کا ابتدائ قانون 84 / I- L ہے- اب چونکہ آبادی، شناختی کارڈ ، ٹیکس فائلرز اور زندگی کے باقی شعبوں کو نادرہ ڈیٹا بیس نے اکٹھا کردیا ہے ، مناسب ہے کہ اس سسٹم کو بھی نادرا سے منسلک کر دیا جائے – متنازعہ ریاست جموں وکشمیر ہے ، ریاست کے باشندے نہیں ہیں نہ ہی ان کے حقوق اور شناخت –
تفہیم عام کے لئے یہ بات لکھنا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون کوئ شہریت کا قانون نہیں ہے بلکہ مقامی باشندگان کی تعریف میں آنے والے اصل قانون کے حامل افراد کے مقامی حقوق کے استحقاق کا قانون ہے جو ہندوستانی آئین میں دفعہ 35A کا حصہ تھا اور اب منسوخ ہو گیا ہے –
دو کیسز کا حوالہ دینے سے میرا مطلب کسی کے خلاف شکایت نہیں بلکہ معاملہ کے واضع اور سہل ہونے کے باوجود کلرکو کریسی نے کتنا مشکل بنا دیا ہے – اس مسئلے کا شکار مہاجرین کشمیر سمیت سو فیصد ریاستی باشندے ہیں ، سوائے ان کے جن کے کلرکو کریسی کے ساتھ تعلقات ہیں یا سیاست دانوں کے ساتھ تعلقات والے مہاجرین جن کے مہاجرین اسمبلی ممبر اں کی رائے حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے – مقبوضہ کشمیر میں نظام اس سے زیادہ سخت تھا جس کو دفعہ 35A کے خاتمے کے بعد مکمل ہی ختم کر دیا گیا ہے – اس پیچیدگی کے شکار لوگ نظام سے بیزار ہوجاتے ہیں جو بہ الفاظ ریاست سے بیداری ہے – اس کا چیف سیکریٹری صاحب ، بورڈ آف ریو نیو اور سیکریٹری قانون کے علاوہ متعلقہ ڈپٹی کمشنر صاحبان کو ادراک کر کے نوٹس لینا چاھئے کہ یہ قانون عوام کے لئے ہندوستانی مسلمانوں کے لئے CAA یا رومانیہ کی عیسائ حکومت کا یہودیوں کے لئے قانون شہریت نہ بن جائے –
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں