جموں و کشمیر اسمبلی الیکشن

سال2019 میں ہندوستان نے ریاست جموں و کمشیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے بعد 90 انتخابی حلقوں میں تین مرحلوں میں پہلی بار انتخاب کروائےجو 18 ستمبر کو شروع ہوئے اور یکم اکتوبر کو ختم ہوئے جبکہ ان کی گنتی اور نتائج کا اعلان 8 اکتوبر2024 کو کیا گیا۔ لداخ کو چونکہ بدوں اسمبلی مرکز کے زیر انتظام لیا گیا ہے اس لئے تاریخ میں پہلی بار یہاں انتخاب نہیں ہوئے۔ مرحلہ وار انتخابات میں 58 سے 69 فیصد ووٹرز نے بھر پورحصہ لیا اور اس وقت کی خبروں تک کسی جماعت نے انتخابی دھاندلی کا الزام نہیں لگایا۔

یہ انتخابات بین الاقوامی اور اہندوستان و پاکستان کے مواعید کے مطابق رائے شماری کا متبادل نہیں لیکن مقامی انتظام کے لیئے لوگوں کی رائے سے منتخب انتظامیہ کا عمل میں آنا ایک خوش آئند قدم ہے جس سے لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیئے ایک مضبوط سرکاری پلیٹ فارم مہیائ ہوا ہےجو کم از کم لوگوں کے مسائل اور جذبات کی عکاسی کرئے گا اور اس گھٹن کے ماحول میں ایک پیش رفت ہے۔ گو کہ مقامی انتظامیہ / حکومت کے اختیارات اس عرصہ کے دوران مرکزی پارلیمنٹ اور حکومت ریاستی اسمبلی کے قائمقام ہونے کی وجہ سے استعمال کررہی تھی اس لئے اس نے ریاستی اسمبلی اور حکومت کے پر کاٹ کر اکثر مقامی انتظامی اختیار مرکز کے تعینات کردہ لیفٹینٹ گورنر کو تفویض کیے ہیں لیکن بہ ایں ہمہ گورنر کے اختیار اور اس سے مرتب ہونے والے اثرات بھی اسمبلی میں زیر بحث آئیں گے۔ اس لیئے ایک چیک اینڈ بیلنس کا سلسلہ شروع ہو جائیگا۔ تاہم اس وقت مقامی اسمبلی اور حکومت کو ایک متوسط میٹرو پالیٹین کونسل کے برابر ہی اختیار ہیں جو اصل صوبائی درجہ بحال ہونے پر خود ترمیم کرنے کی مجاز ہو گی۔ اس سے بھی ایک نئی کشیدگی پیدا ہو گی جو 1977کا دور واپس لا سکتی ہے۔

ریاستی اسمبلی کی کل 119 نشستیں ہیں جن میں سے 14ریاست کے پاکستان کے زیر انتظام حصوں کے لیئے مختص ہیں باقی نوئے نشستوں میں کچھ آزاد امیدوار بھی ہیں اور کچھ شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب میں سے بھی ہیں۔شیڈول کاسٹ تو تقریباً سارے ہندو قوم سے لیکن رکھتے نہیں لیکن شیدول ٹرائب سارے مسلمان ہیں جو گجر، بکروال اور دیگر درجہ فہرست ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جموں صوبے کے سوائے پیر پنجال اور چناب ویلی کے نمائندوں کے جہاں حلقہ بندیوں کی متعصبانہ تشکیل بھی کی گئ تھی، نیشنل کانفرنس کے بی جے پی کی توقع کے مغائر 7 نشستیں حاصل کیں- بی جے پی نے 90 کی اسمبلی میں صرف 29 نشستیں حاصل کیں جو ادھم پور سے کٹھوعہ تک کے علاقوں سے ہیں-

چونکہ گورنر کو پانچ ممبران نامزد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، ظاہر ہے یہ سب بی جے پی کے حامی لوگ ہونگے جو حکومت سازی کے مقصد کے لیئے رکھے گیے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود بھی اکثریت نہیں بنتی – اس کے برعکس سیاسی اتحاد(INDIA)نے49نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لئے 48 چائیں۔ ان 49 نشستوں میں سے نیشنل کانفرنس کو 42،کانگرس کو 6 اور کیمونسٹ پارٹی مار کیسسٹ کو ایک نشست شامل حاصل ہیں ۔ جبکہ بی جے پی کو 29، پی ڈی پی کو تین اورباقی ایک ایک نشست بنتے ہیں۔ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی مدد کے بغیر بھی نیشنل کانفرنس اور کانگرس کو حکومت سازی کے لیئے مطلوبہ اکثریت حاصل ہے۔تاہم آزاد امیدوارعمومی طور حکومتی اتحاد کا ہی حصہ بنتے ہیں اس لئے INDIA اتحاد کا پکڑی بھاری ہے- ان انتخابات سے چند حقائق واضح ہوئے ہیں جن میں سے سرے فہرست ہندو اور مسلمان نمائندگی کی حقیقت، ریاستی جماعت اور غیر ریاستی جماعتیں کا فرق واضع طور ابھرا ہے۔

علاقائی تشخص بھی حقیقت بن کر ابھرا ہے جس میں کشمیر کی تاریخی جماعت نیشنل کانفرنس کا احیائ نو ہوئ ہے۔لوگوں نے نیشنل کانفرس کے ریاستی خصوصی مرتبہ ، اندرونی خود مختاری کو بحال اور مسئلہ کشمیر کو پاکستان کو اعتماد میں لے کر حل کرنے کے موقف کو پذیرائی بخشی ہے اور اس کے توسط سے کانگرس کو بھی چھ نشستیں ملی ہیں جو نیشنل کانفرنس کی ہم نوا ہے۔ وادی کشمیر کے لوگوں نے بی جے پی کو مکمل طور مسترد کیا ہے اور مجموعی طور جموں و کشمیر نے بی جے پی کے ہندوتوا حکومت کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے۔ ریاست کے لوگوں نے پارلیمانی الیکشن کے ٹرینڈ کے برعکس افراد یا شخصیت کو نہیں بلکہ جماعتوں کا انتخاب کیا ہے جو دانشمندانہ فیصلہ ہے -پارلیمانی الیکشن میں انجینئیر عبد الرشید نے عمر عبد اللہ سمیت سب کو مات دی تھی جس میں جماعت اسلامی کی حمایت بھی شامل تھیں

نیشنل کانفرنس ریاست کی پہلی مقامی بڑی جماعت چلی آرہی ہے جس کی قیادت شیخ محمد عبد اللہ جیسے قد آور لیڈر کے پاس رہی ہے اور اس کے بعد اس کی زیر تربیت فاروق عبد اللہ اور عمر عبد اللہ پروان چڑھے ہیں- حکومت پاکستان کو اس صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے کشمیر کے زمینی حقائق کی روشنی میں اپنی پالیسی کو ایڈ جسٹ کرنے کی ضرورت ہے-

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے