انسان ،خدا کے مقابلے میں ہے
مغرب کے مفکرین نے سولہویں صدی عیسوی کے بعد کے دور کو انسان کے دوبارہ احیا اور نشاة ثانیہ (Renaissance) کا دور کہا ہے جبکہ اس سے پہلے ان کے بقول انسان تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ آٹھویں صدی سے پندرھویں صدی عیسوی تک کا عرصہ یورپ کا دور ظلمت (Dark Ages)کہلاتا ہے۔ دنیا کی تاریخ کا یہی وہ سنہری دور ہے جو (موجودہ یورپ کے کچھ ملکوں کے علاوہ) دنیا کی اکثر آبادی میں اسلامی نظریہ حیات اور مسلم تہذیب و تمدن کی ضو فشانی لئے ہوئے تھا۔ یورپ جس وقت جہالت اور جاہلیت کی تاریکی میں گم تھا، مسلمان تہذیب و تمدن کے نئے گہوارے آباد کررہے تھے۔
یورپ کاتاریک دور دراصل جہالت کے ساتھ ساتھ اس وقت کے بادشاہی نظام اور عیسائی مذہب کی تنگ نظری کے سبب معرض وجود میں آیا۔ دنیوی زندگی میں لوگوں کی سیاسی آزادی، بادشاہ کی غلامی کے ساتھ وابستہ تھی۔ اور آخرت کی زندگی کے لئے جنت کا حصول پوپ کے سرٹیفکیٹ (Indulgences)سے وابستہ تھا۔ اسی دور کی نشانی وہ رہبانیت کا طرز عمل (Monasticism) تھا جس کے فکر و فلسفہ میں شامل تھا کہ دنیا کی زندگی اور اس کی سہولیات سے دور رہا جائے ، نفسانی خواہش ترک کرکے، اپنے آپ کو اذیتیں دے۔
تعلیمی و معاشرتی انقلاب کی جو بنیادیں اسلامی تہذیب نے اٹھائی تھیں ان کا اثر مغرب میں صدیوں تک رہا اورمسلمان حکماء کی کتابیں کئی نسلوں تک ذریعہ علم و ہنر بنی رہیں۔اسی طرح یونانی فلسفہ اور علم حیاتیات اہل مغرب میں روشنی پھیلاتارہا اور دوسری طرف تحریک اصلاح نے آزاد خیالی اورآزادی فکر و عمل کو ہوا دی۔
سائنسی شعور اور فلسفیانہ فکر نے لوگوں کو ایک نئی زندگی کے سہانے خواب دکھا دیے ۔بادشاہی، جاگیرداری،اور پاپائیت کے خلاف مزاحمت شروع ہوگئی۔۔۔مگر پاپائیت کے علمبرداروں نے فلسفہ اور سائنس کے خلاف بھی محاذ کھول دیا اور سینکڑوں سائنسدانوں کو اذیتیں دے دے کر قتل کردیا گیا۔ اس معاشرتی جنگ نے یورپ کے معاشرے میں عیسائیت کے خدا ،پوپ اور بادشاہ کے خلاف نفرت کو پھیلا دیا ، اور وہ ایک نئی دنیا کی تلاش میں چل نکلا۔
سب سے زیادہ مقبول انسان دوستی (Humanism)کا جذبہ تھا۔ جو نفرت اور انتقام کے ماحول میں محبت کا مرہم بن گیا۔ انسانی معاشروں نے اپنا ہر فیصلہ انسانی سطح پر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔اس طرح سولہویں صدی عیسوی سے یورپ کی نشاة ثانیہ یا مغرب کی نئی زندگی کا آغاز ہوگیا جسے یورپ کا مفکر پوری دنیا کی نشاة ثانیہ (Renaissance) سے تعبیر کرتا ہے۔ دنیا کے غالب حصے کی موجودہ تہذیب کا رنگ اس لیے مغربی ہے کہ نشاۃ ثانیہ کے دور سے ہی مشرق پر مغربی غلبہ کی راہ ہموار ہوئی اور نو آبادیاتی نظام کے تحت اہل مغرب نے باقی دنیا میں اپنے مذہب اور تہذیب کے مطابق ، نیو ورلڈ آرڈر ترتیب دے دیا، جو جدید دور تک جاری و ساری ہے۔
ہیومینزم کی تحریک نے جس فلسفے کو آخر کار اپنایا وہ انسانی زندگی کو انسانی سطح پر پرکھنے کا دعویٰ رکھتا تھا ۔خدا کے مقابلے میں انسان کو کائنات کا مرکز بنا دیا گیا۔انسانی اہمیت اور برتری کے تصور نے ترقی پائی تونسل پرستی (Racism)اور وطن پرستی (Nationalism) کے تعصبات کو جنم دیا۔پوپ اور بادشاہ کے جبر سے آزادی کا مفہوم ترقی کرتا ہوا وسیع المشربیت (Liberalism) کا روپ دھار گیا ۔ پاپائیت سے معمور مذہبیت کے خلاف ردعمل لا مذہبیت (Secularism) تک آپہنچا، جس کا مفہوم یہ تھا کہ مذہب انسان کا نجی معاملہ ہے، اس کا اجتماعی زندگی سے کوئی سروکار نہیں۔
انسانی تہذیب کے اس نئے سفرمیں، انسان، کائنات اور خالق کائنات کے بارے میں ایک خاص تصور نے جنم لیا جونئے سائنسی اور سماجی فلسفے کی پیداوار تھا۔اس فکرو فلسفہ کے ارتقائی سفر نے ، دنیا میں انسان کے مقام ، اسکے مقصد حیات ،کائنات اور خدائے کائنات کے ساتھ اسکے تعلق کو نئی جہتوں سے آشنا کیا۔یہ سمجھ لیا گیا کہ انسان ایک حیوان ہے جو ارتقا پذیر ہوتا ہوا انسانیت کے درجے تک پہنچا ہے ۔ اس کا سب سے قوی جبلی جذبہ ،جسمانی اورجنسی ضروریات ہیں ،جن کی تسکین اور تکمیل کی خاطر اس کی ساری سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ جب سائنس کو مذہب پر غلبہ حاصل ہوگا تو دنیا جنت ارضی بن جائے گی۔ انسان کا مقصد حیات، لذت Enjoymentکاحصول ہے ۔ یہ ہے اس نظریہ حیا ت کا مختصر خاکہ جو نشاة ثانیہ کے ثمرکے طور پر انسان کو میسر آیا ہے ۔ جدید زندگی کا تحفہ ہمیں بہت عزیز ہے۔جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نےپالے ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں